خضدار کے پہاڑوں میں امید: جھونپڑی اسکول کی کہانی
خضدار کے دور دراز پہاڑوں میں ایک چھوٹا سا جھونپڑی اسکول امید کی روشنی بن کر کھڑا ہے۔ یہ اسکول سلمیٰ نامی ایک باہمت خاتون چلا رہی ہیں جو اپنے وسائل سے بچوں کے لیے کتابیں اور کاپیاں فراہم کرتی ہیں۔ بجلی، پانی اور فرنیچر کے بغیر، یہ اسکول ثابت کرتا ہے کہ خلوص اور محنت سے تعلیم کی راہ رکھی نہیں جا سکتی۔ متعلقہ اداروں سے اپیل ہے کہ اس خواب کو مکمل کرنے میں مدد کریں۔
رپورٹ: عبدالجبار ،خضدار
کچے اور ناہموار راستوں سے گزرتے یہ ننھے قدم، کندھوں پر بستے، ہاتھوں میں کتابیں، پہاڑوں کے درمیان علم کی تلاش میں رواں ہیں۔ان بچوں کی آنکھوں میں خواب ہیں اور دلوں میں پڑھنے کا حوصلہ۔ پہاڑوں کے بیچ ایک سادہ سی جھونپڑی، جو دیکھنے میں تو معمولی ہے مگر اس کے اندر امید، علم اور مستقبل پروان چڑ رہا ہے۔یہ کوئی عام اسکول نہیں،یہ ایک خواب ہے۔ جو ایک باہمت خاتون نے اپنی محنت سے سجایا ہے۔ سلمی وہ خاتون، جو اپنے شوہر کی مزدوری اور اپنی کشیدہ کاری کی کمائی سے ان بچوں کے لیے کتابیں کاپیاں خریدتی ہے اور علم کا چراغ روشن رکھتی ہے۔ کھلے آسمان تلے، پتھریلی زمین پر بیٹھے یہ بچے سلمیٰ کی آواز میں اپنا کل سنتے ہیں۔ نہ یہاں بجلی ہے، نہ پانی، نہ تختہ، نہ فرنیچر، بس ایک پھٹا ہوا بینر جس پر لکھے ہیں چند حروفِ تہجی اور یہی ان کا وائٹ بورڈ ہے۔
یہ جھونپڑی صرف مٹی اور لکڑی کا ڈھانچہ نہیں،یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت سچی ہو تو وسائل کی کمی تعلیم کو نہیں روک سکتی۔تاہم اب ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے اس جذبے کو سہارا دیں، تاکہ یہ خواب ادھورا نہ رہ جائے۔