مہاسے کیوں ہوتے ہیں اور انہیں کیسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟ ماہرین کی وضاحت

مہاسے کیوں ہوتے ہیں اور انہیں کیسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟ ماہرین کی وضاحت

مہاسے ایک عام جلدی مسئلہ ہیں جو زیادہ تر نوجوانوں میں نظر آتا ہے، لیکن بعض اوقات بڑوں کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عام خیال ہے کہ چکنی یا زیادہ تیل والی غذائیں جیسے برگر اور پیزا مہاسوں کی وجہ بنتی ہیں، مگر ماہرین کے مطابق یہ بالکل درست نہیں۔ ماہرین کے مطابق مہاسوں کی سب سے بڑی وجہ جسم میں اینڈروجن ہارمون کا بڑھ جانا ہے۔ یہ ہارمون بلوغت کے دوران لڑکوں اور لڑکیوں دونوں میں بڑھتا ہے، جس سے جلد میں تیل (سیبم) زیادہ بننے لگتا ہے۔ جب یہ تیل مردہ جلد کے خلیات کے ساتھ مل جاتا ہے تو مسام بند ہو جاتے ہیں، اور اس ماحول میں بیکٹیریا بڑھ کر دانے یا مہاسے پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ہارمونی تبدیلیاں جیسے پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS) یا بعض مانع حمل ادویات بھی مہاسوں کا سبب بن سکتی ہیں۔ ذہنی دباؤ، غیر متوازن غذا، نیند کی کمی اور ماحولیاتی عوامل بھی جلد کی صحت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ زیادہ میٹھی اشیاء اور سادہ کاربوہائیڈریٹس مہاسوں کو بڑھا سکتے ہیں۔ مہاسوں کو کنٹرول کرنے کے آسان طریقے: صفائی کا خیال رکھیں: جلد کو دن میں دو بار ہلکے کلینزر سے صاف کریں تاکہ مسام بند نہ ہوں۔ موئسچرائزر استعمال کریں: ہلکا، پانی پر مبنی موئسچرائزر جلد کی نمی برقرار رکھتا ہے اور تیل کے توازن میں مدد دیتا ہے۔ متوازن غذا: سبزیاں، پھل، پروٹین اور وٹامنز سے بھرپور غذا مہاسوں کو کم کرنے میں مددگار ہے۔ اسٹریس کم کریں: ذہنی دباؤ جلد پر برا اثر ڈال سکتا ہے، اس لیے مراقبہ، ورزش یا ہلکی سرگرمیاں فائدہ مند ہیں۔ ہارمونی مسائل کا علاج: اگر مہاسے مسلسل رہیں تو ماہرِ جلد سے رجوع کریں تاکہ ہارمونی یا دیگر طبی مسائل کا علاج کیا جا سکے۔ زیادہ میٹھی اور تیز غذا سے پرہیز: ریفائنڈ شوگر اور زیادہ کاربوہائیڈریٹس والے کھانے مہاسوں کو بڑھا سکتے ہیں۔ مختصر یہ کہ مہاسے صرف چکنی غذا کی وجہ سے نہیں بلکہ ہارمونز، جینیات اور طرزِ زندگی کے مجموعی اثرات سے پیدا ہوتے ہیں۔ مناسب صفائی، متوازن غذا، ذہنی سکون اور طبی رہنمائی کے ذریعے انہیں کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

 


مہاسے کیوں ہوتے ہیں اور انہیں کیسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟ ماہرین کی وضاحت


رپورٹ : اقصی بلوچ

مہاسے ایک عام جلدی مسئلہ ہیں جو زیادہ تر نوجوانوں میں نظر آتا ہے، لیکن بعض اوقات بڑوں کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عام خیال ہے کہ چکنی یا زیادہ تیل والی غذائیں جیسے برگر اور پیزا مہاسوں کی وجہ بنتی ہیں، مگر ماہرین کے مطابق یہ بالکل درست نہیں۔

ماہرین کے مطابق مہاسوں کی سب سے بڑی وجہ جسم میں اینڈروجن ہارمون کا بڑھ جانا ہے۔ یہ ہارمون بلوغت کے دوران لڑکوں اور لڑکیوں دونوں میں بڑھتا ہے، جس سے جلد میں تیل (سیبم) زیادہ بننے لگتا ہے۔ جب یہ تیل مردہ جلد کے خلیات کے ساتھ مل جاتا ہے تو مسام بند ہو جاتے ہیں، اور اس ماحول میں بیکٹیریا بڑھ کر دانے یا مہاسے پیدا کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ، ہارمونی تبدیلیاں جیسے پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS) یا بعض مانع حمل ادویات بھی مہاسوں کا سبب بن سکتی ہیں۔ ذہنی دباؤ، غیر متوازن غذا، نیند کی کمی اور ماحولیاتی عوامل بھی جلد کی صحت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ زیادہ میٹھی اشیاء اور سادہ کاربوہائیڈریٹس مہاسوں کو بڑھا سکتے ہیں۔

مہاسوں کو کنٹرول کرنے کے آسان طریقے:

  1. صفائی کا خیال رکھیں: جلد کو دن میں دو بار ہلکے کلینزر سے صاف کریں تاکہ مسام بند نہ ہوں۔

  2. موئسچرائزر استعمال کریں: ہلکا، پانی پر مبنی موئسچرائزر جلد کی نمی برقرار رکھتا ہے اور تیل کے توازن میں مدد دیتا ہے۔

  3. متوازن غذا: سبزیاں، پھل، پروٹین اور وٹامنز سے بھرپور غذا مہاسوں کو کم کرنے میں مددگار ہے۔

  4. اسٹریس کم کریں: ذہنی دباؤ جلد پر برا اثر ڈال سکتا ہے، اس لیے مراقبہ، ورزش یا ہلکی سرگرمیاں فائدہ مند ہیں۔

  5. ہارمونی مسائل کا علاج: اگر مہاسے مسلسل رہیں تو ماہرِ جلد سے رجوع کریں تاکہ ہارمونی یا دیگر طبی مسائل کا علاج کیا جا سکے۔

  6. زیادہ میٹھی اور تیز غذا سے پرہیز: ریفائنڈ شوگر اور زیادہ کاربوہائیڈریٹس والے کھانے مہاسوں کو بڑھا سکتے ہیں۔

مختصر یہ کہ مہاسے صرف چکنی غذا کی وجہ سے نہیں بلکہ ہارمونز، جینیات اور طرزِ زندگی کے مجموعی اثرات سے پیدا ہوتے ہیں۔ مناسب صفائی، متوازن غذا، ذہنی سکون اور طبی رہنمائی کے ذریعے انہیں کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔


 


Related News

بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت صوبے بھر میں ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے، جس کا مقصد عوام کو معیاری...
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
4 فروری کو دنیا بھر میں ورلڈ کینسر ڈے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد کینسر سے متعلق آگاہی، ابتدائی تشخیص اور بروق...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی زیرِ صدارت پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس میں دیہی اور دور دراز علاقو...
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
مصروف زندگی میں ہر کسی کے لیے جم جانا ممکن نہیں، لیکن صحت مند رہنے کے لیے یہ ضروری بھی نہیں۔ روزمرہ روٹین میں...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے ٹراما سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زیرِ علاج زخمی افراد کی عیادت کی۔ اس م...
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس ایک نہایت خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کی شرحِ اموات 40 سے 7...