کتاب بہترین دوست کیوں؟ کیا مطالعہ کی عادت بچوں کی شخصیت کو نکھار رہی ہے؟
تعلیمی و تحقیقی رپورٹس کے مطابق مطالعہ بچوں اور نوجوانوں کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کتابیں نہ صرف علم میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہیں۔ باقاعدہ مطالعہ ذہنی دباؤ کم کرتا، تخلیقی صلاحیت بڑھاتا اور خود اعتمادی کو مضبوط بناتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل اسکرینز کے بڑھتے استعمال سے مطالعہ کی عادت متاثر ہو رہی ہے، اس لیے والدین کو چاہیے کہ بچوں میں کتاب دوستی کو فروغ دیں تاکہ ان کا مستقبل روشن اور سوچ مثبت ہو۔
کتاب بہترین دوست کیوں؟کیا مطالعہ کی عادت بچوں کی شخصیت بدل رہی ہے
تحریر : عروبہ شہزاد
مشہور کہاوت ہے کہ "کتاب انسان کی بہترین دوست ہوتی ہے"، تعلیمی تحقیقی رپورٹس نے اس کہاوت کو ایک بار پھر درست ثابت کر دیا ہے۔ ماہرینِ تعلیم کے مطابق باقاعدہ مطالعہ نہ صرف علم میں اضافہ کرتا ہے بلکہ بچوں اور نوجوانوں کی شخصیت سازی میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق کتابیں دنیا کو سمجھنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔ مطالعہ بچوں کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ کرتا ہے، ان کی تخلیقی صلاحیت، تصوراتی قوت اور خود اعتمادی کو مضبوط بناتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کتابیں پڑھنے والے بچوں میں سوچنے، سمجھنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت نمایاں طور پر بہتر ہوتی ہے۔
مطالعہ صرف نصابی علم تک محدود نہیں بلکہ بچوں کی شخصیت کو نکھارنے میں مدد دیتا ہے۔ باقاعدہ مطالعہ بچوں میں ذہنی دباؤ کم کرتا ہے، توجہ کی صلاحیت بڑھاتا ہے اور سیکھنے کے عمل کو آسان بناتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر فرد کی پسند مختلف ہوتی ہے، کوئی ناول، افسانے، ڈرامہ، شاعری،سفرنامے ، سٹوری یا تاریخی کتابیں پسند کرتا ہے، لیکن ہر قسم کی کتاب ذہنی تربیت میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔دوسری جانب ماہرین نے ڈیجیٹل دور کے منفی پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ تحقیق کے مطابق آج کے دور میں زیادہ تر بچے موبائل فون اور اسکرین کے استعمال کو کتابوں پر ترجیح دے رہے ہیں، جس کے باعث مطالعہ کی عادت متاثر ہو رہی ہے۔ تعلیمی ماہرین والدین کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ بچوں میں کتاب سے دوستی کو فروغ دیں تاکہ ان کی سوچ مثبت، ذہن مضبوط اور مستقبل روشن بنایا جا سکے۔