بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت صوبے بھر میں ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے، جس کا مقصد عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات فراہم کرنا اور صحت کے نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
4 فروری کو دنیا بھر میں ورلڈ کینسر ڈے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد کینسر سے متعلق آگاہی، ابتدائی تشخیص اور بروقت علاج کی حوصلہ افزائی ہے۔ سال 2026 کے لیے مہم کا مرکزی موضوع "United by Unique" رکھا گیا ہے، جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہر مریض کا سفر منفرد ہے، مگر کینسر کے خلاف جدوجہد میں ہم سب متحد ہیں۔
صوبائی وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی زیرِ صدارت پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس میں دیہی اور دور دراز علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولیات، کارکردگی، شفافیت اور نگرانی کے نظام کا جائزہ لیا گیا، جبکہ صحت کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔
مصروف زندگی میں ہر کسی کے لیے جم جانا ممکن نہیں، لیکن صحت مند رہنے کے لیے یہ ضروری بھی نہیں۔ روزمرہ روٹین میں 10 سے 15 منٹ کی چھوٹی ورزشیں شامل کر کے دل کی صحت بہتر بنائی جا سکتی ہے، وزن قابو میں رکھا جا سکتا ہے اور ذہنی سکون حاصل کیا جا سکتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق معمولی مگر مستقل جسمانی سرگرمی صحت مند زندگی کے لیے کافی ہے۔
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے ٹراما سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زیرِ علاج زخمی افراد کی عیادت کی۔ اس موقع پر ایم ڈی ٹراما سینٹر ڈاکٹر کامران کاسی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیرِ صحت نے ڈاکٹرز اور سیکیورٹی عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
نِپاہ وائرس ایک نہایت خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کی شرحِ اموات 40 سے 75 فیصد تک ہو سکتی ہے اور تاحال اس کی کوئی ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں۔ وائرس زیادہ تر پھل کھانے والی چیڑیوں سے پھیلتا ہے اور قریبی انسانی رابطے سے بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ جنوری 2026 میں بھارت میں چند کیسز سامنے آئے جنہیں کنٹرول کر لیا گیا ہے، جبکہ پاکستان میں اب تک کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا اور خطرہ انتہائی کم ہے۔
بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن (بی ایچ سی سی) کے کلینیکل گورننس اینڈ اسٹینڈرڈز فریم ورک ڈائریکٹوریٹ کے زیرِ اہتمام نجی اسپتالوں کی لیبارٹریوں اور پریکٹس کرنے والے پیتھالوجسٹس کے لیے اہم مریض حفاظتی شعبہ جات (Key Patient Safety Areas – KPSA) پر ایک آگاہی سیشن منعقد کیا گیا۔ یہ سیشن بی ایچ سی سی کے ہیڈ آفس، کوئٹہ میں منعقد ہوا۔
آگاہی سیشن میں پندرہ (15) مختلف ہیلتھ کیئر اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ سیشن کا مقصد کلینیکل گورننس، کوالٹی اشورنس، مریضوں کے تحفظ اور مقررہ ہیلتھ کیئر معیارات کی پاسداری کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا۔ شرکاء کو ریگولیٹری تقاضوں، معیاری عملی طریقۂ کار (Standard Operating Procedures) اور معیاری اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا تاکہ محفوظ، درست اور قابلِ اعتماد تشخیصی خدمات کو یقینی بنایا جا سکے۔ بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن صوبے بھر میں صحت کی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے، معیار بندی کو فروغ دینے اور مریض مرکز لیبارٹری خدمات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ بی ایچ سی سی کے مطابق، معیاری، جوابدہ اور مریض دوست صحت کی سہولیات کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ صوبے میں محکمہ صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری لائی گئی ہے۔ کنٹریکٹ بنیادوں پر تقریباً 3000 ڈاکٹرز کی بھرتی اور 164 بیسک ہیلتھ یونٹس کو فعال کر کے دور دراز علاقوں کے عوام کو بنیادی طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا رہی ہیں۔ حکومت صحت کے شعبے کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
کوئٹہ میں بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال میں سولرائزیشن منصوبے کا افتتاح کر دیا گیا، جس کا مقصد ہسپتال کے اہم شعبوں کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنا ہے۔ منصوبے سے مریضوں کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
محکمہ صحت بلوچستان اور اقوامِ متحدہ کے ادارے UNHCR کے درمیان صحت مراکز کی سولرائزیشن کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ منصوبے کا مقصد بلوچستان میں صحت کے مراکز کو پائیدار اور مستقل توانائی کی فراہمی یقینی بنانا، اخراجات میں کمی اور ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دینا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سینئر حکام نے کوئٹہ میں محکمہ صحت بلوچستان کا دورہ کیا، جہاں صوبے میں جاری ڈیجیٹل ہیلتھ اقدامات اور جدید ہیلتھ انفارمیشن سسٹمز پر بریفنگ دی گئی۔ وفد نے ان اقدامات کو صحت کے نظام میں شفافیت، بہتری اور گورننس کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان پولیو کے خاتمے کے لیے ایک انتہائی اہم صوبہ ہے۔ انہوں نے فرنٹ لائن ورکرز، خصوصاً خواتین ورکرز کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور لگن کی بدولت گزشتہ 15 ماہ سے بلوچستان میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ 2 فروری سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم میں اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں۔
محکمہ صحت بلوچستان کا ایک اہم ریویو اجلاس وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی سربراہی میں کوئٹہ میں منعقد ہوا، جس میں چیف سیکریٹری شکیل قادر خان نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں صحت کے شعبے میں ڈیجیٹلائزیشن، مانیٹرنگ سسٹمز اور شفافیت بڑھانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز، کوئٹہ نے بلوچستان کا پہلا میڈیکل ریسرچ جرنل “بولان جرنل آف میڈیکل اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز” باضابطہ طور پر لانچ کر دیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر شبیر احمد لہڑی نے طبی تحقیق کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جرنل نوجوان محققین کے لیے ایک مؤثر اور قابل اعتماد پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔
کینیڈا اور آسٹریلیا کے اداروں کی مشترکہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ فش آئل سپلیمنٹس لینے سے دل اور قلبی امراض کے خطرات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، خاص طور پر وہ مریض جو گردوں کی ناکامی پر ڈائلائسز کروا رہے ہیں۔
نیو انگلینڈ جنرل آف میڈیسن میں شائع تحقیق کے مطابق، فش آئل سپلیمنٹس استعمال کرنے والے مریضوں میں ہارٹ اٹیک، فالج اور دل کی بیماریوں کی وجہ سے اموات کے واقعات دیگر مریضوں کے مقابلے میں کم دیکھنے میں آئے۔ فش آئل میں موجود اومیگا 3 فیٹی ایسڈز دل کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور شدید قلبی خطرات سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا کہ یہ سپلیمنٹس نہ صرف موجودہ دل کی بیماری کے خطرات کم کرنے میں مؤثر ہیں بلکہ مریضوں کی مجموعی صحت پر بھی مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ نتائج عام صحت مند افراد پر لاگو نہیں کیے جا سکتے اور ہر شخص کو سپلیمنٹس استعمال کرنے سے قبل اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق یہ تحقیق دل کی بیماریوں کے علاج اور روک تھام کے میدان میں ایک اہم پیش رفت ہے اور اس کے نتائج مستقبل میں نئے معیارات قائم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
نوجوانوں میں گردے کی پتھری کے کیسز میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کی بڑی وجہ جدید طرزِ زندگی، پانی کی کمی اور غیر متوازن خوراک ہے۔ پہلے یہ مرض زیادہ تر درمیانی عمر یا بزرگ افراد میں دیکھا جاتا تھا، لیکن اب کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق زیادہ نمکین، مسالے دار اور فاسٹ فوڈ کے ساتھ پروٹین سے بھرپور غذا جسم میں نمکیات کی مقدار بڑھا دیتی ہے۔ جب پانی کم پیا جائے تو یہ نمکیات پیشاب کے ذریعے خارج ہونے کی بجائے جمع ہو کر پتھری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ جینیاتی عوامل، موٹاپا، میٹابولک بیماریاں اور طویل عرصے تک درد کش ادویات کا استعمال بھی اس مرض کو بڑھاوا دیتا ہے۔
گردے کی پتھری کی عام علامات میں کمر یا پہلو میں شدید درد، متلی، قے، پیشاب کے دوران جلن، بار بار واش روم جانا اور پیشاب میں خون آنا شامل ہیں۔ بعض اوقات پتھری ابتدائی مراحل میں خاموش رہتی ہے، جس سے مریض بے خبر رہتا ہے اور پتھری وقت کے ساتھ بڑی ہو جاتی ہے۔
تشخیص کے لیے الٹراساؤنڈ، سی ٹی اسکین اور یورین ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ علاج پتھری کے سائز اور مقام پر منحصر ہوتا ہے: چھوٹی پتھریاں زیادہ پانی پینے اور دواؤں سے خود بخود خارج ہو جاتی ہیں، جبکہ بڑی پتھریوں کے لیے لیتھو ٹرپسی، اینڈوسکوپک یا سرجری کے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ احتیاط سب سے بہتر علاج ہے۔ نوجوانوں کے لیے سفارش کی جاتی ہے کہ روزانہ کم از کم 2 سے 2.5 لیٹر پانی پیا جائے، نمک اور فاسٹ فوڈ سے پرہیز کیا جائے، تازہ اور متوازن غذا استعمال کی جائے، باقاعدہ ورزش کی جائے، وزن پر قابو رکھا جائے اور وقتاً فوقتاً طبی معائنہ کروایا جائے۔ بغیر طبی مشورے کے گھریلو ٹوٹکوں یا غیر مستند نسخوں پر انحصار خطرناک پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔
عمر بڑھنا ایک قدرتی عمل ہے جس میں جسمانی خلیات اور اعضاء آہستہ آہستہ اپنی مرمت اور تجدید کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، جسم کے خلیے کمزور یا غیر فعال ہونے لگتے ہیں۔ بڑھاپے کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا، لیکن اس کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
بڑھاپے کی واضح علامات
جلد پر جھریاں، سفید بال، اور عمر کے دھبے عام علامات ہیں۔ اندرونی طور پر عضلات اور ہڈیاں بھی کمزور ہو جاتی ہیں اور دماغ کے خلیات کی کارکردگی میں کمی آتی ہے، جس کی وجہ سے یادداشت اور توجہ متاثر ہو سکتی ہے۔
جسمانی ڈھانچے میں تبدیلی
عمر بڑھنے کے ساتھ کارٹلیج نرم ہو جاتی ہے، جس سے ناک اور کان کچھ بڑے لگنے لگتے ہیں۔ ہڈیاں اور پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں، جس کے باعث قد اور جسمانی طاقت میں کمی آتی ہے۔
سماعت اور بینائی پر اثرات
عمر بڑھنے کے ساتھ کان اور آنکھوں کے خلیات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ آنکھ کا لینس سخت اور دھندلا ہو جاتا ہے، جس سے قریب کی چیزیں دیکھنے میں دشواری (پریسبیوپیا) اور موتیابند جیسی مسائل پیدا ہو سکتی ہیں۔
بڑھاپا تیز کرنے والی عادات
سورج کی شدید روشنی، آلودگی، ای سگریٹ اور غیر متوازن غذا جلد اور خلیات کی صحت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان عوامل کی وجہ سے جلد سے کولیجن کم ہوتا ہے اور جلد اپنی لچک کھو دیتی ہے۔
عمر بڑھنے کے اہم مراحل
عام طور پر عمر کے دو اہم مراحل میں جسمانی تبدیلیاں زیادہ محسوس ہوتی ہیں: 40 کے بعد اور 60 سال کی عمر کے قریب۔ 60 سال کے بعد مدافعتی نظام بھی کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے اور بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
بڑھاپے کی رفتار سست کرنے کے طریقے
اگرچہ بڑھاپے کو روکا نہیں جا سکتا، مگر صحت مند عادات سے اس کی رفتار کم کی جا سکتی ہے۔ باقاعدہ ورزش، متوازن غذا (سبزیاں، پھل، پروٹین، اور سالم اناج)، مناسب نیند اور ذہنی سکون جسم اور دماغ کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنے سے انسانی عمر 100 سال یا اس سے زیادہ تک بڑھائی جا سکتی ہے، اور زندگی کا معیار بہتر رکھا جا سکتا ہے۔
رکن بلوچستان اسمبلی و سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) کے ریجنل سینٹر کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ادارے کی کارکردگی کو سراہا اور سربراہ ریجنل سینٹر پروفیسر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کو قومی و بین الاقوامی اعزازات پر مبارکباد دی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بعض اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ کے تحت علاج متاثر ہونے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت اور متعلقہ حکام سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی مریض کا علاج ہرگز نہیں رکنا چاہیے اور اسپتالوں کے بقایاجات فوری ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکام کے مطابق فنڈز کی کمی کے باعث علاج متاثر ہوا، تاہم جلد ادائیگیاں کر کے مسئلہ حل کر لیا جائے گا۔
وزیر اعظم یوتھ پروگرام کوئٹہ کی کوآرڈینیٹر فاطمہ خان نے سیول ہسپتال کے تھیلیسیمیا سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جدید طبی سہولیات کا جائزہ لیا، عملے کی کارکردگی کو سراہا اور متاثرہ بچوں کے لیے مزید حکومتی اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔