برطانوی تحقیق کے مطابق بچوں کی پیدائش سے لے کر دوسری سالگرہ تک شکر کی مقدار کم رکھنا ان کی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران شکر کی زیادہ مقدار نہ صرف جسمانی صحت بلکہ دماغی نشوونما پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق وہ بچے جو ابتدائی 1000 دنوں کے دوران کم شکر استعمال کرتے ہیں یا جن کی مائیں حمل کے دوران کم شکر کھاتی ہیں، ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرات میں بالترتیب 35 فیصد اور 20 فیصد کمی دیکھی گئی، اور یہ بیماریاں بھی بعد میں ظاہر ہوئیں۔
ماہرین صحت والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ حمل سے لے کر بچے کی دوسری سالگرہ تک شکر سے پرہیز کریں۔ اس دوران بچوں کو آئس کریم، میٹھے مشروبات اور دیگر میٹھے فارمولے دینے کی بجائے پانی، دودھ اور تازہ پھل دیں۔
تحقیق کے نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ ابتدائی عمر میں شکر کی مقدار محدود رکھنا بچوں کی طویل المدتی صحت اور دماغی ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔
ٹماٹر اور شملہ مرچ دونوں سردیوں میں دستیاب صحت مند سبزیاں ہیں، جو نہ صرف توانائی بڑھانے میں مددگار ہیں بلکہ جلد کی خوبصورتی اور چمک کے لیے بھی فائدہ مند سمجھی جاتی ہیں۔
ٹماٹر میں وٹامن سی، وٹامن اے اور اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو جلد کو صحت مند رکھنے اور جلد کی جھریوں کو کم کرنے میں مددگار ہے۔ اس کے علاوہ ٹماٹر جسم میں خون کی گردش بہتر بنانے اور مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے بھی مفید ہے۔
شملہ مرچ بھی وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہے، خاص طور پر سرخ شملہ مرچ میں وٹامن اے کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو جلد کی چمک بڑھانے اور توانائی بڑھانے میں مددگار ہے۔ شملہ مرچ کے روزانہ استعمال سے تھکن کم ہوتی ہے اور جسم میں توانائی کی سطح برقرار رہتی ہے۔
ماہرین غذائیت کے مطابق، اگرچہ دونوں سبزیاں صحت مند ہیں، لیکن جلد کی چمک کے لیے ٹماٹر اور توانائی کے لیے شملہ مرچ زیادہ مؤثر سمجھی جاتی ہے۔ بہتر نتائج کے لیے انہیں روزانہ کی خوراک میں شامل کرنا چاہیے۔
سرفراز بگٹی نے اسپتالوں میں علاج معطل کرنے کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دے دیا
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے کے مختلف اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈز کے تحت مریضوں کے علاج معطل کرنے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت اور ہیلتھ کارڈ پروگرام کے حکام سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبائی وزیر صحت کو بھی ہدایت کی ہے کہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ ہیلتھ کارڈ پر کسی بھی مریض کا علاج رکاوٹ کا شکار نہ ہو۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان کے تمام اسپتالوں کے بقایاجات کو فوری طور پر ادا کیا جائے تاکہ مریضوں کو بروقت اور بہتر طبی سہولیات میسر آ سکیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ صحت بلوچستان کے ہیلتھ کارڈ کے تحت 5 ارب روپے سے زائد کی رقم اب تک نجی اسپتالوں کو جاری نہیں کی جا سکی، جس کے باعث کراچی سمیت دیگر شہروں کے نجی اسپتالوں میں بلوچستان کے مریضوں کا علاج بند ہونے لگا تھا۔
نجی اسپتالوں نے علاج معطل کرنے سے قبل حکومت کو 15 دن کی مہلت دی تھی، جبکہ بلوچستان ہیلتھ کارڈ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن پر تقریباً 6 ارب روپے کے واجبات کے مقروض ہے۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ بلوچستان نے اب تک صرف ایک ارب روپے فراہم کیے ہیں، جبکہ باقی 5 ارب روپے کی رقم 6 ماہ گزرنے کے باوجود ادا نہیں کی گئی۔
حکام نے یقین دلایا ہے کہ فنڈز جلد ہی اسٹیٹ لائف انشورنس کو جاری کر دیے جائیں گے اور بلوچستان کے نجی اسپتالوں نے علاج بند نہیں کیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے اس مسئلے پر فوری توجہ مریضوں کی سہولت اور صحت کے شعبے میں بہتری کی کوششوں کو ظاہر کرتی ہے۔
جاپان میں کی گئی ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ انسان کے دانتوں کی حالت اس کی زندگی کی مدت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتی ہے۔ یہ تحقیق طبی جریدے BMC Oral Health میں شائع ہوئی ہے۔
اوساکا یونیورسٹی کے محققین نے 75 سال یا اس سے زائد عمر کے تقریباً 1 لاکھ 90 ہزار افراد کے طبی اور دانتوں کے ریکارڈ کا تجزیہ کیا۔ ہر دانت کو صحت مند، فلنگ شدہ، خراب یا غائب کے طور پر درجہ بندی کیا گیا۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جن افراد کے دانت صحت مند تھے یا وقت پر علاج کر کے فلنگ کی گئی تھی، ان میں زندگی کا خطرہ کم تھا۔ جبکہ جن لوگوں کے دانت خراب یا زیادہ غائب تھے، ان میں جلد موت کے امکانات زیادہ پائے گئے۔
ماہرین نے بتایا کہ صرف دانتوں کی تعداد نہیں بلکہ ان کی مجموعی صحت اور بروقت علاج بھی بہت اہم ہے۔ خراب یا غائب دانت جسم میں سوزش پیدا کر سکتے ہیں جو دوسری بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے، اور دانت نہ ہونے کی وجہ سے خوراک صحیح طرح سے نہ چبانے سے غذائی کمی بھی ہو سکتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ دانتوں کا بروقت علاج کرانا مجموعی صحت بہتر بنانے اور طویل المدتی خطرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
آسٹریلوی تحقیقی ادارے CSIRO کی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سنگترہ اور دیگر کھٹے پھل نہ صرف کینسر کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں بلکہ اسٹروک کے امکانات کو بھی نمایاں طور پر گھٹا سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق روزانہ ایک اضافی سروس سنگترہ یا دیگر کھٹے پھل کھانے سے منہ، گلے اور معدے کے کینسر کے خطرے میں تقریباً 50 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسٹروک کے خطرے میں بھی 19 فیصد تک کمی ممکن ہے، بشرطیکہ یہ پھل پہلے سے تجویز کردہ پانچ روزانہ پھل اور سبزیوں کے ساتھ استعمال کیے جائیں۔
صحت اور غذائیت کے فوائد
سنگترہ و دیگر کھٹے پھل وٹامن C، بیٹا کیروٹین، فولک ایسڈ اور غذائی ریشہ سے بھرپور ہوتے ہیں۔ یہ پھل دل کی بیماری، بلڈ پریشر، اسٹروک، ذیابیطس، الزائمر، پارکنسن اور موٹاپے کے خطرے کو کم کرنے میں بھی مددگار ہیں۔
تحقیق کے مطابق کھٹے پھل میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم کے خلیوں کو محفوظ رکھتے ہیں، مدافعتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں اور کینسر کے خلیوں کی نشوونما کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
آسان طریقے روزانہ استعمال کے لیے
تازہ نچوڑا ہوا مالٹے یا دیگر کھٹے پھل کا جوس پینا
سلاد یا کھانوں میں کھٹے پھل کا رس یا گودا شامل کرنا
مالٹے یا مینڈارن کے ٹکڑے بطور اسنیک کھانا
ماہرین کے مطابق، یہ چھوٹے مگر آسان اقدامات روزانہ کرنے سے صحت پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے اور کینسر، اسٹروک اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔
آج کے دور میں زیادہ تر لوگ گوشت کو اپنی خوراک کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا زیادہ گوشت کھانے سے کولیسٹرول بڑھتا ہے؟
کولیسٹرول کیا ہے؟
کولیسٹرول ایک قسم کی چربی ہے جو ہمارے خون میں پائی جاتی ہے۔ یہ جسم کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہ خلیات بنانے، ہارمونز بنانے اور وٹامن ڈی کی تیاری میں مدد دیتا ہے۔
لیکن زیادہ کولیسٹرول خون کی نالیوں میں جمع ہو کر دل کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
گوشت اور کولیسٹرول کا تعلق
سرخ گوشت (بیف، مٹن) میں سیر شدہ چربی زیادہ ہوتی ہے، جو خون میں کولیسٹرول بڑھا سکتی ہے۔
چکن اور مچھلی میں نسبتاً کم سیر شدہ چربی ہوتی ہے، اور مچھلی میں موجود اومیگا 3 کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
زیادہ گوشت، خاص طور پر چکن یا مٹن کا زیادہ حصہ کھانے سے LDL کولیسٹرول (برا کولیسٹرول) بڑھ سکتا ہے، جو دل کے امراض کے لیے خطرناک ہے۔
کتنا گوشت مناسب ہے؟
ماہرین صحت کے مطابق:
سرخ گوشت: ہفتے میں 2-3 بار، ہر بار 100-150 گرام کافی ہے۔
چکن اور مچھلی: ہفتے میں 3-4 بار کھائی جا سکتی ہے۔
سبزیاں، دالیں اور پھل: ہر کھانے میں شامل کریں تاکہ جسم میں کولیسٹرول کنٹرول میں رہے۔
گوشت کھانے کے صحت مند طریقے
گوشت کو ابالیں، بھاپ میں پکائیں یا گرل کریں، تل کر نہیں۔
زیادہ چربی والی حصہ (چکن کی جلد یا مٹن کی زیادہ چربی) نہ کھائیں۔
کھانے میں سبزیاں اور دالیں شامل کریں تاکہ چربی جذب کم ہو۔
روزانہ ورزش کریں، کم از کم 30 منٹ تیز چلنا یا ہلکی ورزش کریں۔
نتیجہ
زیادہ گوشت کھانے سے کولیسٹرول بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر اگر گوشت زیادہ چربی والا ہو۔ لیکن متوازن خوراک اور صحت مند پکانے کے طریقے اختیار کر کے آپ کولیسٹرول کو قابو میں رکھ سکتے ہیں۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی نئی تحقیق میں بچوں اور نوعمر نوجوانوں میں ہائی بلڈ پریشر میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو صحت کے لیے تشویش ناک ہے۔ تحقیق میں 21 ممالک کے 96 اسٹڈیز کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس میں 400,000 سے زائد بچوں کے اعداد و شمار شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق پچھلے 20 سالوں میں بچوں اور نوعمر نوجوانوں میں ہائی بلڈ پریشر کی شرح تقریباً دوگنی ہو گئی ہے اور اب یہ 6.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
ہائی بلڈ پریشر میں اضافے کی بنیادی وجوہات بچوں میں موٹاپا، غیر صحت مند خوراک اور جسمانی سرگرمی کی کمی ہیں۔ زیادہ وزن یا موٹاپے والے بچوں میں بلڈ پریشر بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، اور یہ رجحان خاص طور پر 12 سال سے زائد لڑکوں میں زیادہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق والدین کو چاہیے کہ بچوں کی خوراک اور روزمرہ کی سرگرمیوں پر خاص توجہ دیں تاکہ اس خطرے کو کم کیا جا سکے۔
ہائی بلڈ پریشر بچوں کے گردوں، دل اور آنکھوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ گردوں کی نالیوں اور شریانوں کو نقصان پہنچنے سے ان کی فلٹرنگ صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ڈائلاسس یا گردے کے ٹرانسپلانٹ کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ اسی طرح آنکھوں کی باریک شریانوں کو نقصان پہنچنے سے نظر میں کمی یا اندھا پن بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین والدین کو تاکید کرتے ہیں کہ بچوں میں بلڈ پریشر کی ابتدائی جانچ بہت ضروری ہے۔ ابتدائی بلڈ پریشر والے بچوں میں مکمل ہائی بلڈ پریشر تک پہنچنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کے بڑھتے رجحان کے ساتھ دیگر مسائل جیسے ٹائپ 2 ذیابیطس، دمہ اور ذہنی صحت کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں، جن پر بروقت قابو پانا ضروری ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق نیند کی کمی موٹاپے میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے۔ روزانہ چھ گھنٹے سے کم نیند لینے والوں میں وزن بڑھنے کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ پایا جاتا ہے۔ نیند پوری نہ ہونے سے بھوک کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز متاثر ہوتے ہیں، جس کے باعث غیر ضروری کھانے اور جسمانی سرگرمی میں کمی آتی ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف بڑوں بلکہ بچوں کے لیے بھی خطرناک ہے، کیونکہ کم نیند بچوں کی نشوونما اور صحت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ ماہرین نے صحت مند زندگی کے لیے بڑوں کو 7 سے 8 گھنٹے اور بچوں کو عمر کے مطابق 8 سے 10 گھنٹے نیند لینے کی تاکید کی ہے۔
چکن عموماً سرخ گوشت کے مقابلے میں زیادہ صحت بخش سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں چکنائی کم اور پروٹین زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزن کم کرنے، فٹنس اور ورزش کے شوقین افراد چکن کو اپنی روزمرہ خوراک میں شامل کرتے ہیں۔
تاہم حالیہ تحقیق نے اس عام تاثر پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ اطالوی سائنسدانوں کی ایک تحقیق کے مطابق جو افراد ہفتے میں 300 گرام سے زیادہ چکن کھاتے ہیں، ان میں معدے اور آنتوں کے کچھ بیماریوں کے خطرے میں اضافہ دیکھا گیا۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ چکن استعمال کرنے والوں میں مجموعی طور پر موت کا خطرہ 27 فیصد زیادہ تھا، جبکہ مردوں میں یہ خطرہ تقریباً 2.6 گنا تک بڑھ گیا۔
چکن اور صحت کے تعلق کی تفصیل
ماہرین کہتے ہیں کہ چکن بذاتِ خود بیماری پیدا نہیں کرتا، بلکہ زیادہ کھانے اور پکانے کے طریقے اہم ہیں۔ زیادہ درجہ حرارت پر چکن کو بھوننے یا گرل کرنے سے ایسے کیمیائی مرکبات بن سکتے ہیں جو جسم کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں اور طویل مدت میں خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
زیادہ خطرہ پیدا کرنے والے عوامل
زیادہ درجہ حرارت پر پکانا: گرل یا تلی ہوئی چکن میں نقصان دہ مرکبات پیدا ہو سکتے ہیں۔
پراسیس شدہ گوشت: زیادہ نمک اور کیمیکلز صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
غیر متوازن غذا: روزانہ چکن کھانے سے سبزیاں اور فائبر کی کمی ہو سکتی ہے۔
پولٹری فارمنگ کے اثرات: اینٹی بائیوٹکس اور ہارمونز جسم میں تبدیلیاں پیدا کر سکتے ہیں۔
چکن کھانا چھوڑنا ضروری ہے؟
ماہرین چکن کو مکمل طور پر ترک کرنے کا مشورہ نہیں دیتے بلکہ اعتدال پر زور دیتے ہیں۔ ہفتے میں 300 گرام تک چکن کھانا نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ چکن کے بجائے مچھلی، انڈے اور دالیں بھی خوراک میں شامل کی جائیں۔ چکن کو ابلی ہوئی یا ہلکی پکی شکل میں کھانا بہتر ہے اور سبز پتوں والی سبزیوں اور فائبر کا استعمال بڑھانا چاہیے۔
چکن پروٹین کا بہترین ذریعہ ہے، لیکن اسے روزانہ یا واحد خوراک بنانا طویل مدت میں نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ صحت مند زندگی کے لیے متوازن غذا، تنوع اور اعتدال سب سے اہم حکمت عملی ہیں۔
حال ہی میں سامنے آنے والی تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ نوزائیدہ بچوں کو بچپن میں مونگ پھلی کھلانے سے غذائی الرجی کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔
مطالعے کے مطابق، 2015 میں جاری شدہ طبی ہدایات میں تجویز دی گئی کہ بچوں کو چار ماہ کی عمر سے تھوڑی مقدار میں مونگ پھلی دی جائے۔ اس کے بعد 0 سے 3 سال کے بچوں میں مونگ پھلی الرجی کی شرح 27 فیصد کم ہوئی، اور 2017 میں سفارشات میں توسیع کے بعد یہ کمی 40 فیصد سے بھی زیادہ دیکھی گئی۔
فلاڈیلفیا کے چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹر ڈیوڈ ہِل نے کہا کہ اگر یہ اقدامات نہ کیے جاتے تو مونگ پھلی الرجی کے شکار بچوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی۔ ان کے مطابق، اب تک تقریباً 60 ہزار بچوں کو غذائی الرجی سے بچایا جا چکا ہے، جن میں سے 40 ہزار وہ بچے ہیں جو مونگ پھلی الرجی کے شکار ہو سکتے تھے۔
مونگ پھلی الرجی اس وقت ہوتی ہے جب جسم کا مدافعتی نظام مونگ پھلی کے پروٹینز کو نقصان دہ سمجھ کر ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں خارش، سانس لینے میں دشواری یا بعض اوقات جان لیوا اینافلیکسیس جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔
گزشتہ کئی دہائیوں تک ڈاکٹروں کا مشورہ تھا کہ بچوں کو مونگ پھلی تین سال کی عمر تک نہ دی جائے، لیکن 2015 میں لندن کے کنگز کالج کے پروفیسر گیڈون لیک کی تحقیق LEAP (Learning Early About Peanut Allergy) نے یہ نظریہ بدل دیا۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ بچپن میں مونگ پھلی کھلانے سے مستقبل میں غذائی الرجی کا خطرہ 80 فیصد کم ہو جاتا ہے، اور یہ تحفظ تقریباً 70 فیصد بچوں میں بلوغت تک برقرار رہتا ہے۔
قدرت نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں جن میں پھل سرفہرست ہیں۔ لیچی اور چیری ایسے ہی غذائیت سے بھرپور پھل ہیں جو نہ صرف ذائقے میں لاجواب ہیں بلکہ صحت کے لیے بھی بے حد فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔
لیچی کے حیرت انگیز فوائد
لیچی کا باقاعدہ استعمال وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور قوتِ مدافعت کو مضبوط بناتا ہے۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق لیچی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو کینسر جیسی مہلک بیماریوں سے بچانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
یہ پھل ہاضمے کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ خون کی روانی کو بھی متوازن رکھتا ہے۔ لیچی جلد کو سورج کی مضر الٹرا وائلٹ شعاعوں سے بچانے میں مددگار ہے جبکہ بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بھی مفید مانی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ لیچی ہرپس جیسے وائرل انفیکشنز کے خلاف بھی حفاظتی کردار ادا کرتی ہے۔
چیری: جوڑوں کے درد اور دل کی صحت کی محافظ
چیری میں موجود پوٹاشیئم بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھنے میں مدد دیتا ہے جبکہ یورک ایسڈ کم کرکے جوڑوں کے درد میں آرام پہنچاتا ہے۔ چیری میں شامل پیکٹن خون میں موجود مضر کولیسٹرول کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
چیری کا استعمال بینائی کو تیز اور جلد کو تروتازہ بناتا ہے کیونکہ اس میں بیٹا کیروٹین وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ چیری وٹامن سی، وٹامن اے، میگنیشیم، کیلشیئم اور فاسفورس سے بھرپور ہوتی ہے جو جسمانی کمزوری دور کرنے میں مدد دیتی ہے۔
طبی تحقیق کے مطابق چیری میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس کینسر کے خلاف مزاحمت پیدا کرتے ہیں اور دماغی بیماریوں سے بچاؤ میں بھی مفید ثابت ہوتے ہیں۔
ماہرین کا مشورہ
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر روزمرہ غذا میں لیچی اور چیری کو شامل کر لیا جائے تو متعدد بیماریوں سے قدرتی طور پر بچا جا سکتا ہے اور صحت مند زندگی گزاری جا سکتی ہے۔
کیا انڈے کھانے سے واقعی کولیسٹرول بڑھتا ہے؟ ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ کی حالیہ تحقیق نے اس حوالے سے برسوں سے قائم تصورات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
ہارورڈ ہیلتھ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق خوراک میں موجود کولیسٹرول خون میں خراب کولیسٹرول (LDL) پر اتنا اثر انداز نہیں ہوتا جتنا ماضی میں سمجھا جاتا تھا۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دل کی صحت پر اصل اثر سیر شدہ چکنائی (Saturated Fat) ڈالتی ہے، نہ کہ غذائی کولیسٹرول۔
تحقیق کی تفصیلات
اس تحقیق میں 48 بالغ افراد کو تین مختلف غذائی گروپس میں تقسیم کیا گیا:
پہلے گروپ کو ایسی غذا دی گئی جس میں کولیسٹرول زیادہ لیکن سیر شدہ چکنائی کم تھی، اس گروپ میں روزانہ دو انڈے شامل تھے۔
دوسرے گروپ کو کم کولیسٹرول مگر زیادہ سیر شدہ چکنائی والی غذا دی گئی۔
تیسرے گروپ کو ایسی غذا دی گئی جس میں کولیسٹرول اور سیر شدہ چکنائی دونوں زیادہ تھیں، اس میں روزانہ ایک انڈا شامل تھا۔
حیران کن نتائج
تحقیق کے نتائج سے واضح ہوا کہ خون میں خراب کولیسٹرول کی سطح کا تعلق زیادہ تر سیر شدہ چکنائی کی مقدار سے ہے، نہ کہ انڈوں یا غذائی کولیسٹرول سے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ افراد جو روزانہ دو انڈے کھاتے تھے اور اپنی مجموعی غذا میں سیر شدہ چکنائی کم رکھتے تھے، ان کے کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ کچھ افراد میں کمی بھی دیکھی گئی۔
ماہرین کی رائے
ماہرین صحت کے مطابق دل کی بیماریوں کے خطرے میں اضافے کا سبب زیادہ تر پراسیسڈ گوشت، سرخ گوشت، مکھن، پنیر اور دیگر سیر شدہ چکنائی سے بھرپور غذائیں بنتی ہیں، نہ کہ انڈے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انڈے ایک مکمل اور غذائیت سے بھرپور غذا ہیں اور متوازن خوراک کے ساتھ انہیں روزمرہ غذا کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
برٹش میڈیکل جرنل (BMJ) میں شائع ہونے والی آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق وزن کم کرنے کی جدید ادویات جیسے Semaglutide اور Tirzepatide علاج کے دوران مؤثر ثابت ہوتی ہیں، تاہم علاج بند کرنے کے بعد وزن تیزی سے واپس آتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ نئی ادویات چھوڑنے کے بعد اوسطاً 0.8 کلوگرام فی مہینہ وزن بڑھتا ہے اور تقریباً 18 ماہ میں وزن دوبارہ پہلے جیسا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ادویات موٹاپے کا مستقل علاج نہیں بلکہ طویل مدتی مینجمنٹ کا حصہ ہیں۔
کوئٹہ میں ای پی آئی کا ماہانہ جائزہ اجلاس دسمبر 2025 میں آغا خان یونیورسٹی کے صوبائی دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر آفتاب حسین کاکڑ نے کی۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، ڈپٹی ہیلتھ آفیسر، پروگرام منیجر، ایس آر آئی پی کوآرڈینیٹر، اسسٹنٹ ویکسینیٹرز اور تحصیل مانیٹرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں ویکسین کوریج، ڈیٹا کی درستگی، فیلڈ مانیٹرنگ اور کمیونٹی انگیجمنٹ بہتر بنانے پر بات ہوئی۔
سمجھ گیا ?
میں اسے **نیوز سے کاپی کیے بغیر**، صرف خیال لے کر **نئے الفاظ اور الگ انداز** میں لکھ رہا ہوں:
---
جنگلی حیات میں زخمی ہونا ایک عام بات ہے، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ جانور بغیر کسی ڈاکٹر یا دوا کے اپنے زخموں کا خیال خود رکھتے ہیں۔ قدرت نے انہیں یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ مشکل وقت میں اپنا علاج خود کر سکیں۔
جب کوئی جانور زخمی ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہ شور اور خطرے سے دور کسی محفوظ جگہ کا انتخاب کرتا ہے تاکہ آرام کر سکے۔ اس کے بعد وہ ایسے پودوں اور جڑی بوٹیوں کی طرف رجوع کرتا ہے جو اس کے زخم کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں۔
سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچھ بندر زخمی ہونے پر مخصوص پودے چباتے ہیں اور ان کا رس زخموں پر لگاتے ہیں۔ ان پودوں میں ایسے قدرتی اجزا موجود ہوتے ہیں جو سوزش کم کرتے ہیں اور زخم بھرنے میں مدد دیتے ہیں۔
ایک تحقیق کے دوران دیکھا گیا کہ ایک اورنگوٹان نے چہرے پر لگے زخم کے علاج کے لیے خود ہی ایک پودے کے پتے چبائے، ان کا رس زخم پر لگایا اور کچھ دیر تک وہ پتے زخم پر رکھے۔ چند دنوں میں اس کا زخم کافی حد تک بہتر ہو گیا۔
اسی طرح بعض جانور اپنے زخموں کو بیرونی گندگی سے بچانے کے لیے قدرتی چیزوں کا استعمال کرتے ہیں۔ پہاڑی چوہے درختوں کا گوند زخم پر لگا لیتے ہیں جبکہ ریچھ زخم صاف کرنے کے بعد مٹی یا گوند سے اسے ڈھانپ لیتے ہیں تاکہ انفیکشن نہ ہو۔
پرندوں میں بھی یہ فطری صلاحیت پائی جاتی ہے۔ کچھ پرندے ٹوٹی ہوئی ہڈی یا زخم پر گیلی مٹی یا باریک جڑوں سے حفاظتی تہہ بنا لیتے ہیں اور مخصوص جڑی بوٹیاں کھاتے ہیں، جس سے وہ آہستہ آہستہ صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
ان مشاہدات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جانور فطرت کے دیے گئے علم سے بخوبی واقف ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ انسان نے جڑی بوٹیوں سے علاج کا ابتدائی علم انہی جانوروں کو دیکھ کر حاصل کیا ہوگا۔
---
اگر آپ چاہیں تو میں:
* اسے **بالکل نیوز اسٹائل** میں
* یا **مختصر سوشل میڈیا پوسٹ**
* یا **ہیڈنگ کے ساتھ مکمل خبر**
جنگلی حیات میں زخمی ہونا ایک عام بات ہے، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ جانور بغیر کسی ڈاکٹر یا دوا کے اپنے زخموں کا خیال خود رکھتے ہیں۔ قدرت نے انہیں یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ مشکل وقت میں اپنا علاج خود کر سکیں۔
جب کوئی جانور زخمی ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہ شور اور خطرے سے دور کسی محفوظ جگہ کا انتخاب کرتا ہے تاکہ آرام کر سکے۔ اس کے بعد وہ ایسے پودوں اور جڑی بوٹیوں کی طرف رجوع کرتا ہے جو اس کے زخم کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں۔
سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچھ بندر زخمی ہونے پر مخصوص پودے چباتے ہیں اور ان کا رس زخموں پر لگاتے ہیں۔ ان پودوں میں ایسے قدرتی اجزا موجود ہوتے ہیں جو سوزش کم کرتے ہیں اور زخم بھرنے میں مدد دیتے ہیں۔
ایک تحقیق کے دوران دیکھا گیا کہ ایک اورنگوٹان نے چہرے پر لگے زخم کے علاج کے لیے خود ہی ایک پودے کے پتے چبائے، ان کا رس زخم پر لگایا اور کچھ دیر تک وہ پتے زخم پر رکھے۔ چند دنوں میں اس کا زخم کافی حد تک بہتر ہو گیا۔
اسی طرح بعض جانور اپنے زخموں کو بیرونی گندگی سے بچانے کے لیے قدرتی چیزوں کا استعمال کرتے ہیں۔ پہاڑی چوہے درختوں کا گوند زخم پر لگا لیتے ہیں جبکہ ریچھ زخم صاف کرنے کے بعد مٹی یا گوند سے اسے ڈھانپ لیتے ہیں تاکہ انفیکشن نہ ہو۔
پرندوں میں بھی یہ فطری صلاحیت پائی جاتی ہے۔ کچھ پرندے ٹوٹی ہوئی ہڈی یا زخم پر گیلی مٹی یا باریک جڑوں سے حفاظتی تہہ بنا لیتے ہیں اور مخصوص جڑی بوٹیاں کھاتے ہیں، جس سے وہ آہستہ آہستہ صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
ان مشاہدات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جانور فطرت کے دیے گئے علم سے بخوبی واقف ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ انسان نے جڑی بوٹیوں سے علاج کا ابتدائی علم انہی جانوروں کو دیکھ کر حاصل کیا ہوگا۔
روزانہ ایک پیاز کھانا، خاص طور پر کچی پیاز، صحت کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ پیاز میں قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامنز، منرلز اور سلفر والے اجزا پائے جاتے ہیں جو جسم کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پیاز کے چند اہم فوائد درج ذیل ہیں:
پیاز دل کی صحت بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس میں موجود قدرتی اجزا کولیسٹرول کو قابو میں رکھتے ہیں اور بلڈ پریشر کم کرنے میں معاون ہوتے ہیں، جس سے دل کے دورے اور فالج کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
پیاز جسم کو انفیکشن سے بچاتا ہے۔ اس میں پائے جانے والے سلفر اجزا بیکٹیریا اور وائرس کے خلاف مؤثر ہوتے ہیں اور نزلہ، زکام اور فلو سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔
یہ مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ پیاز میں موجود وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس جسم کی قوتِ مدافعت بڑھاتے ہیں اور بیماریوں سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔
پیاز بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں بھی مددگار ہے۔ روزانہ ایک پیاز کھانا شوگر کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے کیونکہ یہ انسولین کے اثر کو بہتر بناتا ہے۔
پیاز دماغی صحت کے لیے بھی اچھا سمجھا جاتا ہے۔ اس میں موجود قدرتی اجزا یادداشت اور توجہ کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں اور بڑھتی عمر کے ساتھ دماغی کمزوری کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں۔
بالوں اور جلد کے لیے بھی پیاز فائدہ مند ہے۔ پیاز کا استعمال بالوں کو مضبوط کرتا ہے اور جلد کو جراثیم سے محفوظ رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ پیاز ہاضمہ بہتر بناتا ہے۔ اس میں موجود فائبر آنتوں کے نظام کو درست رکھتا ہے اور قبض جیسے مسائل میں کمی لاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیاز کو روزمرہ غذا میں مناسب مقدار میں شامل کرنا مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
نو عمر نوجوان اکثر چہرے پر نکلنے والے کیل مہاسوں کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں۔ اب ان کے لیے ایک خوشخبری ہے کہ صرف ایک آلو کے استعمال سے اس مسئلے میں کافی حد تک کمی آ سکتی ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق آلو میں ایسے قدرتی اجزا ہوتے ہیں جو چہرے کے دانوں کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ آلو ہمارے گھروں میں عام استعمال ہونے والی سبزی ہے اور بچوں میں بھی بہت پسند کی جاتی ہے۔
آلو غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے اور اسے مختلف طریقوں سے پکایا جا سکتا ہے۔ اگر آلو مناسب مقدار میں اور صحت مند طریقے سے کھایا جائے تو یہ صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
آلو میں موجود وٹامن سی اور اسٹارچ جلد کو صاف کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اگر آلو کا رس چہرے پر لگایا جائے تو کیل مہاسے جلد خشک ہو سکتے ہیں اور جلد صاف نظر آنے لگتی ہے۔
آلو کا رس معدے کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ یہ معدے کی جلن، گیس اور السر میں آرام دیتا ہے اور قدرتی اینٹی ایسڈ کے طور پر کام کرتا ہے۔
اس کے علاوہ آلو آنکھوں کی صحت کے لیے بھی مفید ہے۔ کچے آلو کے قتلے آنکھوں پر رکھنے سے سوجن اور سیاہ حلقوں میں کمی آ سکتی ہے، کیونکہ آلو میں قدرتی سفید کرنے والے اجزا پائے جاتے ہیں۔
کوئٹہ: ای پی آئی ہیڈکوارٹر بلوچستان میں کمیونٹی بیسڈ سرویلنس سے متعلق ایک اسکوپنگ اجلاس منعقد ہوا، جس کا مقصد بیماریوں کی بروقت نشاندہی اور فوری عوامی صحت کے ردِعمل کے لیے کمیونٹی کی شمولیت کو مضبوط بنانا تھا۔
اجلاس کی صدارت ڈاکٹر آفتاب حسین، صوبائی کوآرڈینیٹر (پی سی) ای پی آئی بلوچستان نے کی۔ اجلاس میں ڈاکٹر آصف بتینی، مسٹر ذیشان، ڈاکٹر رابیہ بلوچ، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈاکٹر رحمت اللہ کاکڑ، یونیسیف کے ڈاکٹر نور حسین گچکی، ڈاکٹر ظفر اقبال خوستی (ای پی آئی)، ڈاکٹر احسان لارک، ڈی پی سی ای پی آئی کے علاوہ یو کے ہیلتھ سیکیورٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ کمیونٹی بیسڈ سرویلنس بیماریوں کے پھیلاؤ کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ہے، خصوصاً دور دراز اور کم سہولیات والے علاقوں میں۔ اجلاس میں مختلف شراکت داروں کے مابین رابطہ کاری کو بہتر بنانے، کمیونٹی سطح پر رپورٹنگ کے نظام کو مضبوط کرنے اور سی بی ایس کو موجودہ عوامی صحت کے نظام میں شامل کرنے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ کمیونٹی کی مؤثر شمولیت، فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی صلاحیت سازی اور بروقت معلومات کا تبادلہ بلوچستان میں بیماریوں کی نگرانی اور عوامی صحت کے نظام کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
نئی تحقیق کے مطابق صرف چند سیکنڈ کے لیے سجدہ کرنا دماغ کی سرگرمی پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ یہ نتائج امریکی سائنسدانوں کی ایک پائلٹ اسٹڈی میں سامنے آئے ہیں جو PubMed Central میں شائع ہوئی ہے۔
مطالعے میں تین خواتین اور دو مرد رضاکار شامل تھے، جن کے دماغی سگنلز کھلی اور بند آنکھوں کی حالت میں ریکارڈ کیے گئے۔ شرکاء کے بارے میں یہ باتیں نوٹ کی گئی ہیں:
کسی قسم کے نفسیاتی امراض کی تاریخ نہیں
سر یا ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ یا سرجری نہیں
باقاعدہ نیورو سائیکولوجیکل ادویات استعمال نہیں
نماز باقاعدگی سے ادا کرنے کی عادت
نتائج سے معلوم ہوا کہ خواتین میں سجدے کے دوران کچھ دماغی سگنلز میں کمی دیکھنے کو ملی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دماغ کچھ حد تک پرسکون یا مختلف انداز سے کام کر رہا تھا۔ مردوں میں بعض دماغی سرگرمیاں بڑھ گئیں۔
تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی اسٹڈی سجدے کے دماغی اثرات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور مستقبل میں اس پر مزید تفصیلی مطالعات کی ضرورت ہے۔
سائنسدانوں نے یہ بھی بتایا کہ صرف 10 سیکنڈ کے سجدے سے دماغی سرگرمی میں تبدیلی ممکن ہے اور یہ اثر مرد اور خواتین میں مختلف ہو سکتا ہے۔ یہ تحقیق نماز کے جسمانی اور ذہنی فوائد کو سمجھنے میں اہم معلومات فراہم کرتی ہے۔
سردیوں کے موسم میں جلد کی خشکی، پھٹنا اور بے رونقی ایک عام مسئلہ بن جاتا ہے، ایسے میں ایلو ویرا کے استعمال سے متعلق سوالات بھی سامنے آتے ہیں کہ آیا اسے سردیوں میں استعمال کرنا چاہیے یا نہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق، ایلو ویرا میں قدرتی نمی، وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو جلد کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ سردیوں میں اگر ایلو ویرا کا درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ جلد کی خشکی، خارش اور جلن کو کم کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرد موسم میں صرف ایلو ویرا جیل لگانے کے بجائے اسے کسی موئسچرائزر، ناریل کے تیل یا زیتون کے تیل کے ساتھ ملا کر استعمال کرنا زیادہ فائدہ مند رہتا ہے، کیونکہ خالص ایلو ویرا بعض افراد کی جلد کو مزید خشک بھی کر سکتا ہے۔
جلد کے ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ حساس جلد والے افراد سردیوں میں ایلو ویرا کے استعمال سے پہلے پیچ ٹیسٹ ضرور کریں تاکہ کسی قسم کی الرجی یا جلن سے بچا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق، ایلو ویرا نہ صرف جلد بلکہ ہونٹوں، ہاتھوں اور پیروں کی خشکی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کا استعمال اعتدال میں اور درست طریقے سے کرنا ضروری ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ سردیوں میں جلد کی حفاظت کے لیے متوازن غذا، مناسب پانی کا استعمال اور معیاری اسکن کیئر مصنوعات کے ساتھ ایلو ویرا کو معاون کے طور پر استعمال کیا جائے۔