صحت

کالی، سبز یا دودھ والی چائے، صحت کے لیے کون سی بہتر؟ ماہرین کی رائے

کالی، سبز یا دودھ والی چائے، صحت کے لیے کون سی بہتر؟ ماہرین کی رائے

چائے پاکستان میں روزمرہ زندگی کا اہم حصہ ہے۔ زیادہ تر لوگ دن کا آغاز دودھ والی چائے سے کرتے ہیں، جبکہ کئی افراد کام کے بعد سبز چائے پینا پسند کرتے ہیں۔ ایسے میں اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ روزانہ استعمال کے لیے کون سی چائے صحت کے لیے زیادہ مفید ہے۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق، دودھ والی چائے میں موجود دودھ بعض اوقات چائے کے فائدہ مند اجزا کے اثر کو کم کر دیتا ہے۔ تاہم اگر کسی شخص کو دودھ سے الرجی نہ ہو تو دودھ والی چائے نقصان دہ نہیں سمجھی جاتی، کیونکہ دودھ میں کیلشیم اور وٹامن ڈی جیسے اہم غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ دودھ والی چائے کھانے کے فوراً بعد پینے کے بجائے کھانوں کے درمیان پی جائے۔ کالی چائے عموماً بغیر دودھ یا بہت کم دودھ کے ساتھ پی جاتی ہے۔ اس کا ذائقہ قدرے تیز ہوتا ہے اور ماہرین کے مطابق یہ غذائی لحاظ سے دودھ والی اور سبز چائے کے درمیان ایک متوازن انتخاب ہے۔ کالی چائے میں موجود اجزا خون کی روانی بہتر بنانے اور دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں، تاہم اسے بھی کھانے کے ساتھ پینے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ یہ غذا کے جذب ہونے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ سبز چائے کو صحت کے حوالے سے سب سے زیادہ فائدہ مند قرار دیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سبز چائے وزن کم کرنے، جسم میں چکنائی گھٹانے اور نظامِ ہاضمہ بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سبز چائے اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے جو جسم کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر چائے کے اپنے فوائد ہیں، اصل بات اعتدال اور درست وقت پر استعمال کی ہے۔ اگر چائے مناسب مقدار میں اور درست انداز سے پی جائے تو یہ صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

بلوچستان میں صحت کے ڈیٹا کے مؤثر استعمال اور ٹی بی خدمات کی بہتری کے لیے BHMIS اور ٹی بی پروگرام کے حکام کی PPHI سی ای او سے ملاقات

بلوچستان میں صحت کے ڈیٹا کے مؤثر استعمال اور ٹی بی خدمات کی بہتری کے لیے BHMIS اور ٹی بی پروگرام کے حکام کی PPHI سی ای او سے ملاقات

بلوچستان ہیلتھ منجمنٹ انفارمیشن سسٹم (BHMIS) اور ٹی بی کنٹرول پروگرام کے صوبائی کوآرڈینیٹرز نے PPHI بلوچستان کے سی ای او سے ملاقات کی، جس میں صوبے میں صحت کے ڈیٹا کے مؤثر استعمال، بیماریوں کی بروقت تشخیص، اور بنیادی صحت کی سہولیات کی بہتری پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں ٹی بی تشخیص، ڈیٹا انضمام اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے، بی ایچ یو لیول پر ٹی بی سہولیات کی وسعت، اور جدید معیار کے مطابق مراکز قائم کرنے پر زور دیا گیا۔

تاریخی عالمی شراکت: آریا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نے یونیورسٹی آف یوٹاہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے

تاریخی عالمی شراکت: آریا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نے یونیورسٹی آف یوٹاہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے

بلوچستان کی صحت اور تعلیم کے شعبے میں عالمی تعاون کا آغاز، آریا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نے امریکہ کی یونیورسٹی آف یوٹاہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس شراکت کے ذریعے صوبے میں طبی تعلیم، تحقیق اور معیاری علاج کی سہولیات کو فروغ دیا جائے گا، خاص طور پر کینسر اور ماں و بچے کی صحت کے شعبے میں۔

کوئٹہ میں نئے پیپر لیس ٹرامہ سینٹر کا وزیر صحت بلوچستان کی جانب سے جائزہ

کوئٹہ میں نئے پیپر لیس ٹرامہ سینٹر کا وزیر صحت بلوچستان کی جانب سے جائزہ

کوئٹہ میں وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ نے نئے تعمیر شدہ ٹرامہ سینٹر میں حکومت کی پیپر لیس پالیسی کے تحت نصب جدید سافٹ ویئر کا جائزہ لیا۔ صوبائی کوآرڈینیٹر BHMIS ڈاکٹر ابابگر بلوچ نے مریضوں کے اندراج، تشخیص، علاج اور فالو اپ کے ڈیجیٹل نظام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر صحت نے کہا کہ ڈیجیٹل نظام سے مریضوں کی سہولت، ہسپتالوں کی کارکردگی اور وسائل کی بچت میں اضافہ ہوگا، اور ہدایت دی کہ تمام سرکاری ہسپتالوں کو مرحلہ وار HMIS سسٹم پر منتقل کیا جائے۔

بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کوئٹہ میں اسپرنگ سیشن 2026 کے داخلوں کا اعلان

بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کوئٹہ میں اسپرنگ سیشن 2026 کے داخلوں کا اعلان

کوئٹہ: بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز اسپرنگ سیشن 2026 کے لیے مختلف الائیڈ ہیلتھ سائنسز پروگرامز میں داخلوں کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ بولان یونیورسٹی بلوچستان کی واحد سرکاری میڈیکل یونیورسٹی ہے جو صوبے میں طبی تعلیم، کلینیکل تربیت اور تحقیق کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ یونیورسٹی کے تمام تعلیمی پروگرامز تدریسی ہسپتالوں سے منسلک ہیں تاکہ طلبہ کو عملی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا سکے۔ اعلان کے مطابق ڈاکٹر آف فزیکل تھراپی، میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجی، میڈیکل امیجنگ ٹیکنالوجی، آپریشن تھیٹر ٹیکنالوجی، اینستھیزیا ٹیکنالوجی، آپٹومیٹری، نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹٹیشن، کارڈیک ٹیکنالوجی، اسپیچ اینڈ لینگویج تھراپی، آکوپیشنل تھراپی، نرسنگ اور دیگر متعلقہ الائیڈ ہیلتھ سائنسز پروگرامز میں داخلے دستیاب ہیں۔ داخلے کے لیے اہل امیدواروں کا ایف ایس سی پری میڈیکل یا اس کے مساوی امتحان میں کم از کم 50 فیصد نمبرز کے ساتھ کامیاب ہونا ضروری ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق آن لائن داخلہ پورٹل 5 جنوری 2026 سے کھولا جائے گا جبکہ درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 جنوری 2026 مقرر کی گئی ہے۔ انٹری ٹیسٹ اور انٹرویو کی تاریخوں کا اعلان بعد ازاں یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر کیا جائے گا۔

ملک میں ہر دوسری خاتون خون کی کمی کا شکار، علامات اور بچاؤ کیا ہے؟

ملک میں ہر دوسری خاتون خون کی کمی کا شکار، علامات اور بچاؤ کیا ہے؟

پاکستان میں خون کی کمی (انیمیا) ایک سنگین مگر خاموش مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں ہر دوسری خاتون آئرن کی کمی کا شکار ہے، خاص طور پر 15 سے 49 سال کی خواتین میں یہ مسئلہ زیادہ پایا جاتا ہے۔ اندازوں کے مطابق 41 فیصد خواتین انیمیا میں مبتلا ہیں جبکہ ہر سال لاکھوں حاملہ خواتین اس بیماری کا شکار ہو جاتی ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ خون کی کمی کی عام علامات میں مسلسل تھکاوٹ، کمزوری، سانس پھولنا، چکر آنا اور جسم میں توانائی کی کمی شامل ہیں۔ حمل کے دوران انیمیا ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بار بار حمل، بچوں میں کم وقفہ اور مناسب غذا کی کمی خواتین کے جسم میں آئرن کے ذخائر ختم کر دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق غربت اور بڑھتی آبادی بھی اس مسئلے کی بڑی وجہ ہے۔ گھروں میں وسائل محدود ہوتے ہیں، ماں سب کو کھلاتی ہے مگر خود مناسب خوراک نہیں لے پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں میں بھی خون کی کمی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ہر سال لاکھوں بچوں میں انیمیا کی تشخیص ہو رہی ہے، جس سے ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے سے بچاؤ کے لیے آئرن والی غذا، سبز پتوں والی سبزیاں، دالیں، گوشت اور آئرن سپلیمنٹس کا استعمال ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فیملی پلاننگ اور صحت سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا بھی بے حد اہم ہے۔ ماہرین کے مطابق آبادی پر قابو پا کر ہی صحت مند مائیں، مضبوط بچے اور بہتر مستقبل ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

آنکھوں کے انفیکشن اور بچاؤ کی احتیاطی تدابیر

آنکھوں کے انفیکشن اور بچاؤ کی احتیاطی تدابیر

مون سون کے موسم میں نمی اور موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے آنکھوں کا انفیکشن، جسے آشوب چشم بھی کہتے ہیں، تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ اس کے عام علامات میں آنکھوں کی سرخی، خارش اور پانی یا دیگر مادے کا خارج ہونا شامل ہے۔ بیکٹیریل اور وائرل انفیکشن خاص طور پر گنجان آباد علاقوں، اسکولوں اور دفاتر میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق درست احتیاطی تدابیر اپنانے سے آنکھوں کے انفیکشن سے بچا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے ہاتھ اور چہرے کو صاف رکھنا ضروری ہے۔ آنکھوں یا چہرے کو چھونے سے پہلے ہمیشہ ہاتھ صابن اور پانی سے دھوئیں کیونکہ گندے ہاتھ انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں۔ ساتھ ہی تولیہ، آئی ڈراپس، تکیہ، میک اپ وغیرہ کسی اور کے ساتھ شیئر نہ کریں اور جو چیزیں آپ زیادہ استعمال کرتے ہیں انہیں صاف رکھیں۔ آلودگی، دھول اور تیز ہواؤں سے آنکھوں کو بچانے کے لیے دھوپ کے چشمے پہنیں اور ضرورت سے زیادہ آئی ڈراپس، کاجل یا آئی لائنر استعمال کرنے سے گریز کریں۔ عوامی سوئمنگ پولز یا قدرتی پانی میں جراثیم موجود ہو سکتے ہیں، اس لیے تیراکی کے بعد آنکھوں کو صاف پانی سے دھوئیں۔ ٹی وی یا موبائل سکرین پر زیادہ وقت آنکھوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے، اس لیے ہر 20 منٹ کے بعد 20 سیکنڈ کے لیے 20 فٹ دور دیکھیں۔ آنکھوں کے قطروں یا دیگر ادویات کا استعمال ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق کریں اور اگر سرخی، درد یا دھندلا پن برقرار رہے تو فوراً آنکھوں کے ماہر سے رابطہ کریں۔ ان تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے سے نہ صرف آپ اپنی آنکھوں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ دیگر افراد کو بھی انفیکشن سے بچا سکتے ہیں۔

سال 2025: بلوچستان کے صحت کے شعبے میں نمایاں اور تاریخی پیش رفت

سال 2025: بلوچستان کے صحت کے شعبے میں نمایاں اور تاریخی پیش رفت

سال 2025 کے دوران بلوچستان کے صحت کے شعبے میں صوبائی حکومت کی مؤثر پالیسیوں، اصلاحاتی اقدامات اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ بچوں کی حفاظتی ٹیکہ کاری میں واضح اضافہ، صوبے کا پولیو فری رہنا، ڈیجیٹل صحت کے نظام کا نفاذ، ہسپتالوں میں جدید سہولیات کی فراہمی اور ہیلتھ کارڈ پروگرام کے ذریعے مفت علاج جیسے اقدامات نے عوامی صحت کے نظام کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔

 موسمی بیماریوں میں اضافہ: سائنسی وجوہات اور احتیاطی تدابیر

 موسمی بیماریوں میں اضافہ: سائنسی وجوہات اور احتیاطی تدابیر

ماہرینِ صحت کے مطابق موسم کی تبدیلی کے دوران موسمی بیماریوں میں اضافہ ایک سائنسی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب درجۂ حرارت اور نمی (humidity) میں اچانک تبدیلی آتی ہے تو انسانی جسم کا مدافعتی نظام (immune system) کمزور ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے وائرس اور بیکٹیریا آسانی سے جسم پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ سائنسی تحقیق کے مطابق سرد اور مرطوب موسم میں وائرس زیادہ دیر تک ہوا میں زندہ رہ سکتے ہیں، خاص طور پر نزلہ، زکام اور فلو کے وائرس۔ اس کے علاوہ موسم کی تبدیلی سے ناک اور گلے کی جھلیاں (mucous membranes) خشک یا حساس ہو جاتی ہیں، جس سے جراثیم کے داخل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودگی اور گرد و غبار بھی الرجی اور سانس کی بیماریوں کو بڑھاتا ہے، کیونکہ یہ ذرات پھیپھڑوں میں جا کر سوزش (inflammation) پیدا کرتے ہیں۔ بچوں اور بزرگوں میں چونکہ مدافعتی نظام نسبتاً کمزور ہوتا ہے، اس لیے وہ زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق متوازن غذا، وٹامن سی اور ڈی کا مناسب استعمال، صاف پانی، مناسب نیند اور ہاتھوں کی صفائی جیسے اقدامات مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بیمار افراد سے فاصلہ رکھنا اور علامات ظاہر ہونے پر بروقت علاج نہایت ضروری ہے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اگر احتیاطی تدابیر کو سائنسی بنیادوں پر اپنایا جائے تو موسمی بیماریوں سے کافی حد تک بچاؤ ممکن ہے۔

فِٹ جسم، تیز اور جوان دماغ

فِٹ جسم، تیز اور جوان دماغ

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر انسان کا جسم فِٹ رہے تو اس کا دماغ بھی زیادہ عرصے تک تیز، متحرک اور جوان رہتا ہے۔ اس تعلق کو باڈی برین کنکشن کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق باقاعدہ جسمانی سرگرمی دل کو مضبوط بناتی ہے، جس کے نتیجے میں دماغ تک زیادہ آکسیجن اور غذائی توانائی پہنچتی ہے۔ اس سے یادداشت بہتر ہوتی ہے، توجہ میں اضافہ ہوتا ہے اور ذہنی تھکن کم محسوس ہوتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ورزش، خاص طور پر تیز چہل قدمی، دوڑ اور سائیکل چلانا، دماغ میں ایسے مفید کیمیکلز پیدا کرتی ہے جو نئے دماغی خلیات بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس عمل کو نیورو جینیسس کہا جاتا ہے، جو دماغ کو جوان رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ورزش ذہنی دباؤ پیدا کرنے والے ہارمونز کو کم کرتی ہے جبکہ خوشی کا احساس دینے والے کیمیکلز میں اضافہ کرتی ہے۔ اس سے ڈپریشن اور بے چینی میں کمی آتی ہے اور ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فِٹ جسم اچھی نیند میں بھی مدد دیتا ہے۔ اچھی نیند دماغ کو تازہ کرتی ہے، جس سے یادداشت، فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور سیکھنے کی طاقت بہتر ہوتی ہے۔ طویل عرصے تک باقاعدہ ورزش کرنے سے دماغی بیماریوں کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق روزانہ صرف 30 منٹ کی واک بھی دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ صحت مند جسم انسان کے موڈ اور حوصلے کو بہتر بناتا ہے، جس کے نتیجے میں دماغ زیادہ فعال اور چاق و چوبند رہتا ہے۔

خالی پیٹ پھل کھانا فائدہ مند یا نقصان دہ؟

خالی پیٹ پھل کھانا فائدہ مند یا نقصان دہ؟

اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ خالی پیٹ پھل کھانا صحت کے لیے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق اس کا جواب ہر فرد کے ہاضمے پر منحصر ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کا نظامِ ہاضمہ درست ہو تو خالی پیٹ پھل کھانا نقصان دہ نہیں بلکہ فائدہ بھی دے سکتا ہے۔ پھل جلد ہضم ہو جاتے ہیں، جسم کو پانی فراہم کرتے ہیں اور ہلکی پھلکی توانائی بھی دیتے ہیں، اس لیے انہیں دن کے کسی بھی وقت کھایا جا سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق صحت مند ہاضمے والے افراد کے لیے صبح خالی پیٹ پھل کھانا دن کی شروعات کے لیے بہتر ہو سکتا ہے۔ اس سے توانائی ملتی ہے اور جسم میں پانی کی کمی بھی پوری ہوتی ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ کچھ افراد جن کا معدہ حساس ہوتا ہے، انہیں خالی پیٹ پھل کھانے سے گیس، تیزابیت یا پیٹ میں تکلیف ہو سکتی ہے۔ ایسے افراد عام طور پر خالی پیٹ پھل کھانے سے گریز کرتے ہیں۔ غذائی ماہرین کے مطابق کچھ پھل، خاص طور پر ترش یا زیادہ ریشہ دار پھل، خالی پیٹ کھانے سے معدے میں جلن یا تکلیف پیدا کر سکتے ہیں۔ معدے کی حساسیت، سوزش یا اسہال کے مریضوں کو خالی پیٹ پھل کھانے میں احتیاط برتنی چاہیے۔ ماہرین کے مطابق خالی پیٹ کھانے کے لیے نسبتاً محفوظ پھلوں میں پپیتا، تربوز، کیلا، سیب اور بیریز شامل ہیں، جبکہ سنگترہ، انناس، امرود اور ناشپاتی جیسے پھل احتیاط سے کھانے چاہییں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پھل کھانے کا کوئی ایک مقررہ وقت نہیں ہوتا۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان اپنے جسم کے ردِعمل کو سمجھے۔ اگر خالی پیٹ پھل کھانے سے توانائی اور سکون محسوس ہو تو یہ فائدہ مند ہے، لیکن اگر معدے میں بے آرامی ہو تو بہتر ہے کہ پھل کھانے سے پہلے ہلکا ناشتہ کر لیا جائے۔

مکئی: ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟

مکئی: ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟

مکئی دنیا بھر میں ایک قدیم اور مقبول اناج ہے جو اپنی غذائی خصوصیات کی وجہ سے بہت سے ممالک کی خوراک کا حصہ ہے۔ یہ فائبر، وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسیڈینٹس سے بھرپور ہوتا ہے، جو جسم کی قوت مدافعت بڑھانے اور بیماریوں سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین غذائیت کے مطابق مکئی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مکمل طور پر نقصان دہ نہیں، بلکہ صحیح مقدار اور مناسب طریقے سے استعمال کرنے پر یہ صحت مند غذا کا حصہ بن سکتی ہے۔ ذیابیطس کے مریض مکئی کو مختلف طریقوں سے کھا سکتے ہیں، جیسے کہ گرل یا اُبال کر، سلاد یا ہلکی تلی ہوئی سبزیوں کے ساتھ، سوپ یا اسٹو میں پکاکر، یا سبزیوں کے ساتھ روسٹ کر کے۔ ذائقہ بڑھانے کے لیے لیموں کا رس، ہلکی جڑی بوٹیاں یا مصالحے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ پروسس شدہ یا میٹھے مکئی کے پکوان خون میں شکر کی سطح جلد بڑھا سکتے ہیں، اس لیے ان سے پرہیز ضروری ہے۔ فائبر کی زیادہ مقدار کی وجہ سے مکئی چاول کے مقابلے میں بہتر انتخاب ہے کیونکہ یہ دیرپا توانائی فراہم کرتا ہے اور گلیسیمک لوڈ بھی کم ہوتا ہے۔ اس لیے ذیابیطس کے مریض مکئی کو اپنی روزمرہ غذا میں شامل کرنے سے پہلے مقدار اور استعمال کے طریقے پر توجہ دیں اور معالج کی ہدایت کو ترجیح دیں

زیتون کا تیل: دل کی بیماری اور موٹاپے سے بچاؤ، ہڈیوں کے لیے بھی فائدہ مند

زیتون کا تیل: دل کی بیماری اور موٹاپے سے بچاؤ، ہڈیوں کے لیے بھی فائدہ مند

زیتون کا تیل انسانی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے اور یہ واحد تیل ہے جو جسم میں چربی میں تبدیل نہیں ہوتا۔ حالیہ طبی تحقیقات کے مطابق زیتون کا تیل استعمال کرنے والے افراد دل کی بیماریوں اور موٹاپے سے محفوظ رہتے ہیں۔ زیتون کا تیل نہ صرف دل کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ یہ جوڑوں اور پٹھوں کے درد، سانس کی بیماریوں، کولیسٹرول کے مسائل، بلڈ پریشر، گردوں کے امراض اور فالج سے بچاؤ میں بھی مددگار ہے۔ ہڈیوں کے لیے زیتون کا تیل خاص طور پر ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل ہڈیوں کی صحت کے لیے بے حد مفید ہے۔ اس کے قدرتی اجزاء ہڈیوں کو مضبوط بناتے ہیں، ہڈیوں کے گھلنے کو روکتے ہیں اور آسٹیوپوروسس جیسے مرض کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔ زیتون کے تیل میں موجود پولی فینولز اور اولیک ایسڈ ہڈیوں کے خلیوں کی سرگرمی بڑھاتے ہیں اور نئی ہڈی بنانے کے عمل کو بہتر بناتے ہیں۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹس ہڈیوں کو فری ریڈیکلز کے نقصان سے محفوظ رکھتے ہیں اور ہڈیوں کے بکھرنے (Bone Resorption) کے عمل کو روکتے ہیں۔ مزید برآں، زیتون کے تیل میں موجود اولیوکینتھال سوزش کم کرنے والا ایک قدرتی مرکب ہے جو جوڑوں کے درد اور آسٹیوپوروسس میں فائدہ مند ہے۔ یہ آنتوں میں کیلشیم کے جذب کو بھی بہتر بناتا ہے، جو ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے۔ تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ میڈیٹرینین ڈائٹ، جس میں زیتون کا تیل اہم جزو ہوتا ہے، عمر رسیدہ افراد میں ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ کے خطرے کو کم کرتی ہے۔ ایک تحقیق میں روزانہ 50 ملی لیٹر ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل استعمال کرنے والے افراد کی ہڈیوں کی کثافت میں خاطر خواہ بہتری دیکھی گئی، خاص طور پر وہ لوگ جو پہلے سے آسٹیوپوروسس کے شکار تھے۔

موسم سرما میں گُڑ کے فوائد اور احتیاطی تدابیر

موسم سرما میں گُڑ کے فوائد اور احتیاطی تدابیر

 گُڑ ایک قدرتی اور روایتی میٹھا ہے جو گنے کے رس سے تیار کیا جاتا ہے اور پاکستان میں صدیوں سے مٹھائیوں، کھیر، حلوے اور چائے میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ سردیوں میں گُڑ کا استعمال خاص طور پر بڑھ جاتا ہے کیونکہ ماہرین کے مطابق یہ جسم میں حرارت پیدا کرنے اور نزلہ، زکام اور کھانسی جیسی بیماریوں میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ غذائی ماہرین کے مطابق گُڑ سفید چینی کے مقابلے میں کم پراسیس شدہ ہوتا ہے اور اس میں وٹامن بی ون، بی ٹو، بی سکس، وٹامن سی کے علاوہ آئرن، میگنیشیم، پوٹاشیم اور کیلشیم جیسے منرلز موجود ہوتے ہیں۔ 100 گرام گُڑ میں تقریباً 380 سے 390 کیلوریز پائی جاتی ہیں اور یہ توانائی فراہم کرنے کا اچھا ذریعہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گُڑ خون میں شوگر کی سطح کو چینی کے مقابلے میں آہستہ بڑھاتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے۔ سردیوں میں محدود مقدار میں گُڑ کا استعمال جسم کو گرم رکھنے، قوتِ مدافعت بڑھانے، ہیموگلوبن کی سطح بہتر بنانے، ہاضمے کو سہارا دینے اور گلے کی خراش یا کھانسی میں آرام دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم زیادہ مقدار میں گُڑ کا استعمال وزن بڑھا سکتا ہے اور ذیابیطس کے مریضوں کو اس میں خاص احتیاط برتنی چاہیے۔ بعض افراد میں گُڑ الرجی یا معدے کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بہتر یہی ہے کہ چینی کی جگہ گُڑ کو محدود اور اعتدال سے استعمال کیا جائے تاکہ صحت کے فوائد حاصل ہو سکیں۔

بچوں کے دماغ کی نشوونما: ابتدائی عمر میں درست پرورش کیوں ضروری ہے؟

بچوں کے دماغ کی نشوونما: ابتدائی عمر میں درست پرورش کیوں ضروری ہے؟

بچوں کی ذہنی نشوونما ان کی زندگی کے مستقبل کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بچے کی پیدائش سے لے کر پانچ سال کی عمر تک کا عرصہ دماغی ترقی کے لیے نہایت اہم ہوتا ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ تیزی سے سیکھنے، سمجھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق بچے کا دماغ ماحول، والدین کے رویّے، خوراک اور جذباتی توجہ سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیار، توجہ اور مثبت گفتگو بچے کے دماغی خلیات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جبکہ سخت رویہ اور ذہنی دباؤ بچے کی ذہنی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق بچوں کے ساتھ کہانیاں سنانا، سوال جواب کرنا، کھیل کود اور تخلیقی سرگرمیاں ان کی یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہیں۔ اس کے علاوہ متوازن غذا، خاص طور پر دودھ، پھل، سبزیاں اور پروٹین دماغی نشوونما کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی بھی بچوں کے دماغ پر منفی اثر ڈالتی ہے، اس لیے والدین کو چاہیے کہ بچوں کے سونے اور جاگنے کا ایک باقاعدہ نظام بنائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ موبائل فون اور اسکرین ٹائم کو محدود رکھنا بھی ذہنی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر بچوں کی ابتدائی عمر میں ذہنی، جذباتی اور تعلیمی ضروریات کا خیال رکھا جائے تو وہ نہ صرف بہتر سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ایک متوازن اور پُراعتماد شخصیت کے حامل بنتے ہیں۔

بنا جم اور سخت ڈائٹنگ: وزن کم کرنے کا اسمارٹ اور سائنسی طریقہ

بنا جم اور سخت ڈائٹنگ: وزن کم کرنے کا اسمارٹ اور سائنسی طریقہ

اکثر لوگ وزن کم کرنے کا نام سنتے ہی پریشان ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے ذہن میں سخت ورزشیں اور بھوکا رہنا آتا ہے۔ لیکن جدید میڈیکل سائنس اب "اسمارٹ ویٹ لاس" پر یقین رکھتی ہے۔ آپ اپنی پسند کا کھانا کھاتے ہوئے بھی خود کو فٹ کر سکتے ہیں، بس آپ کو اپنا انداز بدلنا ہوگا۔ ذیل میں وہ جدید فارمولا ہے جو آپ کی زندگی بدل سکتا ہے: 1. پلیٹ کو ترتیب دیں: 80/20 کا جادوئی تناسب آپ کو اپنی پسندیدہ بریانی یا روٹی چھوڑنے کی ضرورت نہیں، بس اس کی مقدار کو بیلنس کرنا سیکھیں۔ اپنی پلیٹ کے 80 فیصد حصے کو پروٹین (جیسے گوشت، انڈے، مچھلی) اور تازہ سبزیوں سے بھریں، جبکہ باقی 20 فیصد میں اپنی پسند کی کاربوہائیڈریٹ (روٹی، چاول یا میٹھا) رکھیں۔     فائدہ: اس سے آپ کا معدہ دیر تک بھرا محسوس کرے گا اور خون میں شوگر لیول متوازن رہے گا، جس سے چربی بننے کا عمل رک جاتا ہے۔ 2. سورج کے ساتھ اپنا کھانا جوڑیں (Circadian Fasting) سخت روزوں کے بجائے ایک سادہ اصول اپنائیں: "سورج غروب، کھانا بند"۔ رات سات بجے تک اپنا آخری کھانا کھا لیں اور پھر اگلے دن صبح آٹھ بجے ناشتہ کریں۔  سائنس: یہ 12 سے 14 گھنٹے کا وقفہ آپ کے جسم کو "سیلف کلیننگ" موڈ پر لے جاتا ہے جہاں وہ توانائی کے لیے اسٹور شدہ چربی کو جلانا شروع کر دیتا ہے۔ 3. میٹابولک واک: کم وقت، زیادہ فائدہ جم میں گھنٹوں دوڑنے سے بہتر ہے کہ آپ اپنی روزمرہ کی زندگی میں یہ دو تبدیلیاں لائیں:     پوسٹ میل واک: ہر بار کھانے کے بعد صرف 10 منٹ کی چہل قدمی کریں۔ یہ خون میں موجود گلوکوز کو فوری استعمال کر لیتی ہے اور اسے پیٹ کی چربی بننے سے روکتی ہے۔  حرکت میں برکت (NEAT): سستی چھوڑیں! فون پر بات کرتے ہوئے چلیں، لفٹ کے بجائے سیڑھیاں چڑھیں اور گھر کے چھوٹے موٹے کام خود کریں۔ یہ "غیر محسوس ورزش" جم کی تھکا دینے والی ٹریننگ سے زیادہ کارگر ہے۔ 4. وزن گھٹانے والا قدرتی ٹانک (ACV) سیب کا سرکہ (Apple Cider Vinegar) وزن کم کرنے کی دوڑ میں ایک بہترین ساتھی ہے۔  طریقہ استعمال: ایک گلاس نیم گرم پانی میں ایک چمچ سرکہ ملا کر دن میں ایک بار (ناشتے سے پہلے یا دوپہر کے کھانے سے پہلے) پی لیں۔ یہ آپ کے میٹابولزم کو تیز کرتا ہے اور انسولین کی حساسیت کو بہتر بنا کر ضدی چربی پگھلاتا ہے۔ حرفِ آخر وزن کم کرنا کوئی سزا نہیں بلکہ خود سے محبت کا نام ہے۔ جب آپ کافی نیند لیتے ہیں، پانی کا استعمال بڑھاتے ہیں اور ان سادہ اصولوں پر عمل کرتے ہیں، تو آپ کا جسم خود بخود فٹنس کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ یاد رکھیں، چھوٹی تبدیلیاں ہی بڑے نتائج لاتی ہیں

مٹی میں کھیلنا بچوں کے مدافعتی نظام (Immunity) کے لیے بہترین ہے

مٹی میں کھیلنا بچوں کے مدافعتی نظام (Immunity) کے لیے بہترین ہے

حالیہ طبی تحقیقات نے یہ حیران کن انکشاف کیا ہے کہ جو بچے مٹی، مٹیالے میدانوں اور فطرت کے قریب کھیلتے ہیں، وہ ان بچوں کے مقابلے میں زیادہ صحت مند ہوتے ہیں جو ہر وقت جراثیم سے پاک (Sanitized) ماحول میں بند رہتے ہیں۔ اس خبر کے اہم اور معلوماتی پہلو:     مضبوط مدافعتی نظام: مٹی میں موجود قدرتی اور بے ضرر جراثیم جب بچے کے جسم کے رابطے میں آتے ہیں، تو اس کا مدافعت کا نظام (Immune System) تربیت یافتہ ہوتا ہے۔ یہ نظام مستقبل میں الرجی، دمہ (Asthma) اور پیٹ کی بیماریوں کے خلاف لڑنے کے قابل بن جاتا ہے۔     ذہنی تناؤ میں کمی: ماہرین کے مطابق مٹی میں ایک خاص قسم کا بیکٹیریا (Mycobacterium vaccae) پایا جاتا ہے جو انسانی دماغ میں 'سیروٹونن' (خوشی کا ہارمون) پیدا کرتا ہے، جس سے بچوں کا موڈ خوشگوار رہتا ہے اور ان کی بے چینی کم ہوتی ہے۔     سیکھنے کی صلاحیت: فطرت کے قریب کھیلنے سے بچوں کے مشاہدے کی طاقت بڑھتی ہے۔ کیڑے مکوڑے، پودے اور مٹی کی مختلف ساختیں ان کے تجسس کو ابھارتی ہیں۔ والدین کے لیے پیغام: والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو بالکل صاف ستھرا رکھنے کی دھن میں انہیں باہر کی دنیا سے دور نہ کریں۔ ہفتے میں چند بار انہیں پارک یا کسی ایسی جگہ ضرور لے جائیں جہاں وہ مٹی اور گھاس سے کھیل سکیں۔ ایک اور مختصر مگر اہم خبر: "بچوں کی نیند اور قد کا تعلق" جدید تحقیق کے مطابق بچوں کے قد بڑھنے والے ہارمونز (Growth Hormones) سب سے زیادہ اس وقت خارج ہوتے ہیں جب بچہ رات کی گہری نیند میں ہوتا ہے۔ اگر بچہ رات دیر تک جاگتا ہے، تو اس کی جسمانی نشوونما متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

انگور: سبز یا سیاہ، کون سا زیادہ مفید ہے؟ ماہرین نے بتا دیا

انگور: سبز یا سیاہ، کون سا زیادہ مفید ہے؟ ماہرین نے بتا دیا

انگور اپنی غذائیت اور ذائقے کی وجہ سے سب کی پسندیدہ پھلوں میں شامل ہے۔ اس وقت انگور کا موسم عروج پر ہے اور بازار میں مختلف رنگوں اور اقسام کے انگور دستیاب ہیں، جن میں سبز، سرخ اور سیاہ انگور شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق سبز اور سیاہ انگور دونوں صحت کے لیے فائدہ مند ہیں، لیکن سیاہ انگور میں اینٹی آکسیڈنٹس، آئرن اور وٹامنز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو دل، دماغ اور جلد کے لیے خاص طور پر مفید ہیں۔ سبز انگور میں کیلوریز کم اور فائبر زیادہ ہوتا ہے، جو نظامِ ہاضمہ کے لیے بہتر ہے۔ دونوں اقسام دل کی صحت بہتر بنانے، بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے، مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے اور خون کی کمی دور کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ ایک کپ سیاہ انگور میں تقریباً 104 گرام کیلوریز، 27.3 گرام کاربوہائیڈریٹ اور 1.1 گرام پروٹین ہوتا ہے، جبکہ اس میں وٹامن سی، وٹامن کے، تھائیامن، رائبوفلاون، وٹامن بی سکس، پوٹاشیم، کاپر اور میگنیز کی بھی معقول مقدار موجود ہوتی ہے۔ سیاہ انگور میں ریسویراٹرول اور فلیوونائڈز جیسے اینٹی آکسیڈنٹس بھی زیادہ ہوتے ہیں، جو جسم کو فری ریڈیکلز سے بچاتے ہیں اور مختلف امراض سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ سیاہ انگور جگر کو زہریلے مادوں سے پاک کرنے اور جگر کے فعل کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ہیں، جس سے جسم کی مجموعی صحت بہتر ہوتی ہے۔ انگور کھاتے وقت احتیاط ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کر رہے ہیں، تو انگور زیادہ مقدار میں کھانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ گردے کے مسائل والے افراد کے لیے بھی زیادہ انگور نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ انگور کی زیادہ مقدار سردرد، متلی اور قے کا سبب بن سکتی ہے۔ انگور کے زیادہ فوائد کے لیے سفید انگور کی بجائے سرخ یا سیاہ انگور کھانے کی سفارش کی جاتی ہے۔

بلوچستان میں پولیو مہم کے دوران 3 ہزار والدین کا قطرے پلانے سے انکار

بلوچستان میں پولیو مہم کے دوران 3 ہزار والدین کا قطرے پلانے سے انکار

بلوچستان میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کی تعداد سامنے آ گئی ہے۔ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کے حکام کے مطابق صوبے بھر میں پولیو کے خلاف مہم 15 سے 21 دسمبر تک جاری رہی۔ ای او سی حکام کا کہنا ہے کہ سات روزہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران 99 فیصد ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا گیا۔ تاہم اس کے باوجود صوبے کے مختلف اضلاع میں 3 ہزار والدین نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا۔ حکام کے مطابق انکاری والدین کو قائل کرنے کے لیے آگاہی اور فالو اپ سرگرمیاں جاری ہیں تاکہ ہر بچے کو پولیو جیسے موذی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔

ایک سفید بال توڑنے سے باقی بال بھی سفید ہو جاتے ہیں؟ سائنسی حقیقت کیا ہے

ایک سفید بال توڑنے سے باقی بال بھی سفید ہو جاتے ہیں؟ سائنسی حقیقت کیا ہے

بالوں میں سفیدی کو عموماً بڑھتی عمر کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن آج کل کم عمر افراد میں بھی سفید بال عام ہوتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجوہات میں ذہنی دباؤ، غیر متوازن غذا، نیند کی کمی، فضائی آلودگی اور جینیاتی مسائل شامل ہیں۔ ایسے میں جب سر پر پہلا سفید بال نظر آتا ہے تو اکثر لوگ گھبرا کر اسے توڑ دیتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ خدشہ بھی ہوتا ہے کہ کہیں اس سے مزید بال سفید نہ ہو جائیں۔ ماہر امراضِ جلد ڈاکٹر شیوانگی رانا کے مطابق یہ بات محض ایک غلط فہمی ہے کہ ایک سفید بال توڑنے سے باقی بال بھی سفید ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سر کے ہر بال کا فولیکل الگ ہوتا ہے، اس لیے ایک بال نکالنے سے دوسرے بالوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ تاہم بار بار بال توڑنے کی عادت نقصان دہ ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے بالوں کی جڑ کمزور ہو جاتی ہے اور اس جگہ بال پتلے ہو سکتے ہیں یا اُگنا بند بھی ہو سکتے ہیں۔ بالوں کا قدرتی رنگ میلانین نامی مادے سے بنتا ہے، جو خاص خلیات تیار کرتے ہیں۔ عمر بڑھنے یا طرزِ زندگی کے منفی اثرات کی وجہ سے جب یہ خلیات کمزور ہو جاتے ہیں تو میلانین بننا کم ہو جاتا ہے اور بال سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ایک بار بال سفید ہو جائے تو وہ دوبارہ قدرتی طور پر سیاہ نہیں ہو سکتا، البتہ اچھی عادات اپنا کر مزید بالوں کے سفید ہونے کی رفتار کو سست کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین صحت کا مشورہ ہے کہ سفید بالوں سے بچاؤ کے لیے اچھی نیند، ذہنی دباؤ میں کمی، متوازن غذا، سگریٹ نوشی سے پرہیز اور ڈاکٹر کے مشورے سے ضروری وٹامنز کا استعمال کیا جائے۔ مختصر یہ کہ ایک سفید بال توڑنے سے مزید بال سفید نہیں ہوتے، اصل مسئلہ ہماری عمر اور طرزِ زندگی ہے، جس پر توجہ دینا سب سے زیادہ ضروری ہے۔