کاروبار

بٹ کوائن کی قیمت میں شدید کمی، 77 ہزار ڈالر کی حد سے نیچے آ گئی

بٹ کوائن کی قیمت میں شدید کمی، 77 ہزار ڈالر کی حد سے نیچے آ گئی

عالمی مالیاتی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے باعث بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں بٹ کوائن کی قدر میں 13 فیصد سے زائد کمی آئی ہے، جبکہ چھ ماہ کے دوران مجموعی طور پر اس کی قیمت میں تقریباً 49 ہزار ڈالر کی کمی ہو چکی ہے۔ ماہرین سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور مارکیٹ رجحانات پر نظر رکھنے کا مشورہ دے رہے

مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمت میں کمی

مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمت میں کمی

کئی روز تک مسلسل اضافے کے بعد ملک میں سونے کی قیمت میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا 1500 روپے سستا ہوا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی کمی آئی۔ دوسری جانب چاندی کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ کے رجحانات اور مقامی عوامل قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

لورالائی اولیوز: پاکستان کا پہلا برانڈ جسے نیو یارک اولیو آئل مقابلے میں پہچان ملی

لورالائی اولیوز: پاکستان کا پہلا برانڈ جسے نیو یارک اولیو آئل مقابلے میں پہچان ملی

لورالائی اولیوز، بلوچستان کی زمین سے اگائے گئے اعلیٰ معیار کے زیتون کے تیل کے لیے عالمی سطح پر پہچانا جانے والا پاکستان کا پہلا برانڈ ہے۔ فارم میں کوراتینا اور اربیکویینا زیتون کی فصل اگائی جاتی ہے اور جدید استخراج پلانٹس کے ذریعے بہترین ایکسٹرا ورجن زیتون آئل تیار کیا جاتا ہے۔ اس کامیابی سے نہ صرف پاکستانی زیتون کی صنعت کو فروغ ملے گا بلکہ مقامی کسانوں اور معیشت کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

پاکستان سمیت بلوچستان میں چاندی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

پاکستان سمیت بلوچستان میں چاندی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

پاکستان بھر کی طرح بلوچستان میں بھی چاندی کی قیمتوں میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے، جو بین الاقوامی مارکیٹ، ڈالر کی قدر، مہنگائی اور مقامی طلب و رسد سے متاثر ہے۔ کوئٹہ سمیت بڑے شہروں میں 10 گرام اور ایک تولہ چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق مہنگائی کے دور میں چاندی ایک نسبتاً محفوظ اور مؤثر سرمایہ کاری سمجھی جاتی ہے، تاہم قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے پیش نظر خرید و فروخت کے فیصلے محتاط انداز میں کرنے چاہئیں۔

2025 میں بلوچستان: حکومتی اصلاحات، ترقیاتی سرمایہ کاری اور عوامی ثمرات

2025 میں بلوچستان: حکومتی اصلاحات، ترقیاتی سرمایہ کاری اور عوامی ثمرات

2025 بلوچستان کے لیے سماجی و معاشی ترقی کا ایک فیصلہ کن سال ثابت ہوا، جہاں صوبائی بجٹ 1,028 ارب روپے تک پہنچا اور 249 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے، جن کے تحت 6 ہزار سے زائد منصوبوں پر عملدرآمد ہوا۔ امن و امان کے لیے 18 ارب روپے کی لاگت سے 8 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کا آغاز، زرعی شعبے کو 10 ارب روپے کی فراہمی اور 27 ہزار سے زائد ٹیوب ویلز کی شمسی توانائی پر منتقلی نے صوبے میں تحفظ، خودکفالت اور پائیدار ترقی کی بنیاد مضبوط کی۔ تعلیم کے شعبے میں 28 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے 1,237 اساتذہ کی بھرتی، 3,144 بند اسکولوں کی بحالی اور 81 ہزار سے زائد طلبہ کا مستفید ہونا انسانی ترقی کی واضح علامت ہے۔ معاشی سطح پر 3.5 ارب ڈالر کے ریکوڈک منصوبے سے 75 ہزار روزگار کے مواقع، ورلڈ بینک کے 194 ملین ڈالر سے 7 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد کو فائدہ اور نوجوانوں کے لیے روزگار و بیرونِ ملک ملازمتوں کے اہداف اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بلوچستان بتدریج محرومی سے نکل کر استحکام اور خوشحالی کی سمت گامزن ہے۔

بلوچستان کا ترقیاتی منظرنامہ 2025: صحت اور ٹیکنالوجی میں کلیدی اقدامات

بلوچستان کا ترقیاتی منظرنامہ 2025: صحت اور ٹیکنالوجی میں کلیدی اقدامات

سال 2025 میں بلوچستان میں صحت کے شعبے میں عملی اور نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ صحت کے لیے مختص بجٹ میں 15 فیصد اضافہ کر کے اسے 87.4 ارب روپے تک بڑھایا گیا، جس کے نتیجے میں صوبے بھر میں 77 فیصد سرکاری صحت مراکز فعال ہوئے جبکہ 164 بند مراکز دوبارہ کھولے گئے۔ اسی دوران بلوچستان اسمبلی نے انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز بل 2025 سمیت اہم قوانین منظور کیے اور خصوصی طبی یونٹس کی اجازت دی، جو عوام کو بہتر اور معیاری علاج کی فراہمی کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی پیش رفت سامنے آئی، جہاں کوئٹہ میں صوبے کا پہلا ٹیک پارک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بغیر سرکاری اخراجات کے قائم کیا گیا۔ اس منصوبے کا ابتدائی ہدف 500 ٹیکنالوجی سے وابستہ روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ یہ اقدام نوجوانوں کے لیے ہنرمند روزگار، ڈیجیٹل معیشت میں شمولیت اور صوبے کی معاشی سمت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی عکاسی کرتا ہے، جو مجموعی طور پر بلوچستان کے ترقیاتی سفر میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔

بلوچستان میں معیاری سڑکوں کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے، عبدالعلیم خان

بلوچستان میں معیاری سڑکوں کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے، عبدالعلیم خان

وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو بہتر سفری سہولیات اور معیاری سڑکوں کی فراہمی ان کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کراچی–کوئٹہ–چمن قومی شاہراہ (این-25) کو دو سال کے اندر بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔ یہ بات انہوں نے سابق چیئرمین سینیٹ اور بلوچستان سے رکن صوبائی اسمبلی میر محمد صادق خان سنجرانی سے ملاقات کے دوران کہی، جو آج ان سے ان کے دفتر میں ملے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو بلوچستان میں دالبندین–چاغی روڈ پر فوری طور پر کام شروع کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسی مقصد کے تحت صوبے بھر میں سڑکوں کا جامع نیٹ ورک بچھایا جائے گا۔ عبدالعلیم خان نے مزید کہا کہ رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کو جدید اور اعلیٰ معیار کے روڈ نیٹ ورک کی اشد ضرورت ہے تاکہ افغانستان، ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارت اور سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ذاتی طور پر بلوچستان میں این ایچ اے کی بہترین کارکردگی کو یقینی بنا رہے ہیں اور اس حوالے سے ایک خصوصی روڈ پیکیج پر بھی کام جاری ہے۔ ملاقات کے دوران سابق چیئرمین سینیٹ میر محمد صادق خان سنجرانی نے وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ این ایچ اے کی جانب سے بلوچستان کے لیے خصوصی اقدامات صوبے کے عوام کے لیے ایک قیمتی تحفہ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں سے نہ صرف سفری سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی بلکہ عوام کو درپیش دیرینہ مشکلات میں بھی واضح کمی ہوگی۔

بلوچستان: پاکستان کے بڑے کاروباری گروپس کا مائننگ سیکٹر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

بلوچستان: پاکستان کے بڑے کاروباری گروپس کا مائننگ سیکٹر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

کوئٹہ: پاکستان کے پانچ بڑے کاروباری گروپس نے بلوچستان کے معدنی شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مؤثر کاوشوں کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔ سرمایہ کاری کا اعلان کرنے والے گروپس میں لیک سٹی ہولڈنگز، فاطمہ گروپ، دین گروپ، ہلٹن گروپ اور سورتی گروپ شامل ہیں۔ یہ تمام گروپس اس تاریخی اور دور رس سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ ان گروپس کی مجموعی مارکیٹ ویلیو تقریباً پانچ ارب ڈالر بتائی جاتی ہے اور یہ بلوچستان کے مائننگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ اہم پیش رفت ماری انرجیز کی ذیلی کمپنی ماری منرلز اور گلوبا کور منرلز کے درمیان بلوچستان میں معدنی تلاش کے لیے طے پانے والے جوائنٹ وینچر معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے۔ جوائنٹ وینچر معاہدے کے تحت گلوبا کور منرلز لمیٹڈ بلوچستان کے معدنی شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد بلوچستان کے ضلع چاغی میں قیمتی معدنیات خصوصاً سونا اور تانبا کی تلاش اور ترقی ہے۔ اس حوالے سے سابق وفاقی وزیر اور معروف صنعتکار گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ معدنی وسائل کی ترقی کے آغاز سے ملک میں امن، ترقی اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے، جو قومی معیشت کے لیے ایک مثبت اور خوش آئند قدم ثابت ہوں گے۔

بلوچستان میں زرعی ترقی اور برآمدات کے لیے نئی راہیں۔

بلوچستان میں زرعی ترقی اور برآمدات کے لیے نئی راہیں۔

سیکرٹری ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) شہریار خان نے کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے دورے کے دوران اگست یا ستمبر میں بلوچستان میں زرعی نمائش کے انعقاد کا اعلان کیا۔ نمائش کا مقصد صوبے کی زرعی پیداوار کو ویلیو ایڈیشن، سرٹیفیکیشن اور فوڈ سیفٹی کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچانا ہے۔

صدر اور فیلڈ مارشل کو تاحیات استثنیٰ دینے سے احتساب کمزور ہو گا‘: اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے 27ویں آئینی ترمیم پر کیا کہا؟

صدر اور فیلڈ مارشل کو تاحیات استثنیٰ دینے سے احتساب کمزور ہو گا‘: اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے 27ویں آئینی ترمیم پر کیا کہا؟

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’پاکستان کی جانب سے عجلت میں کی گئی آئینی ترامیم عدلیہ کی آزادی کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں اور فوجی احتساب اور قانون کی حکمرانی اور اس کے احترام کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتی ہیں۔‘ انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا کہ ’تازہ ترین آئینی ترمیم، گزشتہ سال کی 26ویں ترمیم کی طرح، وکلا برادری اور سول سوسائٹی کے ساتھ جامع مشاورت اور بحث کے بغیر منظور کی گئی۔ ولکر ترک نے خبردار کیا کہ یہ ترامیم اُس اصول کے منافی ہیں جو قانون کی حکمرانی کی بنیاد ہے اور پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔‘ 13 نومبر کو منظور کی گئی تبدیلیوں کے تحت ایک نئے فیڈرل کونسٹیٹیوشنل کورٹ (ایف سی سی) کو آئینی مقدمات پر مکمل اختیار دے دیا گیا ہے، یہ وہ کام تھا کہ جو پہلے سپریم کورٹ کیا کرتی تھی۔ تاہم اس کے برعکس سپریم کورٹ اب صرف دیوانی اور فوجداری مقدمات دیکھے گی۔

بیوٹمز میں بلوچستان کا سب سے بڑا جاب فئیر، سو سے زائد کمپنیوں کی شرکت

بیوٹمز میں بلوچستان کا سب سے بڑا جاب فئیر، سو سے زائد کمپنیوں کی شرکت

بیوٹمز یونیورسٹی اور بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ کے اشتراک سے کوئٹہ میں صوبے کا سب سے بڑا جاب فئیر منعقد ہوا، جس میں 100 سے زائد سرکاری و نجی کمپنیوں اور تقریباً 5 ہزار طلبہ نے شرکت کی۔ گورنر بلوچستان نے افتتاح کیا اور شرکاء نے اس اقدام کو نوجوانوں کے لیے اہم موقع قرار دیا۔

کوئٹہ میں خواتین کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے دستکاری نمائش

کوئٹہ میں خواتین کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے دستکاری نمائش

کوئٹہ میں یو این ایچ سی آر کی جانب سے افغان مہاجرین اور مقامی خواتین کی تیار کردہ مصنوعات کی دو روزہ دستکاری نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس میں خواتین نے اپنے کاروبار کو فروغ دینے اور نئی مارکیٹوں تک رسائی کے مواقع پر روشنی ڈالی۔

خواتین

خواتین

عورت معاشرے کا وہ روشن چراغ ہے جو محبت، قوت اور قربانی کا پیکر ہوتی ہے۔ وہ گھر کی بنیاد بھی ہے اور قوم کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرنے والی ہستی بھی۔ عورت ماں ہو کر نسلوں کی تربیت کرتی ہے، بیٹی ہو کر رحمت بنتی ہے، بہن ہو کر سہار ا دیتی ہے اور بیوی ہو کر زندگی کا سفر اپنے ہمسفر کے ساتھ مل کر طے کرتی ہے۔ آج کی عورت تعلیم، ہنر اور محنت کے ذریعے زندگی کے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کو منوا رہی ہے۔ عورت کا احترام، حفاظت اور حقوق کی ادائیگی ہر معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے، کیونکہ ایک بااختیار اور باوقار عورت ہی مضبوط خاندان اور مضبوط معاشرہ تشکیل دیتی ہے۔