پاکستان نے تاجکستان کو حلال گوشت کی برآمدات کا آغاز کر دیا
پاکستان نے تاجکستان کو حلال گوشت کی برآمدات کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعاون میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ آئندہ برسوں میں دوطرفہ تجارت کے حجم میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔
رپورٹ: سیدہ نتاشا
پاکستان نے وسطی ایشیائی ملک تاجکستان کو حلال گوشت کی برآمدات کا آغاز کر دیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ پیش رفت تاجکستان کے پاکستان میں سفیر یوسف شریف زادہ تویر کی کاوشوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے دوطرفہ تجارت اور معاشی تعاون کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان کے تاجکستان میں سفیر محمد سعید سرور نے دوشنبے میں پاکستانی میڈیا کے آٹھ رکنی وفد اور مقامی کاروباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
سفیر محمد سعید سرور نے بتایا کہ پاکستان آئندہ مرحلے میں تاجکستان کو ایک لاکھ تینتالیس ہزار ٹن اشیا برآمد کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً ایک کروڑ پینتالیس لاکھ ڈالر ہوگی۔ ان برآمدات میں حلال مصنوعات کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگی، جو دوطرفہ تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گی۔
انہوں نے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ تجارتی نرمی سے خطے میں معاشی انضمام کو فروغ ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کی فعال شمولیت سے آئندہ چند برسوں میں دوطرفہ تجارت کا حجم 30 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
براہِ راست پروازوں کے حوالے سے سفیر پاکستان نے مؤثر مارکیٹنگ اور ٹریول ایجنٹس کے کردار پر زور دیا اور کہا کہ براہِ راست پروازوں کی بحالی سے تجارت، معیشت اور سیاحت کو نمایاں فروغ ملے گا۔
انہوں نے تاجکستان کو پاکستان کا اہم تجارتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وسطی ایشیائی ممالک پاکستان کے طویل المدتی معاشی وژن میں خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ سفیر کے مطابق تاجکستان کی سالانہ جی ڈی پی شرح نمو تقریباً 8 فیصد ہے، جو اس کی مضبوط اور تیزی سے ترقی کرتی معیشت کا ثبوت ہے۔
سفیر محمد سعید سرور نے پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے رواں سال مئی میں تاجکستان کے دورے اور اسلام آباد میں پہلی مرتبہ تاجک ثقافتی ہفتے کے انعقاد کو بھی دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کی مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان مذہب، تاریخ، ثقافت اور ادب میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔
آخر میں انہوں نے تعلیمی اور تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے پاکستانی سفارت خانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ پندرہ ماہ کے دوران تاجکستان کے سفیر نے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی، سفارتی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جبکہ حال ہی میں پاکستان کے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے ملاقات میں زرعی اور غذائی تحفظ کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔