کیا آپ کا فون آپ کی باتیں سن رہا ہے؟ — حقیقت، کاروبار، سازشی نظریات اور تحفظ
یہ خیال کہ ٹیک کمپنیاں ہماری باتیں خفیہ طور پر ریکارڈ کرتی ہیں تاکہ ہم پر ذاتی نوعیت کے اشتہارات دکھا سکیں، ایک مقبول سازشی نظریہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسمارٹ فونز صرف مخصوص آوازیں جیسے "Hey Google" یا "Hey Siri" سننے کے لیے فعال رہتے ہیں، اور جب یہ آواز شناخت ہوتی ہے تو فون ایکٹیو ہو جاتا ہے۔ کمپنیاں ڈیٹا اینالیٹکس اور پرسنلائزیشن پر فوکس کرتی ہیں، نہ کہ ہماری باتوں کی ریکارڈنگ پر۔ تاہم، اگر کسی ایپ میں مائیک کی اجازت ہو اور وہ نقصان دہ ہو، تو وہ سن سکتی ہے۔ اپنے فون کی حفاظت کے لیے ضروری ایپس کی اجازتیں بند کریں، بیدا ضرورت فیچرز کو آف کریں اور سیکیورٹی اپڈیٹس کے ساتھ فون کو اپ ڈیٹ رکھیں۔
تحریر: ماہ رنگ بلوچ
کیا آپ کا فون آپ کی باتیں سن رہا ہے؟ — حقیقت، کاروبار، سازشی نظریات اور تحفظ
کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ جو ہم بات کرتے ہیں وہی مواد ہمیں موبائل پر نظر آنے لگتا ہے؟ اسی احساس کی وجہ سے ایک سازشی نظریہ (conspiracy theory) جنم لیتا ہے کہ شاید ٹیک کمپنیاں خفیہ طور پر ہماری گفتگو ریکارڈ کر رہی ہیں تاکہ ہماری ذاتی پسند ناپسند جان کر ہمیں مخصوص اشتہارات دکھا سکیں۔ یہ خیال جتنا ڈرامائی لگتا ہے، اتنا ہی مقبول بھی ہے
،
حقیقت یہ ہے کہ اسکرین بند ہونے کے باوجود اسمارٹ فون ایک پسِ منظر سننے (passive listening) کے موڈ میں رہ سکتا ہے، جس میں وہ ہر بات ریکارڈ نہیں کرتا بلکہ کم پاور پر صرف مخصوص الفاظ جیسے “Hey Google” یا “Hey Siri” کو پہچاننے کے لیے آواز کو پروسیس کرتا ہے۔ جیسے ہی یہ wake word شناخت ہوتا ہے، فون ایکٹیو ہو جاتا ہے اور اس کے بعد بولی گئی بات ریکارڈ ہو کر متعلقہ کمپنی کے سرورز تک جاتی ہے تاکہ کمانڈ کو سمجھا جا سکے۔کاروباری نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ٹیک کمپنیوں کا اصل فوکس آواز سننا نہیں بلکہ ڈیٹا اینالیٹکس اور پرسنلائزیشن ہوتا ہے۔ صارف کی براؤزنگ ہسٹری، سرچ کوئریز، ایپ استعمال کرنے کا طریقہ اور لوکیشن ڈیٹا کی بنیاد پر اشتہارات اور مواد کو personalize کیا جاتا ہے۔ کبھی کبھار یہ نظام اتنا درست لگتا ہے کہ صارف کو محسوس ہوتا ہے کہ فون اس کی باتیں سن رہا ہے، حالانکہ یہ زیادہ تر الگورتھمز اور predictive analytics کا نتیجہ ہوتا ہے، نہ کہ خفیہ ریکارڈنگ کا۔کمپنیاں یہ بھی دعویٰ کرتی ہیں کہ wake word سے پہلے کی آواز محفوظ نہیں کی جاتی اور ڈیٹا کو پرائیویسی قوانین کے تحت غیر شناختی (anonymize) بنایا جاتا ہے، جبکہ صارف کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سیٹنگز میں جا کر اس فیچر کو مکمل طور پر بند کر دے۔البتہ پرائیویسی کے حقیقی خطرات بھی موجود ہیں۔ اگر کوئی مشکوک ایپ، malware یا spyware مائیک کی اجازت کے ساتھ انسٹال ہو جائے تو وہ خفیہ طور پر سن سکتا ہے۔ یہ عمل غیر قانونی ہے اور زیادہ تر ایسے واقعات مخصوص حملوں یا غیر محفوظ ایپس کے ذریعے ہوتے ہیں، نہ کہ بڑی ٹیک کمپنیوں کی کسی منظم سازش کے تحت۔
ہم اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
اس صورتحال میں سب سے مؤثر دفاع باخبر ہونا اور کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھنا ہے۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ موبائل کی سیٹنگز میں جا کر غیر ضروری ایپس کی microphone permissions بند کریں، Google Assistant یا Siri جیسے wake word فیچرز کو آف کریں اگر ان کی ضرورت نہیں، صرف قابلِ اعتماد ایپس انسٹال کریں، اور فون کو باقاعدگی سے سیکیورٹی اپڈیٹس کے ساتھ اپ ٹو ڈیٹ رکھیں۔ اس کے علاوہ، ایسی ایپس سے پرہیز ضروری ہے جو ضرورت سے زیادہ اجازتیں مانگتی ہوں