کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات وفاقی آئینی عدالت کے حکم پر ملتوی
وفاقی آئینی عدالت نے جمیعت علماء اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کی درخواست پر کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ عدالت نے مزید قانونی جانچ اور سماعت مکمل ہونے تک انتخابات مؤخر رکھنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ سیاسی و قانونی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ: سیدہ نتاشا
وفاقی آئینی عدالت نے کوئٹہ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ جمیعت علماء اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کی جانب سے دائر
درخواست پر سماعت کے بعد سنایا گیا۔ عدالت کے مطابق معاملے کی مزید قانونی جانچ اور سماعت مکمل ہونے تک بلدیاتی انتخابات مؤخر رہیں گے، جبکہ متعلقہ حکام کو عدالتی احکامات پر فوری عمل درآمد کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔
بلدیاتی انتخابات کی معطلی پر وکلاء اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ ایڈووکیٹ راحب بلیدی نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے بلدیاتی انتخابات ملتوی کیے گئے ہیں اور اس حوالے سے کیس کی مزید سماعت 21 جنوری کو ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات عوام کا آئینی حق ہیں اور ان کا ملتوی ہونا آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
نیشنل پارٹی کے رہنما اسلم بلوچ نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات ملتوی کروانے کی حکومتی درخواست سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سردی اور امن و امان کو جواز بنا کر انتخابات مؤخر کرنا عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے، تاہم نیشنل پارٹی ہر صورت بلدیاتی انتخابات کروا کر رہے گی۔
پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے صوبائی صدر داود شاہ کاکڑ نے کہا کہ حکومت بلدیاتی انتخابات سے راہِ فرار اختیار کر رہی ہے، کیونکہ اگر انتخابات ہوتے تو حکمرانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا۔
دوسری جانب سابق ڈپٹی میئر کوئٹہ یونس بلوچ نے انتخابات کے التوا کو انتظامی خامیوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں تمام وارڈز میں ووٹرز کا اندراج درست نہیں تھا اور الیکشن کمیشن کی تیاریاں بھی مکمل نہیں تھیں۔ ان کے مطابق اگر انتخابات کروا دیے جاتے تو متعدد پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی تھیں، تاہم اب الیکشن کمیشن کو اپنی غلطیاں درست کرنے کا موقع مل گیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بلدیاتی انتخابات کی معطلی سے کوئٹہ کی مقامی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے، جبکہ آئندہ سماعت میں عدالت کا فیصلہ اس معاملے کی سمت کا تعین کرے گا۔