تُربت محبت، ثقافت اور خوبصورتی کی سرزمین
بلوچستان کے دل میں واقع تُربت ایک ایسا شہر ہے۔ جو اپنی قدیم تاریخ، روایات، محبت بھری داستانوں اور قدرتی حسن کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ شہر کیچ ضلع کا مرکزی مقام ہے، جو مکران ڈویژن میں واقع بلوچستان کا دوسرا بڑا اور ترقی یافتہ شہر ہے۔تُربت کا موسم زیادہ تر گرم رہتا ہے، مگر شام کے وقت ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں۔ جو شہر کی فضاؤں میں ایک خاص سکون پیدا کرتی ہیں۔تربت بلوچستان کی وہ دھرتی ہے۔ جہاں محبت، علم، تاریخ اور ثقافت ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔تربت کے بازاروں میں بلوچی کپڑوں، ہاتھ سے بنے زیورات، اور روایتی اشیاء کی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی اور سادہ زندگی اس خطے کی خوبصورتی کو اور بڑھا دیتی ہے۔ تُربت کا ذکر کیے بغیر سسی پُنّوں کی محبت کی داستان ادھوری لگتی ہے۔ یہ وہی سرزمین ہے۔ جہاں محبت کی وہ لازوال کہانی جنم لیتی ہے۔ جو آج بھی دلوں کو چھو جاتی ہے۔ بلوچ شاعری میں سسی پُنّوں کی کہانی کو خاص مقام حاصل ہے۔ پُنّوں کا نام لبوں پر آئے، سسی کے آنسو دل کو جلائے، عشق کی راہ میں جو چلے، وہ تُربت کی مٹی کو پائے۔ یہ اشعار تُربت کی اس محبت بھری فضا کو بیان کرتے ہیں۔ جو صدیوں سے یہاں کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ تُربت میں کئی تاریخی اور قدرتی مقامات موجود ہیں۔ جو سیاحوں کے لیے دلکشی رکھتے ہیں۔جب میں تربت پہنچی تو سب سے پہلے میری نظر سسی پنوں کے تاریخی قلعے پر پڑی۔ یہ قلعہ جیسے وقت کی گرد میں لپٹا ہوا ایک زندہ داستان ہو۔ مٹی سے بنا یہ بلند قلعہ آج بھی عشق اور وفا کی وہی خوشبو بکھیرتا ہے ۔جس کی مثال سسی اور پنوں کی محبت میں ملتی ہے۔ جب میں اس کی خستہ دیواروں کے قریب کھڑی تھی۔ تو محسوس ہوا جیسے ماضی اپنی سرگوشیوں میں وہی پرانی کہانیاں دہرا رہا ہو۔ یہاں آنے والے ہر شخص کے چہرے پر عقیدت اور حیرت کا امتزاج دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد میں دریائے کیچ کے کنارے جا پہنچی۔ تربت کے بیچوں بیچ بہتا یہ دریا اس علاقے کی روح معلوم ہوتا ہے۔ ٹھنڈی ہوا، بہتے پانی کی آواز اور کھجوروں کے درختوں کی قطاریں ایک پرسکون منظر پیش کر رہی تھیں۔ شام کے وقت جب سورج کی کرنیں پانی پر جھلملاتی ہیں تو ایسا لگتا ہے۔ جیسے سارا منظر کسی خواب کا حصہ ہو۔ میں نے کچھ دیر وہیں بیٹھ کر اس خاموشی میں خود کو کھو دیا۔ پھر ہم کلّاتک کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ پہاڑوں سے گھرا ہوا تھا اور قدرتی چشموں کی ٹھنڈی ہوا دل کو چھو رہی تھی۔ کلّاتک پہنچ کر ایسا لگا جیسے میں کسی دوسرے جہاں میں آ گئی ہوں ۔ جہاں سکون ہی سکون ہے۔ پہاڑوں کی خاموشی، درختوں کی سرسراہٹ اور دور سے گونجتی پرندوں کی آواز ایک دلفریب احساس پیدا کر رہی تھی۔ اگلی صبح میں نے تربت کی مشہور کھجوروں کے باغات دیکھے۔ سنہری دھوپ میں چمکتی کھجوریں، محنتی کسانوں کے ہاتھوں سے توڑی جا رہی تھیں۔ ان کھجوروں کی مٹھاس صرف ذائقے میں نہیں، بلکہ ان میں تربت کے لوگوں کی محنت اور محبت بھی شامل ہے۔ دوپہر کے وقت ہم شہید فِدّا چوک پہنچے۔ تربت کا یہ مرکزی مقام زندگی سے بھرا ہوا تھا۔ اردگرد عمارتوں کی چمک اور لوگوں کی مصروفی ایک جدید تربت کی عکاسی کر رہی تھی۔ میں نے سوچا، جیسے یہ چوک تربت کی ترقی اور قربانیوں دونوں کی علامت ہے۔ رات کے وقت یہاں کی روشنیوں نے پورے شہر کو ایک نیا رنگ دے دیا۔ شام ڈھلے ہم بلیدہ کی طرف نکلے۔ راستے میں سرسبز وادیاں اور پرانے درخت ایک تاریخی کہانی سناتے محسوس ہوئے۔ بلیدہ کے لوگ بے حد سادہ اور مہمان نواز ہیں۔ ان کی باتوں میں خلوص اور آنکھوں میں اپنائیت تھی۔ وہاں کی خاموش وادیوں میں ایک عجب سکون ہے جو دل کو چھو جاتا ہے۔ اور آخر میں، ہم مکران یونیورسٹی پہنچے۔ تربت کی یہ درسگاہ واقعی علم کی روشنی پھیلا رہی ہے۔ اس کی عمارتیں وسیع، میدان ہرے بھرے، اور ماحول پرامن ہے۔ نوجوانوں کو پڑھتے اور خوابوں کی تعبیر کے لیے محنت کرتے دیکھ کر ایک امید جاگی کہ تربت کا مستقبل روشن ہے۔ یہ سفر میرے لیے صرف مقامات دیکھنے کا نہیں بلکہ تربت کی روح کو محسوس کرنے کا تھا ، عشق، فطرت، محنت اور علم کی ایک حسین کہانی۔ تربت صرف ایک شہر نہیں بلکہ محبت، تاریخ، علم اور خوبصورتی کا حسین امتزاج ہے۔یہ وہ دھرتی ہے ،جہاں سسی پنوں کی محبت کی خوشبو، دریائے کیچ کی ٹھنڈی لہریں،بلیدہ کی وادیاں، کلّاتک کے پہاڑ اور مکران یونیورسٹی کی روشنی مل کر تربت کو ایک انوکھا، خوبصورت اور یادگار شہر بناتی ہیں۔ تربت اپنی ثقافت، تعلیم، قدرتی حسن اور تاریخی ورثے کے باعث بلوچستان کا فخر اور پاکستان کی شان ہے۔ یہ شہر آج بھی اپنی مٹی میں محبت، علم اور وفا کے چراغ روشن کیے ہوئے ہے۔تربت کےلفظی معنی قبر کے ہیں،لیکن یہ شہر اس کے برعکس ہے۔
تُربت محبت، ثقافت اور خوبصورتی کی سرزمین
بلوچستان کے دل میں واقع تُربت ایک ایسا شہر ہے۔ جو اپنی قدیم تاریخ، روایات، محبت بھری داستانوں اور قدرتی حسن کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ شہر کیچ ضلع کا مرکزی مقام ہے، جو مکران ڈویژن میں واقع بلوچستان کا دوسرا بڑا اور ترقی یافتہ شہر ہے۔تُربت کا موسم زیادہ تر گرم رہتا ہے، مگر شام کے وقت ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں۔ جو شہر کی فضاؤں میں ایک خاص سکون پیدا کرتی ہیں۔تربت بلوچستان کی وہ دھرتی ہے۔ جہاں محبت، علم، تاریخ اور ثقافت ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔تربت کے بازاروں میں بلوچی کپڑوں، ہاتھ سے بنے زیورات، اور روایتی اشیاء کی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی اور سادہ زندگی اس خطے کی خوبصورتی کو اور بڑھا دیتی ہے۔
تُربت کا ذکر کیے بغیر سسی پُنّوں کی محبت کی داستان ادھوری لگتی ہے۔ یہ وہی سرزمین ہے۔ جہاں محبت کی وہ لازوال کہانی جنم لیتی ہے۔ جو آج بھی دلوں کو چھو جاتی ہے۔ بلوچ شاعری میں سسی پُنّوں کی کہانی کو خاص مقام حاصل ہے۔
پُنّوں کا نام لبوں پر آئے،
سسی کے آنسو دل کو جلائے،
عشق کی راہ میں جو چلے،
وہ تُربت کی مٹی کو پائے۔
یہ اشعار تُربت کی اس محبت بھری فضا کو بیان کرتے ہیں۔ جو صدیوں سے یہاں کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
تُربت میں کئی تاریخی اور قدرتی مقامات موجود ہیں۔ جو سیاحوں کے لیے دلکشی رکھتے ہیں۔جب میں تربت پہنچی تو سب سے پہلے میری نظر سسی پنوں کے تاریخی قلعے پر پڑی۔ یہ قلعہ جیسے وقت کی گرد میں لپٹا ہوا ایک زندہ داستان ہو۔ مٹی سے بنا یہ بلند قلعہ آج بھی عشق اور وفا کی وہی خوشبو بکھیرتا ہے ۔جس کی مثال سسی اور پنوں کی محبت میں ملتی ہے۔ جب میں اس کی خستہ دیواروں کے قریب کھڑی تھی۔ تو محسوس ہوا جیسے ماضی اپنی سرگوشیوں میں وہی پرانی کہانیاں دہرا رہا ہو۔ یہاں آنے والے ہر شخص کے چہرے پر عقیدت اور حیرت کا امتزاج دیکھا جا سکتا ہے۔
اس کے بعد میں دریائے کیچ کے کنارے جا پہنچی۔ تربت کے بیچوں بیچ بہتا یہ دریا اس علاقے کی روح معلوم ہوتا ہے۔ ٹھنڈی ہوا، بہتے پانی کی آواز اور کھجوروں کے درختوں کی قطاریں ایک پرسکون منظر پیش کر رہی تھیں۔ شام کے وقت جب سورج کی کرنیں پانی پر جھلملاتی ہیں تو ایسا لگتا ہے۔ جیسے سارا منظر کسی خواب کا حصہ ہو۔ میں نے کچھ دیر وہیں بیٹھ کر اس خاموشی میں خود کو کھو دیا۔
پھر ہم کلّاتک کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ پہاڑوں سے گھرا ہوا تھا اور قدرتی چشموں کی ٹھنڈی ہوا دل کو چھو رہی تھی۔ کلّاتک پہنچ کر ایسا لگا جیسے میں کسی دوسرے جہاں میں آ گئی ہوں ۔ جہاں سکون ہی سکون ہے۔ پہاڑوں کی خاموشی، درختوں کی سرسراہٹ اور دور سے گونجتی پرندوں کی آواز ایک دلفریب احساس پیدا کر رہی تھی۔
اگلی صبح میں نے تربت کی مشہور کھجوروں کے باغات دیکھے۔ سنہری دھوپ میں چمکتی کھجوریں، محنتی کسانوں کے ہاتھوں سے توڑی جا رہی تھیں۔ ان کھجوروں کی مٹھاس صرف ذائقے میں نہیں، بلکہ ان میں تربت کے لوگوں کی محنت اور محبت بھی شامل ہے۔
دوپہر کے وقت ہم شہید فِدّا چوک پہنچے۔ تربت کا یہ مرکزی مقام زندگی سے بھرا ہوا تھا۔ اردگرد عمارتوں کی چمک اور لوگوں کی مصروفی ایک جدید تربت کی عکاسی کر رہی تھی۔ میں نے سوچا، جیسے یہ چوک تربت کی ترقی اور قربانیوں دونوں کی علامت ہے۔ رات کے وقت یہاں کی روشنیوں نے پورے شہر کو ایک نیا رنگ دے دیا۔
شام ڈھلے ہم بلیدہ کی طرف نکلے۔ راستے میں سرسبز وادیاں اور پرانے درخت ایک تاریخی کہانی سناتے محسوس ہوئے۔ بلیدہ کے لوگ بے حد سادہ اور مہمان نواز ہیں۔ ان کی باتوں میں خلوص اور آنکھوں میں اپنائیت تھی۔ وہاں کی خاموش وادیوں میں ایک عجب سکون ہے جو دل کو چھو جاتا ہے۔
اور آخر میں، ہم مکران یونیورسٹی پہنچے۔ تربت کی یہ درسگاہ واقعی علم کی روشنی پھیلا رہی ہے۔ اس کی عمارتیں وسیع، میدان ہرے بھرے، اور ماحول پرامن ہے۔ نوجوانوں کو پڑھتے اور خوابوں کی تعبیر کے لیے محنت کرتے دیکھ کر ایک امید جاگی کہ تربت کا مستقبل روشن ہے۔
یہ سفر میرے لیے صرف مقامات دیکھنے کا نہیں بلکہ تربت کی روح کو محسوس کرنے کا تھا ، عشق، فطرت، محنت اور علم کی ایک حسین کہانی۔
تربت صرف ایک شہر نہیں بلکہ محبت، تاریخ، علم اور خوبصورتی کا حسین امتزاج ہے۔یہ وہ دھرتی ہے ،جہاں سسی پنوں کی محبت کی خوشبو، دریائے کیچ کی ٹھنڈی لہریں،بلیدہ کی وادیاں، کلّاتک کے پہاڑ اور مکران یونیورسٹی کی روشنی مل کر تربت کو ایک انوکھا، خوبصورت اور یادگار شہر بناتی ہیں۔ تربت اپنی ثقافت، تعلیم، قدرتی حسن اور تاریخی ورثے کے باعث بلوچستان کا فخر اور پاکستان کی شان ہے۔ یہ شہر آج بھی اپنی مٹی میں محبت، علم اور وفا کے چراغ روشن کیے ہوئے ہے۔تربت کےلفظی معنی قبر کے ہیں،لیکن یہ شہر اس کے برعکس ہے۔
