کوئٹہ بلاک میں پولیو کی صورتحال کا جائزہ، کمشنر کی خصوصی ہدایات

کوئٹہ بلاک میں پولیو کی صورتحال کا جائزہ، کمشنر کی خصوصی ہدایات

کوئٹہ ڈویژن میں پولیو کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کمشنر شاہزیب خان کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈویژنل ٹاسک فورس کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پولیو کیسز، ٹیموں کی کارکردگی، مانیٹرنگ سسٹم اور ہائی رسک یونین کونسلز پر خصوصی حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمشنر نے ہدایت کی کہ پولیو مہم ہر صورت مؤثر، شفاف اور فول پروف بنائی جائے اور گردی پنکی میں رکاوٹ ڈالنے والے اسٹاف کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کی جائے۔

رپورٹ: سیدہ نتاشا

 کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیرِ صدارت کوئٹہ بلاک میں پولیو کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ڈویژنل ٹاسک فورس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، ڈپٹی کمشنر پشین، فوکل پرسن ڈویژنل ٹاسک فورس، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، یونیسف، این سٹاپ اور ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ اور ڈپٹی کمشنر چمن نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی۔
اجلاس میں پولیو مہم کے مائیکرو پلان، ٹیموں کی تربیت، مانیٹرنگ میکانزم اور مجموعی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کوئٹہ بلاک پولیو کے حوالے سے انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے، جہاں زیادہ آبادی، سرد علاقوں کے مسائل، آبادی کی نقل و حرکت اور ہائی رسک یونین کونسلز میں انتظامی چیلنجز درپیش ہیں۔
اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ کوئٹہ بلاک کے چاروں اضلاع میں 7 لاکھ 48 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے 5500 سے زیادہ پولیو ورکرز خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بریفنگ کے مطابق سال 2024 میں پولیو کے 14 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ رواں سال اب تک کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، البتہ کوئٹہ اور چمن سمیت مختلف علاقوں میں ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی تشویشناک ہے۔
اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ پولیو ٹیموں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے فیلڈ مانیٹرنگ کو مزید سخت کیا گیا ہے۔ ایسے علاقوں میں جہاں ٹیموں کو مزاحمت یا دیگر مشکلات کا سامنا ہے، وہاں فوری انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مسنگ چلڈرن، زیرو ڈوز بچوں اور ہائی رسک مقامات کے لیے بھی خصوصی حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے۔
اجلاس کے دوران کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے ڈپٹی کمشنر چمن کو خصوصی ہدایت جاری کی کہ گردی پنکی میں پولیو مہم میں رکاوٹ ڈالنے والے متعلقہ اسٹاف کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں فارغ کیا جائے اور ان کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج یقینی بنایا جائے۔
خطاب کرتے ہوئے کمشنر شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ کوئٹہ بلاک پولیو کے حوالے سے نہایت حساس ہے، اس لیے پولیو مہم کو ہر صورت مؤثر، شفاف اور فول پروف بنایا جائے۔ انہوں نے ہائی رسک یونین کونسلز پر خصوصی توجہ دینے، مانیٹرنگ مضبوط کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی کہ کوئی بھی بچہ حفاظتی قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔
کمشنر نے مزید کہا کہ پولیو کا خاتمہ قومی ذمہ داری ہے اور آئندہ نسلوں کو معذوری سے محفوظ بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ، سیکیورٹی اداروں، محکمہ صحت اور ڈویلپمنٹ پارٹنرز کے درمیان مضبوط تعاون ناگزیر ہے۔


Related News

بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت صوبے بھر میں ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے، جس کا مقصد عوام کو معیاری...
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
4 فروری کو دنیا بھر میں ورلڈ کینسر ڈے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد کینسر سے متعلق آگاہی، ابتدائی تشخیص اور بروق...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی زیرِ صدارت پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس میں دیہی اور دور دراز علاقو...
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
مصروف زندگی میں ہر کسی کے لیے جم جانا ممکن نہیں، لیکن صحت مند رہنے کے لیے یہ ضروری بھی نہیں۔ روزمرہ روٹین میں...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے ٹراما سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زیرِ علاج زخمی افراد کی عیادت کی۔ اس م...
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس ایک نہایت خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کی شرحِ اموات 40 سے 7...