نوجوان، تعلیم اور بے روزگاری کا المیہ
یہ تحریر پاکستان میں نوجوانوں کو درپیش تعلیمی بحران اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے سنگین مسئلے کو اجاگر کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ تعلیمی نظام جدید تقاضوں، عملی مہارتوں اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ نہیں، جس کے باعث تعلیم یافتہ نوجوان روزگار حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ غربت، سماجی و ثقافتی رکاوٹیں، صنفی عدم مساوات اور ناقص تعلیمی معیار تعلیم سے دوری کی بڑی وجوہات ہیں۔ تحریر اس امر پر زور دیتی ہے کہ نصاب کی اصلاح، اساتذہ کی تربیت، فنی و ڈیجیٹل تعلیم، اور لڑکے لڑکیوں کو مساوی تعلیمی مواقع فراہم کر کے ہی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بیدار کیا جا سکتا ہے، تاکہ وہ نہ صرف خود بااختیار ہوں بلکہ ملک کی ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
"نوجوان، تعلیم اور بے روزگاری کا المیہ"
تحریر: مجیب الرحمن
آج کے اس دور میں جہاں والدین اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا اہم سمجھتے ہیں، وہیں انہیں ایک اچھا، بااخلاق اور کامیاب انسان بنانے کی تلقین بھی کرتے ہیں، تاکہ وہ خودمختاری کے ساتھ اپنی کامیابی کا ثبوت دے سکیں, کیونکہ آج کے بدلتے دور میں جہاں ہر انسان خود کو بااختیار دیکھنا چاہتا ہے، وہیں نوجوانوں کو یہ بھی سکھایا جانا ضروری ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کے اس دور میں وہ اپنے ہنر کو دنیا کے سامنے لائیں۔
اسی تناظر میں اگر ہم اپنے پیارے ملک پاکستان کی بات کریں تو یہاں نوجوانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور وہ تعلیم کے میدان میں سرگرم بھی نظر آتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں اس تلخ حقیقت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی قابلیت اور ڈگری کے مطابق نوکری حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس پریشانی کے عالم میں نوجوان نہ صرف مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں بلکہ اپنے ہنر اور صلاحیتیں کھو بیٹھتے ہیں۔
آج بھی ہمارے تعلیمی اداروں میں پرانا نظام رائج ہے، جہاں بچوں کو صرف ا 'ب' پ' تک محدود رکھا جاتا ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک کے اسکولوں میں بچوں کو خودمختاری، تخلیقی سوچ اور جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ پاکستان میں اس نظامِ تعلیم سے تعلیم حاصل کرنا ایسا ہے جیسے کسی خشک اور بوسیدہ درخت سے سایہ تلاش کرنا، کیونکہ جو درخت سوکھ چکے ہوں وہ سایہ نہیں دے سکتے۔ بالکل اسی طرح ہمارے نوجوانوں کو تعلیم دلائی جا رہی ہے، مگر انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کیا جا رہا۔
اگر پاکستان کے تعلیمی نظام کا موازنہ ہمسایہ ممالک سے کیا جائے تو فرق مزید واضح ہو جاتا ہے۔ بھارت میں اسکول داخلوں کی شرح 62.75 فیصد جبکہ پاکستان میں یہ صرف 40.75 فیصد ہے۔ بنگلہ دیش میں یہ شرح 82.94 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جب کہ پاکستان عالمی تعلیمی درجہ بندی میں 75 نمبر پر ہے۔ یہ اعداد و شمار محض نمبرز نہیں، بلکہ ایک پورے تعلیمی نظام کی ناکامی کی داستان ہیں۔
آنیں جانتے ہیں کہ ہمارے ہمسائے ممالک کا تعلیمی نظام پاکستان کے تعلیمی نظام سے کیوں مختلف ہے۔
سالانہ اسکولوں تعلیم کا داخلہ اور بچوں کا تعلیم کی طرف رجحان
انڈیا : %62.75 درجہ: 14 پاکستان :%40.75 درجہ: 19
بنگلادیش : %82.94 درجہ:5 پاکستان :%43.48 درجہ : 19
سالانہ اسکولوں سے تعلیم چھوڑ دینے بچوں کی تعداد
انڈیا :%1.14
پاکستان: %29.98
درجہ : 85 درجہ : 13
بنگلادیش : %4.11 پاکستان : 44.28
درجہ : 58 درجہ : 25
تعلیم سےدوری کی اصل وجہ
غربت اور معاشی مسائل
اکژ خاندان اسکول کی فیس، یونیفارم، کتابیں اور دیگر تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ بچوں کو اکثر اپنے خاندان کی کفالت کے لیے چائلڈ لیبر پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے لیے باقاعدہ اسکول جانا ممکن نہیں رہتا۔
سماجی و ثقافتی روایات اور صنفی عدم مساوات
گہری جڑیں رکھنے والی سماجی روایات اکثر لڑکوں کی تعلیم کو لڑکیوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ والدین کو مجبور کیا جاتا ہے کہ لڑکیاں گھریلوں کاموں کے لیے ہیں اور کم عمری کی شادی پر توجہ دیں،اسی وجہ سےوالدین اپنی بیٹیوں کو دور دراز اسکولوں میں بھیجنے سے ہچکچاتے ہیں۔
تعلیم کا کم معیار
تعلیم کا معیار ایک بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ نصاب پرانا ہے جو رٹّا سسٹم کو فروغ دیتا ہے، اہل اور پرجوش اساتذہ کی کمی ہے، اور اساتذہ کی مناسب تربیت کے پروگرام موجود نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ جب بچے اسکول جاتے بھی ہیں تو ناقص تعلیمی معیار دلچسپی کی کمی اور زیادہ شرحِ ترکِ تعلیم کا باعث بنتا ہے۔
دنیا میں چند ممالک کے تعلیمی نظام
دنیا کے کئی ممالک نے تعلیم کو محض کتابوں تک محدود نہیں رکھا۔ جاپان میں تعلیمی نظام اخلاقیات، نظم و ضبط، سماجی ذمہ داری اور جدید ٹیکنالوجی پر یکساں زور دیتا ہے۔ وہاں بچے ٹیم ورک اور عملی زندگی کی مہارتیں سیکھتے ہیں۔
امریکہ میں تعلیم کے ساتھ بچوں کی صحت، جذباتی نشوونما اور ٹیکنالوجی کی مہارت کو بھی بنیادی اہمیت دی جاتی ہے، تاکہ وہ مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔
پاکستان میں بہتر تعلیمی نظام کے لیے بہترین حل ایک حکمتِ عملی
اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان کے نظامِ تعلیم میں بنیادی تبدیلیاں کی جائیں۔ نوجوان تعلیم تو حاصل کر لیتا ہے، لیکن اس تعلیم کو عملی طور پر استعمال کرنا اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنی پہچان اور صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ ضروری ہے کہ ابتدائ تعلیمی سطح سے بچوں کو خودمختاری، عملی مہارتیں اور جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرایا جائے۔ پاکستان کے نوجوانوں کو اعلیٰ اور جدید تعلیم دینا اور انہیں ہنر مند بنانا پاکستان کی شناخت کو مضبوط کر سکتا ہے۔ اس سے نوجوان نہ صرف اپنے ہنر کا لوہا منوا سکتے ہیں بلکہ ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نصاب کو موجودہ دور کی ضروریات کے مطابق ازسرِنو ترتیب دینا، اساتذہ کی تربیت اور معیار پر بھرپور سرمایہ کاری کرنا، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دینا، تعلیمی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا، فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو عام کرنا، مساوات اور شمولیت کو یقینی بنانا (خصوصاً لڑکیوں اور خصوصی افراد کے لیے)، اور حکومتی نظام میں بدعنوانی جیسے مسائل سے نمٹنا تاکہ فنڈز کا مؤثر استعمال اور درست عملدرآمد ممکن ہو۔ ان مصائل کے حل کا مقصد رٹّے پر مبنی تعلیم سے نکل کر تنقیدی سوچ کو فروغ دینا، تعلیم کو روزگار کی منڈی کی ضروریات سے جوڑنا، اور سرکاری و نجی شعبوں میں یکساں اور معیاری تعلیمی نظام قائم کرنا ہے۔ کیونکہ یکساں تعلیم نوجوان لڑکے لڑکیوں کی سوچ کو بدلے گی ۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
ر آتی ہے اس کنو اپنی منزل آسمانوں میں
سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنے نوجوانوں کی اس عقابی روح کو بیدار کرنے کے لیے تیار ہیں؟ اگر نہیں، تو بے روزگاری کا یہ المیہ آنے والی نسلوں کا مقدر بنتا رہے گا۔ ہمیں اپنے ملک کے تعلیمی ںظام کو تبدیل کرنےکی ضرورت ہے۔ ہمیں چائے کہ اپنے اسکولوں میں تعلیم کےساتھ اجتماعی شعور، ثقافتی تعلیم ، بہتر صحت کے نشونماہ،ٹیکنالوجی ، ارٹیفشل انٹیلیجنس، کی تعلیم پر قردار ادا کریں۔ اور لڑکے لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں برابر کے حقوق دیں ، تاکہ دونوں ٹیم ورک کر سکیں اور متوازن اور باکردار رہ سکے۔