پنجگور میں عالمی یومِ تھیلیسیمیا کے موقع پر آگاہی واک اور تقریب کا انعقاد
عالمی یومِ تھیلیسیمیا کے موقع پر پنجگور میں قندیل تھیلیسیمیا کیئر سنٹر کے زیرِ اہتمام آگاہی واک اور تقریب منعقد کی گئی۔ واک میں ڈاکٹرز، طلبہ، اساتذہ، مریضوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب میں تھیلیسیمیا سے بچاؤ، بروقت تشخیص اور شادی سے قبل ٹیسٹ کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ مقررین نے بتایا کہ پنجگور میں 300 سے زائد مریض موجود ہیں جبکہ 150 سے زائد بچوں کا علاج جاری ہے۔ حکومت سے مریضوں کے لیے بہتر طبی سہولیات اور مفت ادویات فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
عالمی یومِ تھیلیسیمیا کے موقع پر قندیل تھیلیسیمیا کیئر سنٹر پنجگور کے زیرِ اہتمام آگاہی واک اور ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد عوام میں تھیلیسیمیا جیسے خطرناک موروثی مرض کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا۔
رپورٹ:عروبہ
آگاہی واک ڈی اویئسز اسکول سے شروع ہو کر نیو جرگہ ہال پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی، جس میں سماجی شخصیات، ڈاکٹرز، مختلف اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ و اساتذہ، تھیلیسیمیا کے مریضوں، ان کے والدین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کے دوران طلبہ نے تھیلیسیمیا کے موضوع پر تقاریر پیش کیں اور شرکاء کو اس بیماری کی وجوہات، احتیاطی تدابیر اور علاج سے متعلق آگاہی فراہم کی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ تھیلیسیمیا ایک موروثی خون کی بیماری ہے، جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اس مرض میں مریض کے جسم میں خون مناسب مقدار میں نہیں بنتا، جس کے باعث متاثرہ بچوں کو بار بار خون لگانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر شادی سے قبل مرد و خواتین تھیلیسیمیا ٹیسٹ کروائیں تو اس بیماری کے پھیلاؤ کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔تقریب میں بتایا گیا کہ پنجگور میں 300 سے زائد تھیلیسیمیا کے مریض موجود ہیں، جبکہ قندیل تھیلیسیمیا کیئر سنٹر کے ذریعے 150 سے زائد بچوں کا علاج جاری ہے۔ سینٹر کے صدر خدا نظر نے کہا کہ رجسٹرڈ مریضوں میں 95 فیصد بچوں کے والدین کی قریبی رشتہ داریوں میں شادیاں ہوئی ہیں، جس سے تھیلیسیمیا کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بروقت تشخیص، مستقل علاج اور عوامی آگاہی کے ذریعے اس بیماری پر قابو پایا جا سکتا ہے۔شرکاء نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے خصوصی فنڈز، مفت ادویات، خون کی فراہمی اور جدید علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ تھیلیسیمیا صرف ایک بیماری نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ بھی ہے، جس کے تدارک کے لیے اجتماعی شعور اور حکومتی اقدامات ناگزیر ہیں

keywords: panjgur, Thalassaemia, Balochistan news, Balochistan