بلوچستان میں تعلیمی بحالی کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان میں سال 2025 کے دوران 4,000 سے زائد بند اسکول دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں جبکہ 1,200 نئے اساتذہ کی تعیناتی بھی مکمل ہو چکی ہے۔ ان اقدامات سے تعلیمی سرگرمیوں میں اضافہ، دیہی علاقوں میں تعلیم تک رسائی میں بہتری اور والدین کے اعتماد کی بحالی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق آئندہ مرحلے میں مزید اسکولوں کی بحالی اور ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ پر کام کیا جائے گا۔
بلوچستان میں تعلیمی بحالی کی جانب اہم پیش رفت
رپورٹر: عروبہ
بلوچستان میں تعلیم کے شعبے میں ایک مثبت اور امید افزا تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ سال 2025 کے دوران صوبے بھر میں 4,000 سے زائد بند اسکول دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں، جس سے تعلیمی سرگرمیوں کو نئی زندگی ملی ہے۔
ماضی میں بلوچستان میں بند اسکولوں کی تعداد تقریباً 6,000 تک پہنچ چکی تھی، جو نہ صرف تعلیمی نظام بلکہ معاشرتی ترقی کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج بن چکی تھی۔ تاہم محکمہ تعلیم بلوچستان کی جانب سے شروع کی گئی اصلاحاتی حکمتِ عملی کے نتیجے میں اب صورتحال میں بہتری دیکھنے کو مل رہی ہے۔
محکمہ تعلیم نے اب تک 1,200 نئے اساتذہ کی تعیناتی مکمل کر لی ہے، جس کے بعد کئی علاقوں میں بند کلاس رومز دوبارہ آباد ہو گئے ہیں۔ جہاں کبھی خاموشی اور ویرانی تھی، ہاں اب ایک بار پھر بچوں کی آوازیں گونج رہی ہیں۔
نئے اساتذہ کی آمد اور اسکولوں کی بحالی سے نہ صرف طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ والدین کا تعلیمی نظام پر اعتماد بھی بحال ہونا شروع ہو گیا ہے۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم تک رسائی میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔محکمہ تعلیم کے مطابق آئندہ مرحلے میں مزید بند اسکولوں کی بحالی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ پر کام کیا جائے گا تاکہ بلوچستان کے ہر بچے کو معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے۔تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو بلوچستان کا تعلیمی نظام آئندہ چند برسوں میں ایک مضبوط اور مستحکم بنیاد پر کھڑا ہو جائے گا۔