گوادر کا اعلیٰ سطحی وفد چین کےسرکاری دورے پر، بندرگاہ اور شہری ترقیاتی ماڈلز کا جائزہ
گوادر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد سرکاری دورے پر چین کے شہر ژوہائی پہنچا جہاں گولان پورٹ کا دورہ کیا گیا۔ وفد کو پورٹ کے جدید نظام، سہولیات اور اقتصادی کردار پر بریفنگ دی گئی۔ ٹیم لیڈر ظریف بلوچ نے کہا کہ دورے کا مقصد گوادر پورٹ کی بہتری کے لیے چینی ماڈلز کا مطالعہ کرنا ہے۔ وفد بیجنگ نارمل یونیورسٹی اور چینی دفترِ خارجہ میں ملاقاتوں کے بعد آج شینزن کے صنعتی ماڈلز کا بھی جائزہ لے گا۔
رپورٹ: سیدہ نتاشا
گوادر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد سرکاری دورے پر چین کے شہر ژوہائی پہنچ گیا، جہاں وفد نے گولان پورٹ کا جامع اور تفصیلی دورہ کیا۔ گولان پورٹ کی انتظامیہ نے پاکستانی وفد کا پرتپاک استقبال کیا اور پورٹ کے ڈائریکٹر چیف بیور نے وفد کو پورٹ کے جدید آپریشنل سسٹم، کارگو ہینڈلنگ کے طریقہ کار، تکنیکی سہولیات اور پورٹ کے خطے کی معاشی ترقی میں کردار سے متعلق بریفنگ دی۔
اس موقع پر گوادر پورٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر اسٹیٹ عمران اشرف نے بھی اپنے شعبے سے متعلق اہم نکات پیش کیے اور دونوں بندرگاہوں کے درمیان تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات کی۔
وفد کے ٹیم لیڈر ظریف بلوچ نے گولان پورٹ انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے کا مقصد گوادر پورٹ کی بہتری کے لیے چین کے کامیاب ماڈلز کا جائزہ لینا اور ان سے سیکھ کر پاکستان کے ساحلی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا ہے۔
سرکاری دورے کے ابتدائی مرحلے میں وفد نے بیجنگ نارمل یونیورسٹی کا بھی دورہ کیا، جہاں تعلیمی تعاون کے امکانات پر بات چیت ہوئی۔ بعدازاں چینی دفترِ خارجہ میں دونوں ملکوں کے درمیان ‘سسٹر سٹی’ تعلقات سے متعلق اہم گفتگو کی گئی۔
وفد آج چین کے صنعتی شہر شینزن کا بھی دورہ کرے گا، جہاں شہری ترقی، ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کے جدید ماڈلز کا مشاہدہ کیا جائے گا۔ وفد میں مختلف سرکاری محکموں، تعلیم، صحت اور صحافت سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات شامل ہیں۔