اسٹیویا: صحت مند زندگی کے لیے قدرتی مٹھاس
اسٹیویا ایک قدرتی پودا ہے جو عام چینی کے مقابلے میں زیادہ میٹھا مگر تقریباً بغیر کیلوریز کے ہوتا ہے۔ یہ خصوصیت اسے ذیابیطس کے مریضوں اور وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے ایک بہتر متبادل بناتی ہے۔ اسٹیویا بلڈ شوگر کو مستحکم رکھنے، دانتوں کی صحت کو بہتر بنانے اور ممکنہ طور پر بلڈ پریشر کو معتدل رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے استعمال میں اعتدال اور خالص مصنوعات کا انتخاب ضروری ہے، اور بہتر رہنمائی کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
کینڈی پودا ہماری صحت کے لیے کیوں اہم ہے؟
تحریر : عروبہ شہزاد
قدرتی غذاؤں کی طرف بڑھتے رجحان نے دنیا بھر میں اسٹیویا کو غیر معمولی مقبولیت دی ہے۔ سائنسی طور پر Stevia rebaudiana(کینڈی لیف) کہلانے والا یہ پودا جنوبی امریکا، خصوصاً Paraguay اور Brazil میں صدیوں سے استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ اس کی پتیوں میں موجود قدرتی مرکبات اس قدر میٹھے ہوتے ہیں کہ یہ عام چینی سے تقریباً 200 سے 300 گنا زیادہ مٹھاس فراہم کرتے ہیں، مگر حیرت انگیز طور پر اس میں کیلوریز نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ یہی خصوصیت اسے جدید دور میں صحت مند متبادل کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اسٹیویا خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ خون میں گلوکوز کی سطح میں اچانک اضافہ نہیں کرتا۔ عام چینی یا مصنوعی میٹھے مشروبات کے برعکس، اسٹیویا کا استعمال بلڈ شوگر کو نسبتاً مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ متعدد طبی مطالعات میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ اسٹیویا نہ صرف شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے میں معاون ہے بلکہ بعض صورتوں میں انسولین کی حساسیت بہتر بنانے میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ ذیابیطس کے مریض اسے اپنی روزمرہ غذا میں شامل کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں تاکہ انفرادی صحت کی کیفیت کے مطابق درست رہنمائی مل سکے۔
وزن میں اضافے اور موٹاپے کے بڑھتے مسائل کے تناظر میں بھی اسٹیویا ایک مفید انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ اس میں کیلوریز نہیں ہوتیں، اس لیے یہ مٹھاس کی خواہش پوری کرتے ہوئے غیر ضروری توانائی کے حصول سے بچاتا ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیویا دانتوں کی صحت کے لیے بھی نسبتاً محفوظ ہے کیونکہ یہ بیکٹیریا کی افزائش کو فروغ نہیں دیتا، یوں دانتوں میں کیڑا لگنے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ کچھ تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اسٹیویا بلڈ پریشر کو معتدل رکھنے میں معاون ہو سکتا ہے، جو دل کی صحت کے لیے ایک مثبت پہلو ہے۔
تاہم اسٹیویا کے استعمال میں اعتدال ضروری ہے۔ مارکیٹ میں دستیاب بعض مصنوعات میں مصنوعی اجزا یا کیمیائی ملاوٹ شامل ہو سکتی ہے، اس لیے مستند اور خالص اسٹیویا کا انتخاب اہم ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اسٹیویا ایک قدرتی، کم کیلوری اور صحت دوست متبادل ہے جو خصوصاً ذیابیطس کے مریضوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اسے متوازن غذا اور طبی مشورے کے ساتھ استعمال کیا جائے۔