وزن کم کرنے والے انجیکشن پٹھوں کو نقصان پہنچا کر عمر 10 سال بڑھا سکتے ہیں، ماہرین کا انتباہ
وزن کم کرنے والے مشہور انجیکشنز کے بارے میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان کا استعمال جسمانی عمر کو 10 سال تک بڑھا سکتا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق یہ دوائیں وزن تو کم کرتی ہیں لیکن اس عمل میں پٹھوں کا تیز نقصان ہوتا ہے، جو درمیانی عمر اور بزرگ افراد میں کمزوری اور گرنے کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ کینیڈین محققین کا کہنا ہے کہ بعض صورتوں میں پٹھوں کو ہونے والا نقصان موٹاپے کی سرجری، کینسر کے علاج یا 10 سال کی قدرتی عمر بڑھنے کے برابر پایا گیا ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق کچھ مطالعات میں جسمانی ماس کا تقریباً 11 فیصد تک کم ہونا ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دیگر تحقیقات میں وزن کم ہونے کے 20 سے 50 فیصد حصے کو پٹھوں کے گھٹنے سے منسوب کیا گیا۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ انجیکشن استعمال کرنے والوں کے لیے ہفتے میں 2 سے 3 بار طاقت بڑھانے والی مشقیں اور تقریباً 150 منٹ کی معتدل یا سخت ورزش کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف پٹھوں اور ہڈیوں کا ماس برقرار رہتا ہے بلکہ وزن دوبارہ بڑھنے کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ چونکہ دنیا بھر میں وزن کم کرنے والی ان ادویات کا استعمال بڑھ رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان کے ساتھ جسمانی تربیت کو بھی معمول بنایا جائے۔ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ورزش انجیکشن کے استعمال کے دوران اور اسے ترک کرنے کے بعد بھی پٹھوں اور ہڈیوں کو مضبوط رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اسی لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ ایسے افراد ہفتے میں کم از کم 2 سے 3 مرتبہ باقاعدہ مزاحمتی ایکسرسائز ضرور کریں۔
وزن کم کرنے والے انجیکشن پٹھوں کو نقصان پہنچا کر عمر 10 سال بڑھا سکتے ہیں، ماہرین کا انتباہ
رپورٹ : اقصی بلوچ
وزن کم کرنے والے مشہور انجیکشنز کے بارے میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان کا استعمال جسمانی عمر کو 10 سال تک بڑھا سکتا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق یہ دوائیں وزن تو کم کرتی ہیں لیکن اس عمل میں پٹھوں کا تیز نقصان ہوتا ہے، جو درمیانی عمر اور بزرگ افراد میں کمزوری اور گرنے کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ کینیڈین محققین کا کہنا ہے کہ بعض صورتوں میں پٹھوں کو ہونے والا نقصان موٹاپے کی سرجری، کینسر کے علاج یا 10 سال کی قدرتی عمر بڑھنے کے برابر پایا گیا ہے۔
برطانوی اخبار کے مطابق کچھ مطالعات میں جسمانی ماس کا تقریباً 11 فیصد تک کم ہونا ریکارڈ کیا گیا، جبک
ہ دیگر تحقیقات میں وزن کم ہونے کے 20 سے 50 فیصد حصے کو پٹھوں کے گھٹنے سے منسوب کیا گیا۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ انجیکشن استعمال کرنے والوں کے لیے ہفتے میں 2 سے 3 بار طاقت بڑھانے والی مشقیں اور تقریباً 150 منٹ کی معتدل یا سخت ورزش کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف پٹھوں اور ہڈیوں کا ماس برقرار رہتا ہے بلکہ وزن دوبارہ بڑھنے کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ چونکہ دنیا بھر میں وزن کم کرنے والی ان ادویات کا استعمال بڑھ رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان کے ساتھ جسمانی تربیت کو بھی معمول بنایا جائے۔ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ورزش انجیکشن کے استعمال کے دوران اور اسے ترک کرنے کے بعد بھی پٹھوں اور ہڈیوں کو مضبوط رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اسی لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ ایسے افراد ہفتے میں کم از کم 2 سے 3 مرتبہ باقاعدہ مزاحمتی ایکسرسائز ضرور کریں۔