اے این ایف ڈیٹ گوادر کی پہلی سمندری انٹیلی جنس کارروائی، 300 کلوگرام چرس برآمد
اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) ڈیٹ گوادر نے تاریخ میں پہلی بار سمندر میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے مکران کوسٹل لائن کے قریب گہرے سمندر سے 300 کلوگرام اعلیٰ معیار کی چرس برآمد کر لی۔ کارروائی کے دوران منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک کے دو اہم کارندوں کو گرفتار کر لیا گیا، جو بین الاقوامی سطح پر منشیات اسمگلنگ میں ملوث تھے۔
رپورٹ: سیدہ نتاشا
انسدادِ منشیات کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر، اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) ڈیٹ گوادر نے پہلی بار سمندری حدود میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) انجام دیا، جس کے دوران مکران کوسٹل لائن کے قریب پڈی زر، گوادر کے گہرے سمندر میں منشیات سے بھری ایک تیز رفتار کشتی کو روک لیا گیا۔
اے این ایف ذرائع کے مطابق، مسلسل اور مؤثر انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ایک منظم منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک کا سراغ لگایا گیا، جس کی قیادت داؤد مجید گورگیج اور غنی داشتی کر رہے تھے، دونوں کا تعلق گوادر سے ہے۔ کارروائی کے دوران اے این ایف ٹیم نے کامیابی سے تیز رفتار کشتی کو تحویل میں لے کر نیٹ ورک کے دو اہم کارندوں کو گرفتار کر لیا۔
کارروائی کے نتیجے میں ملزمان کے قبضے سے 300 کلوگرام اعلیٰ معیار کی چرس برآمد کی گئی، جو بیرونِ ملک اسمگل کیے جانے کے لیے تیار کی گئی تھی۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ نیٹ ورک پاکستان کے مغربی مکران ساحلی علاقوں سے یمن، خلیجی ریاستوں اور افریقی ممالک تک سمندری راستوں کے ذریعے منشیات اسمگل کرنے میں ملوث رہا ہے۔
گرفتار ملزمان، برآمد شدہ منشیات اور ضبط شدہ تیز رفتار کشتی کو مزید قانونی کارروائی کے لیے اے این ایف پولیس اسٹیشن گوادر منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں تفتیش کا عمل جاری ہے۔
اے این ایف حکام کا کہنا ہے کہ جغرافیائی حیثیت کے باعث پاکستان کو بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ نیٹ ورکس کی جانب سے بطور ٹرانزٹ استعمال کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، خصوصاً سمندری راستوں اور ساحلی پٹیوں کے ذریعے۔ اسمگلرز ان راستوں کا ناجائز فائدہ اٹھا کر نہ صرف منشیات کی ترسیل کو فروغ دیتے ہیں بلکہ پاکستان کی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
محدود وسائل کے باوجود، اے این ایف بطور فرنٹ لائن فورس مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورک، مؤثر سمندری نگرانی اور پیشہ ورانہ آپریشنل حکمتِ عملی کے ذریعے منشیات اسمگلنگ کے خلاف سرگرمِ عمل ہے اور قومی و بین الاقوامی سطح پر منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پُرعزم ہے۔