انڈا یا دودھ: پروٹین حاصل کرنے کا بہتر ذریعہ؟

انڈا یا دودھ: پروٹین حاصل کرنے کا بہتر ذریعہ؟

پروٹین صحت مند جسم کے لیے نہایت ضروری غذائی جزو ہے، جو پٹھوں کی مضبوطی، جسمانی نشوونما اور توانائی کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں عام طور پر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ پروٹین حاصل کرنے کے لیے انڈا بہتر ہے یا دودھ۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق دونوں غذائیں اپنی جگہ مفید ہیں، تاہم ان کے فوائد مختلف ہیں۔ انڈا کو مکمل پروٹین کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں جسم کے لیے ضروری تمام امائنو ایسڈز موجود ہوتے ہیں۔ ایک درمیانے سائز کے انڈے میں تقریباً 6 سے 7 گرام پروٹین پایا جاتا ہے، جو پٹھوں کی تعمیر اور طاقت بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ورزش کرنے والے افراد، نوجوانوں اور طلبہ کے لیے انڈا خاص طور پر فائدہ مند ہے کیونکہ یہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس بھی دیتا ہے۔ دوسری جانب دودھ نہ صرف پروٹین بلکہ کیلشیم، وٹامنز اور معدنیات سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔ ایک گلاس دودھ میں تقریباً 8 گرام پروٹین موجود ہوتا ہے، جو ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دودھ بچوں، خواتین اور بزرگ افراد کے لیے روزمرہ استعمال میں زیادہ موزوں ہے کیونکہ یہ مجموعی غذائیت فراہم کرتا ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق اگر مقصد صرف پروٹین حاصل کرنا ہو تو انڈا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ مجموعی صحت، ہڈیوں کی مضبوطی اور غذائیت کے لیے دودھ بہتر انتخاب ہے۔ دونوں غذاؤں کو اعتدال کے ساتھ روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا ہی صحت مند زندگی کی اصل کنجی ہے۔

انڈا یا دودھ: پروٹین حاصل کرنے کا بہتر ذریعہ؟

رپورٹ : اقصی بلوچ

پروٹین صحت مند جسم کے لیے نہایت ضروری غذائی جزو ہے، جو پٹھوں کی مضبوطی، جسمانی نشوونما اور توانائی کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں عام طور پر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ پروٹین حاصل کرنے کے لیے انڈا بہتر ہے یا دودھ۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق دونوں غذائیں اپنی جگہ مفید ہیں، تاہم ان کے فوائد مختلف ہیں۔

انڈا کو مکمل پروٹین کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں جسم کے لیے ضروری تمام امائنو ایسڈز موجود ہوتے ہیں۔ ایک درمیانے سائز کے انڈے میں تقریباً 6 سے 7 گرام پروٹین پایا جاتا ہے، جو پٹھوں کی تعمیر اور طاقت بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ورزش کرنے والے افراد، نوجوانوں اور طلبہ کے لیے انڈا خاص طور پر فائدہ مند ہے کیونکہ یہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس بھی دیتا ہے۔

دوسری جانب دودھ نہ صرف پروٹین بلکہ کیلشیم، وٹامنز اور معدنیات سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔ ایک گلاس دودھ میں تقریباً 8 گرام پروٹین موجود ہوتا ہے، جو ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دودھ بچوں، خواتین اور بزرگ افراد کے لیے روزمرہ استعمال میں زیادہ موزوں ہے کیونکہ یہ مجموعی غذائیت فراہم کرتا ہے۔

ماہرینِ صحت کے مطابق اگر مقصد صرف پروٹین حاصل کرنا ہو تو انڈا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ مجموعی صحت، ہڈیوں کی مضبوطی اور غذائیت کے لیے دودھ بہتر انتخاب ہے۔ دونوں غذاؤں کو اعتدال کے ساتھ روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا ہی صحت مند زندگی کی اصل کنجی ہے۔


Related News

بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت صوبے بھر میں ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے، جس کا مقصد عوام کو معیاری...
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
4 فروری کو دنیا بھر میں ورلڈ کینسر ڈے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد کینسر سے متعلق آگاہی، ابتدائی تشخیص اور بروق...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی زیرِ صدارت پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس میں دیہی اور دور دراز علاقو...
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
مصروف زندگی میں ہر کسی کے لیے جم جانا ممکن نہیں، لیکن صحت مند رہنے کے لیے یہ ضروری بھی نہیں۔ روزمرہ روٹین میں...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے ٹراما سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زیرِ علاج زخمی افراد کی عیادت کی۔ اس م...
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس ایک نہایت خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کی شرحِ اموات 40 سے 7...