میڈیا ایکسپوژر وزٹ کے ذریعے پاکستان کے آبی بحران اور موسمیاتی حل پر روشنی

میڈیا ایکسپوژر وزٹ کے ذریعے پاکستان کے آبی بحران اور موسمیاتی حل پر روشنی

پاکستان کو پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی اور زرعی دباؤ جیسے سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔ ان مسائل پر شواہد پر مبنی صحافت کے فروغ کے لیے بلوچستان اور سندھ کے ماحولیاتی صحافیوں کے لیے WRAP پروگرام کے تحت میڈیا ایکسپوژر وزٹ کا انعقاد کیا گیا۔ دورے کے دوران صحافیوں کو جدید آبپاشی ٹیکنالوجیز، زیرِ زمین پانی کے استعمال، اور توانائی کے بغیر چلنے والے ہائیڈرولک ریم پمپ جیسے حلوں کا مشاہدہ کرایا گیا، جو پانی کے مؤثر استعمال، کسانوں کی آمدن میں اضافے اور پالیسی سازی کے لیے مستند ڈیٹا کی فراہمی میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

رپورٹ: سیدہ نتاشا

پاکستان کو بڑھتی ہوئی پانی کی قلت، موسمیاتی تغیرات اور زرعی نظام پر بڑھتے دباؤ جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم پانی کی بحرانی ، انفراسٹرکچر اور موسمیاتی خطرات سے متعلق حقائق عام عوام تک مکمل طور پر نہیں پہنچ پاتے۔ ان مسائل پر مؤثر اور شواہد پر مبنی صحافت کے فروغ کے لیے میڈیا ایکسپوژر وزٹ کا انعقاد کیا گیا۔
بلوچستان اور سندھ سے تعلق رکھنے والے ماحولیاتی صحافیوں کے لیے یہ دورہ واٹر ریسورس اکاؤنٹیبلٹی ان پاکستان (WRAP) پروگرام کے تحت، انوائرمنٹل جرنلسٹس کوارٹرلی میٹنگ (EJQM) کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد صحافیوں کو پاکستان میں پانی اور زراعت سے متعلق زمینی حقائق، جاری منصوبوں اور جدید حلوں سے براہِ راست آگاہ کرنا تھا۔


میڈیا بریفنگ کے دوران ڈاکٹر محمد اشرف، کنٹری ریپریزنٹیٹو (پاکستان)، انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ (IWMI) نے پاکستان کے آبی وسائل اور درپیش شعبہ جاتی چیلنجز پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان دنیا کے سب سے بڑے مسلسل آبپاشی نظام کا حامل ہے، جس میں تین بڑے آبی ذخائر، 45 بڑی نہریں اور تقریباً 1 کروڑ 70 لاکھ ہیکٹر پر محیط کمانڈ ایریا شامل ہے۔
ڈاکٹر محمد اشرف کے مطابق زیرِ زمین پانی پاکستان میں گھریلو ضروریات کا تقریباً 90 فیصد، صنعتی ضروریات کا 100 فیصد اور زرعی تقاضوں کا قریب 60 فیصد پورا کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں سالانہ بارش کی مقدار 200 سے 1000 ملی میٹر تک مختلف ہے، جبکہ تقریباً 40 فیصد زیرِ کاشت رقبہ بارانی زراعت پر انحصار کرتا ہے۔
انہوں نے آبی شعبے کو درپیش بڑے مسائل میں بڑھتی ہوئی پانی کی قلت، بار بار آنے والے سیلاب، ناکافی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور آبی ذخائر میں سالانہ تقریباً 0.2 ملین ایکڑ فٹ تلچھٹ جمع ہونے کا ذکر کیا۔ اس کے علاوہ زیرِ زمین پانی کی کمی، نکاسی آب کے تقریباً 10 ملین ایکڑ فٹ فضلے کا اخراج اور گندے پانی کے استعمال و نکاسی کے مسائل بھی نمایاں چیلنجز قرار دیے گئے۔
میڈیا ایکسپوژر وزٹ کے دوران صحافیوں نے چکوال اور مانسہرہ میں منصوبہ جاتی مقامات کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کسانوں کو مٹی میں نمی ناپنے والے سینسرز کے ذریعے باخبر آبپاشی فیصلے کرتے ہوئے دیکھا۔ ان اقدامات سے پانی کے ضیاع میں کمی، توانائی کے اخراجات میں کمی اور فصلوں کی پیداوار و آمدن میں اضافہ ممکن ہوا ہے۔
مانسہرہ میں صحافیوں نے ہائیڈرولک ریم پمپ سسٹم کا بھی مشاہدہ کیا، جو بغیر کسی بیرونی توانائی کے قدرتی دباؤ سے پانی کو بلندی تک پہنچاتا ہے۔ اس نظام سے مویشیوں کے لیے پانی کی دستیابی بہتر ہوئی، خواتین اور بچیوں پر پانی لانے کا بوجھ کم ہوا اور چھوٹے گھریلو کچن گارڈنز کو فروغ ملا۔
ڈاکٹر محمد اشرف نے کہا کہ WRAP پروگرام کے تحت جدید فیلڈ لیول ٹیکنالوجیز متعارف کرائی جا رہی ہیں جو نہ صرف کسانوں کی مدد کر رہی ہیں بلکہ پالیسی سازی کے لیے مستند ڈیٹا بھی فراہم کر رہی ہیں۔ ایڈی کوواریئنس فلکس ٹاورز اور جدید مانیٹرنگ سسٹمز کے ذریعے پانی، کاربن اور توانائی کے بہاؤ کی درست پیمائش ممکن ہو رہی ہے۔
میڈیا ایکسپوژر وزٹ کے کامیاب انعقاد سے ترقیاتی اداروں اور میڈیا کے مابین تعاون کی اہمیت اجاگر ہوئی ہے، جس کا مقصد پاکستان کے آبی مسائل اور ان کے حل کو عوام اور پالیسی سازوں تک شفاف، مستند اور موثر انداز میں پحنچانا ہے۔


Related News

CM Balochistan’s Special Message on Maarka-e-Haq Day
CM Balochistan’s Special Message on Maarka-e-Haq Day
CM Balochistan Visits Baker Area of Dera Bugti, Reviews Development Projects
CM Balochistan Visits Baker Area of Dera Bugti, Reviews Development Projects
Balochistan Accelerates Strategic Development Projects for Public Welfare
Balochistan Accelerates Strategic Development Projects for Public Welfare
Quetta Moves Towards Green Transport with Electric Bus Transition
Quetta Moves Towards Green Transport with Electric Bus Transition
Balochistan Government Decides to Fully Activate Pasni Fish Harbour
Balochistan Government Decides to Fully Activate Pasni Fish Harbour
High-Level Meeting Chaired by Provincial Election Commissioner on PB-36 Kalat Re-Polling
High-Level Meeting Chaired by Provincial Election Commissioner on PB-36 Kalat Re-Polling