جامعہ بلوچستان اور اے آئی ایم ایس کوئٹہ کے درمیان طبی سہولیات اور تعلیمی تعاون کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت
جامعہ بلوچستان اور اے آئی ایم ایس کوئٹہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت جامعہ کے ملازمین، طلبہ اور ان کے اہل خانہ کو رعایتی طبی سہولیات، مفت میڈیکل کیمپس، لیبارٹری سروسز اور ذہنی صحت کے لیے ماہانہ سائیکاٹرسٹ کلینک فراہم کیا جائے گا۔ معاہدے میں انٹرن شپس، ورکشاپس، مہمان لیکچرز اور بلڈ بینک والینٹیئر پروگرام بھی شامل ہیں۔
رپورٹ: سیدہ نتاشہ
جامعہ بلوچستان اور اریاء انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIMS) کوئٹہ کے درمیان اہم مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد جامعہ کے طلبہ، اساتذہ اور ملازمین کو جدید اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ تعلیمی و پیشہ ورانہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔
معاہدے کے تحت اے آئی ایم ایس جامعہ بلوچستان کے ملازمین، ان کے اہل خانہ اور طلبہ کو آؤٹ پیشنٹ کنسلٹیشن، عمومی طبی معائنہ، ایمرجنسی و ان پیشنٹ علاج، لیبارٹری ٹیسٹ، ایکس رے، ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین سمیت تمام تشخیصی سہولیات مقرّرہ رعایت کے ساتھ فراہم کرے گا۔
اس سلسلے میں اے آئی ایم ایس نے خصوصی رعایتی پیکج کا بھی اعلان کیا ہے، جس کے مطابق:
لیبارٹری ٹیسٹ پر 30 فیصد رعایت
کنسلٹیشن فیس پر 20 فیصد رعایت
ایکس رے/الٹراساؤنڈ پر 15 فیصد رعایت
ایم آر آئی/سی ٹی اسکین پر 10 فیصد رعایت
معاہدے کے مطابق اے آئی ایم ایس جامعہ بلوچستان میں مفت میڈیکل کیمپس کا انعقاد کرے گا، جبکہ کیمپس میں لیبارٹری سیمپل کلیکشن پوائنٹ بھی قائم کیا جائے گا تاکہ طلبہ اور اسٹاف کو فوری سہولت میسر ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ یکم دسمبر 2025 سے ہیپاٹائٹس بی اسکریننگ مہم کا آغاز بھی کیا جائے گا۔
طلبہ کی ذہنی صحت کے فروغ کے لیے ماہانہ سائیکاٹرسٹ کلینک بھی چلایا جائے گا، تاکہ ذہنی صحت سے متعلق آگاہی اور مشاورت باقاعدہ بنیادوں پر فراہم کی جا سکے۔
تعلیمی تعاون کے تحت جامعہ بلوچستان کے طلبہ کے لیے انٹرن شپس، ورکشاپس، مہمان لیکچرز اور اے آئی ایم ایس فیکلٹی کے خصوصی تعلیمی سیشنز کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ “بلڈ بینک والینٹیئر پروگرام” کا آغاز بھی کیا جائے گا تاکہ طلبہ میں خون کے عطیات، رضاکارانہ خدمات اور صحت آگاہی کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ معاہدہ دونوں اداروں کے درمیان طویل المدتی تعاون کا سنگ میل ثابت ہوگا، جس سے نہ صرف طلبہ اور ملازمین کو فائدہ پہنچے گا بلکہ صحت و تعلیم کے شعبوں میں اشتراک کی نئی راہیں بھی کھلیں گی.