خاموشی کو آواز دینے والی ٹیکنالوجی: فالج کے مریضوں کے لیے اے آئی کا نیا تحفہ

خاموشی کو آواز دینے والی ٹیکنالوجی: فالج کے مریضوں کے لیے اے آئی کا نیا تحفہ

جدید سائنس اور مصنوعی ذہانت نے ایک اور ایسا سنگِ میل عبور کر لیا ہے جو فالج اور بولنے میں دشواری کا شکار افراد کی زندگی بدل سکتا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک منفرد wearable ڈیوائس تیار کی ہے جسے ری وائس کہا جا رہا ہے۔ یہ جدید کالر گلے کے گرد پہنا جاتا ہے اور اُن لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے جو بیماری یا فالج کے بعد اپنی آواز کھو بیٹھتے ہیں۔فالج کے کئی مریضوں کو ڈس آرتھریا جیسی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس میں الفاظ ادا کرنا تو دور کی بات، بعض اوقات بولنے کی کوشش بھی ناکام ہو جاتی ہے۔ ری وائس ایسی ہی ناکام یا ادھوری کوششوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ڈیوائس میں لگے نہایت حساس سینسر گلے کے پٹھوں کی معمولی حرکت کو بھی محسوس کر لیتے ہیں، چاہے آواز باہر نہ آ سکے۔یہ سینسرز جب کمزور اشاروں کو پکڑتے ہیں تو مصنوعی ذہانت انہیں الفاظ اور آواز میں ڈھال دیتی ہے۔ یوں مریض کے ذہن میں موجود بات واضح اور قابلِ سماعت آواز کی صورت میں سامنے آ جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی روزمرہ استعمال کے لیے آرام دہ ہے اور اس میں کسی قسم کی سرجری یا امپلانٹ کی ضرورت نہیں، جو اسے دیگر پیچیدہ طریقۂ علاج سے زیادہ محفوظ بناتی ہے۔ری وائس کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ صرف الفاظ تک محدود نہیں بلکہ بولنے والے کی جذباتی کیفیت کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو پارکنسنز، موٹر نیورون ڈیزیز اور دیگر اعصابی امراض کے مریضوں کے لیے بھی مؤثر بنانے پر کام جاری ہے۔ یہ تحقیق جنوری 2026 میں بین الاقوامی سائنسی جریدے نیچر کمیونی کیشنز میں شائع ہوئی، جس کے بعد اسے طبی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو عام دستیابی کے لیے مزید طبی آزمائشوں سے گزرنا ہوگا، تاہم ماہرین پُرامید ہیں کہ آنے والے برسوں میں یہ لاکھوں افراد کی زندگی آسان بنا سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت فالج کے علاج میں دیگر شعبوں میں بھی انقلاب لا رہی ہے۔ کہیں دماغی سگنلز کو جسم کے مفلوج حصوں سے جوڑ کر حرکت بحال کی جا رہی ہے تو کہیں اسمارٹ لباس کے ذریعے کمزور اعضا کی بحالی ممکن بنائی جا رہی ہے۔ ری وائس جیسے جدید حل دراصل مریضوں کو صرف بولنے کی سہولت نہیں دیتے بلکہ انہیں دوبارہ خود اعتمادی، سماجی رابطہ اور باوقار زندگی کی طرف لوٹانے کی کوشش ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنس اب خاموشی کو بھی آواز دینے کے قابل ہو چکی ہے۔

خاموشی کو آواز دینے والی ٹیکنالوجی: فالج کے مریضوں کے لیے اے آئی کا نیا تحفہ
تحریر :  عروبہ شہزاد
 
جدید سائنس اور مصنوعی ذہانت نے ایک اور ایسا سنگِ میل عبور کر لیا ہے جو فالج اور بولنے میں دشواری کا شکار افراد کی زندگی بدل سکتا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک منفرد wearable ڈیوائس تیار کی ہے جسے ری وائس کہا جا رہا ہے۔ یہ جدید کالر گلے کے گرد پہنا جاتا ہے اور اُن لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے جو بیماری یا فالج کے بعد اپنی آواز کھو بیٹھتے ہیں۔فالج کے کئی مریضوں کو ڈس آرتھریا جیسی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس میں الفاظ ادا کرنا تو دور کی بات، بعض اوقات بولنے کی کوشش بھی ناکام ہو جاتی ہے۔ ری وائس ایسی ہی ناکام یا ادھوری کوششوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ڈیوائس میں لگے نہایت حساس سینسر گلے کے پٹھوں کی معمولی حرکت کو بھی محسوس کر لیتے ہیں، چاہے آواز باہر نہ آ سکے۔یہ سینسرز جب کمزور اشاروں کو پکڑتے ہیں تو مصنوعی ذہانت انہیں الفاظ اور آواز میں ڈھال دیتی ہے۔ یوں مریض کے ذہن میں موجود بات واضح اور قابلِ سماعت آواز کی صورت میں سامنے آ جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی روزمرہ استعمال کے لیے آرام دہ ہے اور اس میں کسی قسم کی سرجری یا امپلانٹ کی ضرورت نہیں، جو اسے دیگر پیچیدہ طریقۂ علاج سے زیادہ محفوظ بناتی ہے۔ری وائس کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ صرف الفاظ تک محدود نہیں بلکہ بولنے والے کی جذباتی کیفیت کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو پارکنسنز، موٹر نیورون ڈیزیز اور دیگر اعصابی امراض کے مریضوں کے لیے بھی مؤثر بنانے پر کام جاری ہے۔
یہ تحقیق جنوری 2026 میں بین الاقوامی سائنسی جریدے نیچر کمیونی کیشنز میں شائع ہوئی، جس کے بعد اسے طبی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو عام دستیابی کے لیے مزید طبی آزمائشوں سے گزرنا ہوگا، تاہم ماہرین پُرامید ہیں کہ آنے والے برسوں میں یہ لاکھوں افراد کی زندگی آسان بنا سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت فالج کے علاج میں دیگر شعبوں میں بھی انقلاب لا رہی ہے۔ کہیں دماغی سگنلز کو جسم کے مفلوج حصوں سے جوڑ کر حرکت بحال کی جا رہی ہے تو کہیں اسمارٹ لباس کے ذریعے کمزور اعضا کی بحالی ممکن بنائی جا رہی ہے۔
ری وائس جیسے جدید حل دراصل مریضوں کو صرف بولنے کی سہولت نہیں دیتے بلکہ انہیں دوبارہ خود اعتمادی، سماجی رابطہ اور باوقار زندگی کی طرف لوٹانے کی کوشش ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنس اب خاموشی کو بھی آواز دینے کے قابل ہو چکی ہے۔


Related News

آرٹیمس ٹو مشن کا دلچسپ پہلو: “رائز” نامی ننھا کھلونا بھی خلاء کی جانب روانہ
آرٹیمس ٹو مشن کا دلچسپ پہلو: “رائز” نامی ننھا کھلونا بھی خلاء کی جانب روانہ
ناسا کے آرٹیمس ٹو مشن میں “رائز” نامی ایک چھوٹا نرم کھلونا شامل کیا گیا ہے جو خلا میں پہنچ کر بے وزنی (زیرو گر...
ڈرون کا مؤثر توڑ، چین نے مائیکروویو شعاعوں والا جدید ہتھیار تیار کر لیا
ڈرون کا مؤثر توڑ، چین نے مائیکروویو شعاعوں والا جدید ہتھیار تیار کر لیا
چین نے ڈرون حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک جدید ہتھیار تیار کر لیا ہے، جو مائیکروویو شعاعوں کے ذریعے بیک وق...
کیا ٹھنڈے پانی سے نہانے سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے؟ ماہرین نے خبردار کر دیا
کیا ٹھنڈے پانی سے نہانے سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے؟ ماہرین نے خبردار کر دیا
ٹھنڈے پانی سے نہانا بعض افراد کے لیے تازگی اور چستی کا باعث بن سکتا ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ عمل...
گوگل نے جیمنائی میں سب سے بڑی اپ ڈیٹ متعارف کروا دی
گوگل نے جیمنائی میں سب سے بڑی اپ ڈیٹ متعارف کروا دی
گوگل نے اپنے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل جیمنائی میں اب تک کی سب سے بڑی اپ ڈیٹ متعارف کرائی ہے جسے ’پرسنل انٹیلی...
پاکستان نے اپنا پہلا سرکاری اے آئی اوتار ‘لیلا’ لانچ کر دیا
پاکستان نے اپنا پہلا سرکاری اے آئی اوتار ‘لیلا’ لانچ کر دیا
وفاقی حکومت نے پاکستان کا پہلا سرکاری مصنوعی ذہانت (اے آئی) اوتار 'لیلا' لانچ کر دیا ہے۔ وزیرِ اطلاعات و ٹیکنا...
امریکاکا 2030 تک چاند پر نیوکلیئر ری ایکٹر لگانے کا منصوبہ
امریکاکا 2030 تک چاند پر نیوکلیئر ری ایکٹر لگانے کا منصوبہ
امریکی خلائی ایجنسی ناسا اور امریکی محکمہ توانائی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2030 تک چاند پر نیوکلیئر ری ایکٹر نصب...