ناسا کے آرٹیمس ٹو مشن میں “رائز” نامی ایک چھوٹا نرم کھلونا شامل کیا گیا ہے جو خلا میں پہنچ کر بے وزنی (زیرو گریوٹی) کی نشاندہی کرے گا۔ یہ کھلونا ایک بچے نے ڈیزائن کیا ہے اور اس میں لاکھوں افراد کے نام بھی شامل ہیں، جو اس مشن میں عالمی عوامی شرکت کی علامت ہے۔
جدید سائنس اور مصنوعی ذہانت نے ایک اور ایسا سنگِ میل عبور کر لیا ہے جو فالج اور بولنے میں دشواری کا شکار افراد کی زندگی بدل سکتا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک منفرد wearable ڈیوائس تیار کی ہے جسے ری وائس کہا جا رہا ہے۔ یہ جدید کالر گلے کے گرد پہنا جاتا ہے اور اُن لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے جو بیماری یا فالج کے بعد اپنی آواز کھو بیٹھتے ہیں۔فالج کے کئی مریضوں کو ڈس آرتھریا جیسی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس میں الفاظ ادا کرنا تو دور کی بات، بعض اوقات بولنے کی کوشش بھی ناکام ہو جاتی ہے۔ ری وائس ایسی ہی ناکام یا ادھوری کوششوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ڈیوائس میں لگے نہایت حساس سینسر گلے کے پٹھوں کی معمولی حرکت کو بھی محسوس کر لیتے ہیں، چاہے آواز باہر نہ آ سکے۔یہ سینسرز جب کمزور اشاروں کو پکڑتے ہیں تو مصنوعی ذہانت انہیں الفاظ اور آواز میں ڈھال دیتی ہے۔ یوں مریض کے ذہن میں موجود بات واضح اور قابلِ سماعت آواز کی صورت میں سامنے آ جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی روزمرہ استعمال کے لیے آرام دہ ہے اور اس میں کسی قسم کی سرجری یا امپلانٹ کی ضرورت نہیں، جو اسے دیگر پیچیدہ طریقۂ علاج سے زیادہ محفوظ بناتی ہے۔ری وائس کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ صرف الفاظ تک محدود نہیں بلکہ بولنے والے کی جذباتی کیفیت کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو پارکنسنز، موٹر نیورون ڈیزیز اور دیگر اعصابی امراض کے مریضوں کے لیے بھی مؤثر بنانے پر کام جاری ہے۔
یہ تحقیق جنوری 2026 میں بین الاقوامی سائنسی جریدے نیچر کمیونی کیشنز میں شائع ہوئی، جس کے بعد اسے طبی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو عام دستیابی کے لیے مزید طبی آزمائشوں سے گزرنا ہوگا، تاہم ماہرین پُرامید ہیں کہ آنے والے برسوں میں یہ لاکھوں افراد کی زندگی آسان بنا سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت فالج کے علاج میں دیگر شعبوں میں بھی انقلاب لا رہی ہے۔ کہیں دماغی سگنلز کو جسم کے مفلوج حصوں سے جوڑ کر حرکت بحال کی جا رہی ہے تو کہیں اسمارٹ لباس کے ذریعے کمزور اعضا کی بحالی ممکن بنائی جا رہی ہے۔
ری وائس جیسے جدید حل دراصل مریضوں کو صرف بولنے کی سہولت نہیں دیتے بلکہ انہیں دوبارہ خود اعتمادی، سماجی رابطہ اور باوقار زندگی کی طرف لوٹانے کی کوشش ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنس اب خاموشی کو بھی آواز دینے کے قابل ہو چکی ہے۔
چین نے ڈرون حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک جدید ہتھیار تیار کر لیا ہے، جو مائیکروویو شعاعوں کے ذریعے بیک وقت کئی ڈرونز کو ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چین کی سرکاری اسلحہ ساز کمپنی نورینکو (NORINCO) نے اس جدید ہتھیار کو ہریکین 3000 کا نام دیا ہے۔ یہ ہتھیار ٹرک پر نصب کیا جاتا ہے اور تقریباً 3 کلومیٹر دور تک اڑنے والے ڈرونز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس ہتھیار سے خارج ہونے والی طاقتور اور غیر مرئی مائیکروویو شعاعیں ڈرونز کے برقی نظام کو متاثر کر کے انہیں مکمل طور پر ناکارہ بنا دیتی ہیں۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ایک ہی وقت میں ڈرونز کے جھنڈ کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی جدید جنگی حکمتِ عملی میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جبکہ مغربی دفاعی ماہرین بھی اسے ڈرون حملوں کے خلاف ایک مؤثر اور جدید حل قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں ایسے ہتھیار میدانِ جنگ میں ڈرون کے بڑھتے ہوئے استعمال کو روکنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
ٹھنڈے پانی سے نہانا بعض افراد کے لیے تازگی اور چستی کا باعث بن سکتا ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ عمل بلڈ پریشر میں اچانک اضافے کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو ہائی بلڈ پریشر یا دل کی بیماریوں میں مبتلا ہوں۔
ماہرین کے مطابق جب ٹھنڈا پانی کھلی جلد پر پڑتا ہے تو خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں تاکہ جسم کی حرارت محفوظ رہے، لیکن اس سے خون کی نالیوں میں دباؤ بڑھ جاتا ہے اور دل کو خون پمپ کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے، جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے۔
ٹھنڈے پانی کے اثر سے سیمپیتھیٹک اعصابی نظام بھی متحرک ہو جاتا ہے، جس کے باعث تناؤ کے ہارمونز خارج ہوتے ہیں، دل کی دھڑکن تیز اور مضبوط ہو جاتی ہے، اور یہ سب عوامل مل کر بلڈ پریشر میں اچانک اضافہ پیدا کر سکتے ہیں۔
احتیاطی طور پر ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ نہانے کے پانی کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ کم کیا جائے، جسمانی علامات پر نظر رکھی جائے، اور دل یا بلڈ پریشر کے مریض ٹھنڈے پانی سے نہانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں، تاکہ صحت پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔
گوگل نے اپنے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل جیمنائی میں اب تک کی سب سے بڑی اپ ڈیٹ متعارف کرائی ہے جسے ’پرسنل انٹیلی جنس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس اپ ڈیٹ کو اے آئی کے شعبے میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نئے فیچر کی مدد سے جیمنائی گوگل ایپس میں صارف کے ذاتی ڈیٹا کا تجزیہ کر کے سوالات کے زیادہ تفصیلی جوابات فراہم کرے گا۔ پرسنل انٹیلی جنس کے تحت جیمنائی گوگل سرچ، جی میل، گوگل فوٹوز اور یوٹیوب سمیت متعدد ایپس تک رسائی حاصل کر سکے گا۔
کمپنی کے مطابق اس فیچر کی مدد سے جیمنائی ایک حقیقی اے آئی پرسنل اسسٹنٹ کی شکل اختیار کر لے گا۔ مثال کے طور پر اگر صارف گاڑی کے کسی مسئلے کے بارے میں سوال کرے تو جیمنائی گوگل ایپس میں موجود معلومات کی بنیاد پر یہ جان سکے گا کہ صارف کس گاڑی کا مالک ہے، گوگل فوٹوز کے ذریعے گاڑی کی حالت دیکھ سکے گا اور یوٹیوب سے متعلقہ ویڈیوز کی مدد سے مسئلے کا حل تجویز کرے گا۔
گوگل کا کہنا ہے کہ پرسنل انٹیلی جنس فیچر ابتدائی طور پر امریکا میں متعارف کرایا جا رہا ہے اور یہ گوگل اے آئی پرو اور اے آئی الٹرا سبسکرپشن پلانز کے صارفین کے لیے دستیاب ہوگا۔ کمپنی کے مطابق آنے والے مہینوں میں اس فیچر کو دیگر ممالک اور مفت صارفین تک بھی توسیع دی جائے گی جبکہ اسے گوگل سرچ کے اے آئی موڈ کا حصہ بنانے کا بھی منصوبہ ہے۔
وفاقی حکومت نے پاکستان کا پہلا سرکاری مصنوعی ذہانت (اے آئی) اوتار 'لیلا' لانچ کر دیا ہے۔ وزیرِ اطلاعات و ٹیکنالوجی نے تقریب کے موقع پر کہا کہ لیلا عوامی اور نجی شعبوں میں اے آئی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
خصوصی حکومتی تقریب میں سینئر پالیسی سازوں اور ٹیکنالوجی ماہرین نے شرکت کی اور اس اقدام کو ملک میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ترقی کی راہ ہموار کرنے والا قرار دیا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ یہ اے آئی اوتار نہ صرف علامتی ہے بلکہ تعلیمی معاونت، شہری سہولیات میں رہنمائی اور متعدد زبانوں میں صارفین سے بات چیت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حکومت کی حکمتِ عملی کے تحت 2030 تک ایک لاکھ افراد کو اے آئی میں تربیت فراہم کی جائے گی، ایک ہزار اے آئی وینچرز کو فنڈنگ دی جائے گی، 400 یونیورسٹی منصوبوں کی حمایت کی جائے گی اور 50 شعبہ جاتی اے آئی ماڈلز تیار کیے جائیں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے معاشی اور تکنیکی ترقیاتی مقاصد کے حصول میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
امریکی خلائی ایجنسی ناسا اور امریکی محکمہ توانائی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2030 تک چاند پر نیوکلیئر ری ایکٹر نصب کریں گے۔ یہ ری ایکٹر نیوکلیئر فیوژن کے ذریعے توانائی پیدا کرے گا، جو ناسا کے آنے والے آرٹیمس مشنز اور مستقبل میں مریخ کے مشنز کے لیے استعمال ہوگی۔
دونوں اداروں نے اس منصوبے کے لیے ایک یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت ری ایکٹر کو چاند کے مدار میں بھی نصب کیا جائے گا۔ ناسا کے مطابق یہ توانائی فراہم کرنے والا نظام چاند اور مستقبل کی اسپیس مشنز کے لیے مستقل اور بھروسہ مند حل ہوگا۔
یہ منصوبہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دسمبر کے ایگزیکٹو آرڈر کے بعد آیا، جس میں خلائی تحقیق اور امریکی خلا میں برتری کے لیے نیوکلیئر ری ایکٹرز پر زور دیا گیا تھا۔
امریکی محکمہ توانائی کے سیکریٹری کرس رائٹ کے مطابق، یہ منصوبہ نیوکلیئر توانائی اور خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک بڑی تکنیکی کامیابی ثابت ہوگا اور مستقبل میں خلائی توانائی کے لیے نئے دروازے کھولے گا۔
ماہرین کے مطابق الیف ماڈل اے کار مسافروں کو ٹریفک کے ہجوم سے بچا کر جلد منزل تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ 385 کلو وزنی کار 117 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکتی ہے اور دو مسافروں کو 110 میل دور تک لے جا سکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق کار میں نصب آٹھ پروپلر اسے ہوا میں اڑاتے ہیں، جبکہ اگر یہ زمین پر چلے تو 200 میل تک جا سکتی ہے۔ اس اڑن کار کی قیمت تقریباً 2 لاکھ 35 ہزار پاؤنڈ ہے، تاہم کمپنی کو پہلے ہی ساڑھے تین ہزار کاروں کے آرڈر موصول ہو چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے چھ ماہ میں امریکہ کی فضاؤں میں یہ کاریں مختلف جگہوں پر اڑتی دکھائی دیں گی، جس سے شہری نقل و حمل کے نظام میں ایک نئی تبدیلی متوقع ہے۔
چین نے چاند پر وقت معلوم کرنے کے لیے دنیا کا پہلا جدید ٹائم کیپنگ سافٹ ویئر تیار کر لیا ہے، جو مستقبل میں چاند پر لینڈنگ، نیویگیشن اور خلائی مشنز کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔
ماہرین کے مطابق چاند پر کششِ ثقل زمین کے مقابلے میں کم ہے، جس کی وجہ سے وہاں گھڑیاں زمین کی گھڑیوں سے قدرے تیز چلتی ہیں۔ یہ فرق روزانہ تقریباً 56 مائیکرو سیکنڈ کا ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ فرق بہت معمولی ہے، لیکن وقت کے ساتھ بڑھ کر نیویگیشن اور لینڈنگ جیسے حساس کاموں میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
چینی محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں جب چاند پر مشنز کی تعداد بڑھے گی اور وہاں مستقل سرگرمیاں ہوں گی، تو زمینی وقت پر انحصار کرنا قابلِ عمل نہیں رہے گا۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر یہ نیا سافٹ ویئر تیار کیا گیا ہے۔
اس سافٹ ویئر کو لونر ٹائم ایفیمیرس کہا جاتا ہے، جو زمین اور چاند کے وقت کے درمیان فرق کو آسان طریقے سے ظاہر کرتا ہے۔ اس کی مدد سے صارفین بغیر کسی پیچیدہ حساب کتاب کے دونوں مقامات کے وقت کا درست موازنہ کر سکتے ہیں۔
یہ منصوبہ نانجنگ میں واقع پرپل ماؤنٹین آبزرویٹری کے سائنس دانوں نے تیار کیا ہے۔ محققین کے مطابق یہ ماڈل انتہائی درست ہے اور ایک ہزار سال کے عرصے میں بھی اس میں صرف چند نینو سیکنڈ کا فرق آ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ماضی میں چاند کے مشنز کم ہونے کی وجہ سے زمینی وقت ہی استعمال کیا جاتا تھا، لیکن اب یہ طریقہ مؤثر نہیں رہا۔ جیسے جیسے چاند پر خلائی جہازوں اور انسانوں کی موجودگی بڑھے گی، ایک الگ اور درست وقت کے نظام کی ضرورت مزید بڑھتی جائے گی۔
چینی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ سافٹ ویئر ایک ابتدائی قدم ہے اور مستقبل میں چاند پر گھڑیوں کے مکمل نیٹ ورک اور ریئل ٹائم نیویگیشن کے لیے اس میں مزید بہتری لائی جائے گی۔
اس وقت چاند پر ایسی کوئی جگہ موجود نہیں جہاں لوگ بیٹھ کر کافی پی سکیں یا آرام کر سکیں، لیکن مستقبل میں چاند پر ہوٹل، سیاحتی اور رہائشی سہولیات قائم کرنے کے منصوبے سنجیدگی سے زیرِ غور ہیں۔
ایک امریکی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ سال 2032 تک چاند پر دنیا کا پہلا ہوٹل قائم کرے گی، جہاں قیام کے خواہش مند سیاحوں کو تقریباً 75 لاکھ پاؤنڈ ادا کرنا ہوں گے۔
رپورٹس کے مطابق ناسا اور نجی خلائی کمپنیوں کے تعاون سے زمین کے گرد مدار میں اسپیس اسٹیشنز کے بعد اب چاند پر مستقل انسانی موجودگی کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں، تاکہ خلائی سیاحت کو حقیقت بنایا جا سکے۔
یاد رہے کہ 1969 میں اپالو 11 مشن کے ذریعے نیل آرم اسٹرانگ اور بز آلڈرن چاند پر قدم رکھنے والے پہلے انسان بنے تھے، اور اب ہوٹل کی تعمیر کو اسی انسانی جستجو کا اگلا مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ منصوبہ گیلیکٹک ریسورسز یوٹیلائزیشن (GRU Space) نامی کمپنی نے پیش کیا ہے، جسے ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس اور مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنی اینویڈیا کی حمایت حاصل ہے۔
کمپنی کے ترجمان کے مطابق ابتدائی بکنگ کے لیے سیاحوں سے ساڑھے سات لاکھ پاؤنڈ بطور ایڈوانس لیے جا رہے ہیں، جبکہ پہلے مرحلے میں ہوٹل میں صرف چار مہمانوں کو قیام کی اجازت دی جائے گی۔
منصوبے کے مطابق ہوٹل کو 2032 میں چاند کی سطح پر اتارا جائے گا، جہاں مہمان پانچ راتیں گزار سکیں گے۔ ہوٹل میں آکسیجن پیدا کرنے کا نظام، ہوا اور پانی کی ری سائیکلنگ، درجہ حرارت پر کنٹرول، ہنگامی انخلا کا سسٹم اور سورج کی خطرناک شعاعوں سے بچاؤ کے لیے ریڈی ایشن شیلٹر موجود ہوگا۔
GRU Space کے بانی 22 سالہ اسکائلر چان کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو مستقبل میں انسان چاند اور مریخ پر زندگی کا تجربہ کر سکیں گے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ کامیابی کی صورت میں ہر سال 12 سیاحتی دورے چاند تک کروائے جائیں گے۔ تاہم سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ انسان خلا میں طویل عرصے تک محفوظ طریقے سے کیسے رہ سکتا ہے۔
منصوبے کے تحت 2029 میں پہلا آزمائشی مشن بھیجا جائے گا، جس میں ہوٹل کا چھوٹا ماڈل چاند پر اتارا جائے گا۔ 2031 میں بڑے انفلیٹیبل ڈھانچے کی تنصیب ہوگی، جبکہ 2032 میں مکمل ہوٹل قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ حتمی ٹکٹ کی قیمت ایک کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ مستقبل میں ہوٹل میں مہمانوں کی تعداد 10 تک بڑھانے کا منصوبہ ہے اور عمارت کو چاند کی مٹی سے بنی اینٹوں سے تعمیر کیا جائے گا۔
GRU Space کا کہنا ہے کہ چاند پر بیس قائم کرنے کے بعد یہی ماڈل مریخ پر بھی دہرایا جائے گا، جہاں آئندہ دہائیوں میں انسانی آبادکاری کا خواب دیکھا جا رہا ہے۔
کیلے کے تنوں سے فائبر بنانے والی جدید مشین پر عالمی پذیرائی
جرمنی میں جاری بین الاقوامی نمائش ہیم ٹیکسٹائل 2026 میں پاکستانی نوجوان انجینئر محمد فراز نے اپنی منفرد اور تخلیقی ایجاد کے ذریعے دنیا بھر کے طالب علموں میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے محمد فراز نے کیلے کے درخت کے تنوں سے فائبر بنانے کی جدید مشین تیار کی، جس پر انہیں عالمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
ایوارڈ جیتنے والی یہ مشین نہ صرف ماحولیاتی تحفظ میں مددگار ہے بلکہ یہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت میں ایک نئی انقلابی تبدیلی کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔ فراز کی تحقیق اور فنی مہارت نے دنیا کے سامنے پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
نمائش میں پاکستان کے پویلین پر غیر ملکی خریداروں کی بڑی تعداد نے پاکستانی مصنوعات کو سراہا، خاص طور پر ان کی کم قیمت، اعلیٰ معیار اور پائیداری کی وجہ سے۔ پاکستانی نمائش کنندگان نے اس کامیابی کو ملکی مصنوعات کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مقبولیت کا موقع قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ہیم ٹیکسٹائل 2026 کے بعد پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی مانگ مزید بڑھے گی۔
یہ کامیابی نہ صرف محمد فراز کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے، جو نوجوانوں میں جدت اور تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود ایک خلا باز کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی، جس کے بعد ناسا نے احتیاطی اقدام کے طور پر پورا مشن وقت سے پہلے ختم کرتے ہوئے عملے کو زمین پر واپس بلا لیا۔
ناسا کے مطابق اسپیس ایکس کے کریو-11 مشن کے چاروں خلا باز بحفاظت زمین پر واپس پہنچ چکے ہیں۔ ڈریگن کیپسول جمعرات کی صبح کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب بحرالکاہل میں سمندر پر اترا۔
عملے میں امریکا کے دو، جاپان کا ایک اور روس کا ایک خلا باز شامل تھا۔ اس وقت بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر مجموعی طور پر سات خلا باز موجود ہیں جو اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
ناسا نے بتایا ہے کہ عملے میں شامل ایک خلا باز ایک سنگین طبی مسئلے کا شکار ہو گیا تھا، جس کے باعث فوری طور پر مشن ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم رازداری کی وجہ سے نہ تو خلا باز کی شناخت ظاہر کی گئی ہے اور نہ ہی بیماری کی نوعیت بتائی گئی ہے۔
روئٹرز کے مطابق اینڈیور نامی ڈریگن کیپسول بدھ کے روز مقامی وقت کے مطابق شام 5 بج کر 20 منٹ پر خلائی اسٹیشن سے الگ ہوا اور زمین کی جانب روانہ ہوا۔ ناسا کی براہِ راست نشریات میں دیکھا گیا کہ خلا باز اپنے کیبن میں نشستوں پر بیٹھے ہوئے حفاظتی لباس اور ہیلمٹ پہنے موجود تھے۔
کریو-11 مشن کو اصل شیڈول سے چند ہفتے پہلے ختم کرنے کا اعلان 8 جنوری کو کیا گیا تھا۔ ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے اس وقت بتایا تھا کہ ایک خلا باز کو فوری طبی معائنے اور علاج کی ضرورت ہے۔
یہ ناسا کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی خلائی مشن کو طبی ایمرجنسی کی وجہ سے وقت سے پہلے ختم کیا گیا ہو۔ ناسا کے حکام کے مطابق یہ طبی مسئلہ کسی حادثے یا خلائی سرگرمی کے دوران چوٹ کا نتیجہ نہیں تھا۔
عملے میں شامل خلا بازوں میں امریکی خلا باز زینا کارڈمین اور مائیک فنکے، جاپانی خلا باز کیمیا یوئی اور روسی خلا نورد اولیگ پلاٹونوف شامل تھے۔ یہ تمام خلا باز اگست میں فلوریڈا سے روانہ ہو کر خلائی اسٹیشن پہنچے تھے۔
گزشتہ ہفتے ایک طے شدہ خلائی چہل قدمی بھی اچانک منسوخ کر دی گئی تھی، جس کی وجہ ناسا نے اس وقت ایک خلا باز سے متعلق طبی تشویش بتائی تھی۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیٹا سینٹرز کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ سے امریکا میں بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی میٹا (فیس بک کی مالک) نے ایٹمی توانائی حاصل کرنے کے اہم معاہدے کر لیے ہیں۔
میٹا نے امریکا کی توانائی فراہم کرنے والی کمپنی فیسٹرا کے ساتھ 20 سالہ معاہدے کیے ہیں، جن کے تحت تین ایٹمی بجلی گھروں سے بجلی خریدی جائے گی۔ ان میں اوہائیو کے پیری اور ڈیوس-بیس ایٹمی پلانٹس، جبکہ پنسلوینیا کا بیور ویلی ایٹمی پلانٹ شامل ہیں۔
کمپنی کے مطابق اوہائیو میں موجود دونوں پلانٹس کی توسیع اور ان کی مدتِ کار بڑھانے کے لیے مالی مدد بھی فراہم کی جائے گی۔ یہ پلانٹس کم از کم 2036 تک کام کرتے رہیں گے، جبکہ بیور ویلی پلانٹ کے ایک ری ایکٹر کو 2047 تک چلانے کا لائسنس حاصل ہے۔
میٹا نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ مستقبل کی توانائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے چھوٹے ماڈیولر ایٹمی ری ایکٹرز میں سرمایہ کاری کرے گی۔ یہ جدید ری ایکٹرز ارب پتی بل گیٹس کی حمایت یافتہ کمپنیوں ٹیرا پاور اور اوکلو تیار کر رہی ہیں۔
یہ چھوٹے ری ایکٹرز سائز میں کم ہوتے ہیں اور ضرورت کے مطابق نصب کیے جا سکتے ہیں۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ مستقبل میں سستے ہوں گے، جبکہ ناقدین کے مطابق ان کی لاگت اب بھی ایک چیلنج ہے۔ اس وقت امریکا میں کوئی بھی چھوٹا ایٹمی ری ایکٹر تجارتی بنیادوں پر فعال نہیں، اور ان منصوبوں کے لیے سرکاری منظوری ضروری ہوگی۔
میٹا کے عالمی امور کے سربراہ جوئیل کپلن کے مطابق، ان معاہدوں کے بعد میٹا امریکا کی تاریخ میں ایٹمی توانائی خریدنے والی نمایاں کمپنیوں میں شامل ہو جائے گی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کے نتیجے میں 2035 تک میٹا کو مجموعی طور پر 6.6 گیگا واٹ ایٹمی بجلی دستیاب ہوگی، جبکہ ایک عام ایٹمی ری ایکٹر تقریباً ایک گیگا واٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔
میٹا ٹیرا پاور کے دو ایٹمی ری ایکٹرز کی تیاری میں بھی مالی مدد دے گی، جو 2032 تک 690 میگا واٹ بجلی پیدا کریں گے۔ اس کے علاوہ، اوکلو کے ساتھ شراکت داری کے تحت امید کی جا رہی ہے کہ 2030 تک اوہائیو میں 1.2 گیگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی۔
ماہرین کے مطابق امریکا میں گزشتہ 20 سالوں بعد پہلی بار بجلی کی طلب میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ اسی لیے میٹا سمیت دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں طویل المدت اور قابلِ اعتماد توانائی ذرائع کی تلاش میں ہیں۔
پاکستان کی مشہور نوجوان پروڈیجی ارفع کریم، جنہوں نے کم عمر میں عالمی سطح پر اپنا نام روشن کیا، آج بھی نوجوانوں کے لیے تحریک کا سبب ہیں۔
ارفع کریم 2 جولائی 1995 کو پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے بہت کم عمر میں کمپیوٹر اور آئی ٹی میں مہارت حاصل کی اور مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل بن کر پاکستان کا نام روشن کیا۔ ان کی یہ کامیابی دنیا بھر میں نوجوانوں کے لیے ایک مثال بنی۔
ارفع کریم کا انتقال 14 جنوری 2012 کو لاہور میں ہوا، جب وہ صرف 16 سال کی تھیں۔ ان کی وفات کی وجہ دل اور گردے کی بیماری تھی، جس کا انہوں نے کئی سالوں تک مقابلہ کیا۔
ارفع کریم کی خدمات اور کامیابیاں آج بھی نوجوانوں کو تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ پاکستان میں ہر سال ان کی یاد میں تقریبات اور سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ نوجوان ان کی زندگی سے سبق حاصل کر سکیں۔
ارفع کریم آج بھی پاکستان کی آئی ٹی اور نوجوانوں کی دنیا میں ایک روشن مثال کے طور پر یاد کی جاتی ہیں۔
انڈونیشیا کے جزیرے سولاویزی میں ہونے والی ایک اہم آثارِ قدیمہ کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جدید انسان اور ایک قدیم انسان نما مخلوق نے ممکنہ طور پر ایک ہی غار کو استعمال کیا، اور دونوں ایک ہی دور میں وہاں موجود رہے ہوں گے۔
یہ تحقیق سائنسی جریدے PLOS ONE میں شائع ہوئی ہے، جس کی تفصیلات بین الاقوامی ویب سائٹ نیو اٹلس نے شائع کیں۔ سولاویزی جزیرہ ایشیا اور آسٹریلیا کے درمیان واقع ہے اور قدیم زمانے میں انسانی ہجرت کے اہم راستوں میں شامل رہا ہے، اسی لیے یہ علاقہ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
جزیرے کے جنوبی حصے میں واقع لیانگ بولو بیٹو نامی غار میں 2013 سے کھدائی جاری ہے۔ سائنس دان اب تک تقریباً 8 میٹر گہرائی تک پہنچ چکے ہیں، جہاں سے دو لاکھ سال پرانے آثار ملے ہیں۔
تحقیق کے مطابق تقریباً 40 ہزار سال پہلے یہاں آثارِ قدیمہ میں واضح تبدیلی دیکھی گئی، جو جدید انسانوں کی آمد کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس دور میں جدید پتھر کے اوزار، زیورات، غاروں کے نقش و نگار اور علامتی طرزِ زندگی کے شواہد ملے ہیں۔
اس سے پہلے کی تہوں میں ایسے پتھر کے اوزار دریافت ہوئے ہیں جو ایک قدیم انسان نما مخلوق استعمال کرتی تھی۔ ان اوزاروں کے ساتھ جانوروں، خصوصاً بندروں کی ہڈیاں بھی ملی ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مخلوق شکار کرنے کی اچھی صلاحیت رکھتی تھی۔ تاہم اب تک اس انسان نما مخلوق کے فوسلز نہیں مل سکے، اس لیے اس کی شناخت یقینی طور پر ممکن نہیں ہو سکی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مخلوق ہومو ایریکٹس، ڈینسووانز یا کسی نامعلوم انسان نما نسل سے تعلق رکھتی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ دونوں اقسام ایک ہی وقت میں غار میں موجود تھیں، لیکن شواہد اس امکان کو مضبوط بناتے ہیں۔
محققین کے مطابق لیانگ بولو بیٹو غار انسانی ارتقا کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ کھدائی کا عمل جاری رہے گا، اور امید ہے کہ مزید دریافتیں انسانی تاریخ اور قدیم ہجرت کے بارے میں نئی معلومات سامنے لائیں گی۔
چین نے بجلی پیدا کرنے کا ایک نیا اور ماحول دوست طریقہ کامیابی سے آزما لیا ہے، جو شمسی توانائی پر مبنی ہے اور جدید ٹیکنالوجی کا بہترین نمونہ سمجھا جا رہا ہے۔
چین کے صوبے گانسو کے ایک شہر میں سورج کی روشنی اور نمک کی مدد سے بجلی پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں تقریباً 12 ہزار آئینے سورج کی شعاعوں کو ایک مرکزی ٹاور پر مرکوز کرتے ہیں۔
ان آئینوں کے ذریعے سورج کی روشنی منعکس ہو کر نمک کو گرم کرتی ہے، جس کا درجہ حرارت تقریباً 565 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ اس شدید حرارت کو بعد میں بھاپ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو اسٹیم ٹربائنز کو چلا کر بجلی پیدا کرتی ہے۔
چینی حکام کے مطابق یہ جدید شمسی نظام تقریباً 80 ہزار گھروں کو بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ چین کی توانائی میں خود کفالت کی جانب ایک اہم قدم بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ دنیا کے جدید ترین شمسی توانائی کے منصوبوں میں شامل ہے اور مستقبل میں دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔
ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ جنوبی افریقہ میں رہنے والے شکار کرنے والے انسانوں نے تقریباً 60,000 سال قبل جانوروں کے شکار کے لیے زہریلے تیر استعمال کیے تھے۔ یہ اب تک کے سب سے قدیم زہریلے تیر ہیں۔
تحقیق میں پتہ چلا کہ کوارٹز کے تیر پر پودوں سے حاصل کردہ زہر کے آثار موجود تھے۔ یہ زہر گیفبول پودے (Boophone disticha) سے بنایا جاتا تھا، جسے مقامی شکار آج بھی استعمال کرتے ہیں۔
یہ زہریلے تیر جانوروں کو فوراً نہیں مارتے تھے بلکہ ان کے جسم کو کمزور کر دیتے تھے، تاکہ شکار کرنے والوں کو جانور کا پیچھا کرنے میں آسانی ہو۔
تحقیق کے مطابق زہر میں دو کیمیکلز، buphandrine اور epibuphanisine، موجود تھے جو تیر پر ہزاروں سال بعد بھی باقی ہیں۔ شکار کرنے والے تیر کو زہر لگانے کے لیے پودے کے گچھے کو کاٹ کر یا چبھاکر تیار کرتے تھے اور سورج یا حرارت سے زہر مضبوط کرتے تھے۔ تھوڑی مقدار میں بھی یہ زہر چھوٹے جانوروں کو چند منٹوں میں مار سکتا تھا اور بڑے جانور یا انسانوں پر شدید اثر ڈال سکتا تھا۔
یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ قدیم انسانوں کی سوچنے، منصوبہ بنانے اور شکار کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ تھی۔ اس سے پہلے سب سے پرانی نشاندہی 4,400 سال پرانی مصر کی ہڈیوں والے تیر اور جنوبی افریقہ میں 6,700 سال پرانے تیر سے ہوئی تھی۔ یہ نئی دریافت بتاتی ہے کہ انسانوں نے زہریلے تیر استعمال کرنے کا علم بہت پہلے حاصل کر لیا تھا۔
پاکستان میں طویل انتظار کے بعد بالآخر 5جی سروس کے آغاز کی امیدیں جاگ اٹھی ہیں۔ حکومتی اور ریگولیٹری اداروں کی حالیہ سرگرمیوں کے بعد یہ سوال زور پکڑ گیا ہے کہ آیا رمضان سے پہلے 5جی اسپیکٹرم آکشن ممکن ہو سکے گا یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 5جی آکشن کی تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ پی ٹی اے حکام کے مطابق یہ آکشن 26 فروری کو متوقع ہے اور یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیلی کام آکشن ہوگا، جس میں تقریباً 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پیش کیا جائے گا۔
آکشن کے بعد کامیاب آپریٹرز کو 15 سالہ ٹیکنالوجی نیوٹرل لائسنس دیا جائے گا اور 5جی سروس مرحلہ وار شروع ہوگی۔ پہلے مرحلے میں کم از کم 50 ایم بی پی ایس ڈاؤن لوڈ اسپیڈ کی شرط ہوگی۔ ساتھ ہی 4جی نیٹ ورک کی کوالٹی میں بھی 4 سے 5 گنا اضافہ لازمی ہوگا۔
5جی سروس ابتدائی طور پر ان علاقوں میں دستیاب ہوگی:
اسلام آباد: بلیو ایریا اور ایف-10
کراچی: ڈیفنس اور کلفٹن
لاہور اور دیگر صوبائی دارالحکومتوں کے اہم تجارتی علاقے
پی ٹی اے نے کہا ہے کہ پہلے سال کے دوران آپریٹرز کو پابند کیا جائے گا کہ وہ موجودہ نیٹ ورک سائٹس کے کم از کم 10 فیصد پر 5جی سروس فراہم کریں۔ جہاں 5جی دستیاب ہوگی، وہاں انٹرنیٹ اسپیڈ موجودہ نیٹ ورکس کے مقابلے میں 14 سے 15 گنا زیادہ ہوگی، جبکہ دیگر علاقوں میں صارفین کو بہتر 4جی سروس فراہم کی جائے گی۔
پی ٹی اے نے واضح کیا کہ 5جی نیٹ ورک بیک ورڈ کمپٹیبل ہوگا، یعنی 5جی موبائل فون نہ رکھنے والے صارفین بھی 5جی علاقوں میں بلا تعطل 4جی سروس استعمال کر سکیں گے۔
اسٹار لنک سے متعلق معاملہ ابھی پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ کے پاس زیر غور ہے۔ کلیئرنس کے بعد قانونی تقاضے پورے ہونے پر اسٹار لنک کو بھی لائسنس دیا جائے گا۔
ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کو اپنا انٹرنیٹ نیٹ ورک بڑھانے کے لیے خلا میں مزید 7,500 اسٹار لنک سیٹلائٹس لانچ کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ امریکہ کے وفاقی مواصلاتی کمیشن (FCC) نے اس کے ساتھ کمپنی کے جنریشن 2 اسٹار لنک سیٹلائٹس میں اپگریڈز کی بھی منظوری دی ہے، جس سے اسپیس ایکس دنیا کے مزید علاقوں میں اپنی براڈ بینڈ اور موبائل سروسز فراہم کر سکے گی۔ کمیشن کے بیان کے مطابق، اس منظوری کے تحت کمپنی کو 7,500 اضافی جنریشن 2 سیٹلائٹس بنانے، لانچ کرنے اور انہیں آپریٹ کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے عالمی سطح پر ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سروس کی توسیع ممکن ہوگی۔ واضح رہے کہ موجودہ فعال سیٹلائٹس میں دو تہائی اسٹار لنک کے ہیں اور زمین کے نچلے مدار میں تقریباً 9,000 اسٹار لنک سیٹلائٹس کا نیٹ ورک موجود ہے، جو دنیا بھر میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ فراہم کر رہا ہے۔
سائنس دانوں نے خلا میں ایک بہت بڑا سیارچہ دریافت کیا ہے جو سائز میں تقریباً آٹھ فٹبال میدانوں کے برابر ہے۔
اس سیارچے کو 2025 MN45 کا نام دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اب تک دریافت ہونے والے 499 میٹر سے بڑے سیارچوں میں سب سے زیادہ تیزی سے گھومنے والا سیارچہ ہے۔
یہ سیارچہ تقریباً 709 میٹر چوڑا ہے اور اپنے محور کے گرد صرف 1.88 منٹ میں ایک چکر مکمل کر لیتا ہے۔ 2025 MN45 ہمارے نظامِ شمسی میں موجود سیارچوں کی مرکزی پٹی میں سورج کے گرد گردش کر رہا ہے۔
یہ مرکزی پٹی زمین سے تقریباً 48 کروڑ 28 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جہاں مختلف سائز کے لاکھوں سیارچے موجود ہیں۔ ان میں کچھ سیارچے بہت بڑے بھی ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ تمام سیارچے اپنی جگہ پر حرکت کرتے رہتے ہیں، تاہم کچھ سیارچوں کی رفتار زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی وجوہات میں سورج کی گرمی، دوسرے سیارچوں سے ٹکراؤ اور ان کی ساخت شامل ہے۔