بلوچستان میں صحت کے شعبے کی صورتحال: مسائل اور بہتر مستقبل کی راہیں

بلوچستان میں صحت کے شعبے کی صورتحال: مسائل اور بہتر مستقبل کی راہیں

بلوچستان میں صحت کا شعبہ مسائل سے دوچار ہے، جہاں بیماریوں کا بوجھ قومی اوسط سے دوگنا ہے۔ ملیریا، ڈینگی، ہیپاٹائٹس، غذائی قلت، آلودگی اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں نے عوامی صحت کو شدید متاثر کیا ہے۔ حکومت، بین الاقوامی اداروں اور مقامی ٹیموں کی موجودہ کوششوں کے باوجود صحت مراکز، صاف پانی، ماں و بچے کی صحت، غذائیت اور ویکسینیشن جیسے شعبوں میں ابھی بہتری کی بڑی گنجائش باقی ہے۔ مستقل حکمتِ عملی اور مؤثر اقدامات ہی صوبے میں حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں۔

رپورٹ: سیدہ نتاشا

بلوچستان میں صحت کے شعبے کی صورتحال: چیلنجز اور بہتری کے امکانات

بلوچستان میں صحت کا شعبہ عرصے سے تشویش کی کیفیت میں ہے۔ بیماریوں کا بوجھ قومی اوسط سے تقریباً دوگنا ہے، جن میں سے 60 فیصد سے زائد متعدی امراض پر مشتمل ہیں۔ غذائی قلت، آنتوں کی بیماریاں، سانس کے مسائل، ہیپاٹائٹس اور ڈینگی جیسے امراض عام لوگوں کی زندگیوں پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔ ان حالات میں محکمہ صحت، بین الاقوامی ادارے اور مقامی ٹیمیں مل کر بہتری کی کوششوں میں مصروف ہیں، مگر زمینی حقیقتیں اب بھی توجہ مانگتی ہیں۔


2022 کے سیلاب کے بعد، مچھر پیدا ہونے والے ماحول اور صفائی کی شدید کمی نے ملیریا کے کیسز میں خطرناک اضافہ کر دیا تھا۔ صرف اگست میں چالیس ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے تھے۔ کھڑے پانی ، ناکافی اسپرے اور بروقت کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے عوام مسلسل خطرے میں رہے۔ اب سرویلنس، اسپرے اور آگاہی مہمات کے ذریعے آئندہ موسم میں کیسز کم کرنے کی کوشش جاری ہے، مگر جدوجہد ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
تپ دق اور ہیپاٹائٹس بھی بڑی تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ غربت، ناقص وینٹیلیشن، غیر محفوظ طبی طریقے اور دور دراز علاقوں میں سہولیات کی کمی نے بیماریوں کو مزید ہوا دی ہے۔ سرکاری مراکز میں مفت ٹیسٹنگ اور ادویات کی فراہمی بڑھائی گئی ہے، تاکہ ہر وہ شخص جو علاج سے محروم تھا، اسے علاج مل سکے۔
آلودہ پانی اور صفائی کے مسائل نے ڈائریا، ٹائیفائیڈ اور آنتوں کی بیماریوں کو گھروں تک پہنچا دیا تھا۔ 2024 کی رپورٹ کے مطابق، بنیادی صحت مراکز پر آنے والے مریضوں میں اٹھارہ فیصد صرف پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار تھے۔ اب فلٹریشن اور کلورینیشن اسکیمو، پانی کی فراہمی کے منصوبوں اور آگاہی مہمات کی وجہ سے کئی علاقوں میں بہتری محسوس کی جا رہی ہے، مگر یہ سفر اب بھی ادھورا ہے۔
خشک موسم، دھول، لکڑی کے دھوئیں اور ماحولیاتی آلودگی نے سانس کی بیماریوں میں مسلسل اضافہ کیا۔ بچوں اور بزرگوں میں خاص طور پر صورتحال زیادہ خطرناک رہی، جس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ صحت مراکز میں آنے والے بائیس فیصد مریض سانس کے مسائل کا شکار تھے۔ کچھ اضلاع میں خصوصی نگہداشت پروگرام شروع کیے گئے ہیں تاکہ موسم اور آلودگی کے اثرات کم کیے جا سکیں۔
ساحلی اور شہری علاقوں میں ڈینگی اور چکن گونیا کے کیسز ہر سال بڑھتے رہے، مگر مربوط ویکٹر کنٹرول مہمات، لاروا سرویلنس اور آگاہی پروگرامز نے کچھ علاقوں میں صورتحال بہتر کی ہے۔ اس کے باوجود، عوامی تعاون اور تسلسل کے بغیر مسئلہ دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔
غذائی قلت بدستور ایک بڑا چیلنج ہے۔ صوبے میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 47 فیصد بچے اسٹنٹنگ کا شکار ہیں۔ غربت، خشک سالی اور غذائی کمی نے نسلوں کی نشوونما پر اثر ڈالا ہے۔ حکومت اور تنظیمیں فوڈ سپلیمنٹیشن، نیوٹریشن پروگرامز اور ماں و بچے کے مراکز کے ذریعے بہتری لانے میں مصروف ہیں، مگر ضرورت اب بھی کہیں زیادہ ہے۔
زچگی کے دوران پیچیدگیاں اور ماں و بچے کی اموات بلوچستان میں سب سے زیادہ رہی ہیں۔ ایک وقت تھا جب صرف 16 فیصد زچگیاں صحت مراکز میں ہوتی تھیں۔ اب تربیت یافتہ دائیوں کی تعداد میں اضافہ، آگاہی پروگرام اور مراکز کی بحالی سے امید کی ایک کرن نظر آ رہی ہے۔
غیر متعدی امراض، جیسے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ مختلف اضلاع میں اسکریننگ کیمپ اور صحت مند طرزِ زندگی کی آگاہی مہمات شروع کی گئی ہیں، تاکہ لوگ بروقت احتیاط کر سکیں۔
ماہرین کے مطابق بلوچستان میں بہت سا کام ہو رہا ہے، مگر یہ وقت مستقل مزاجی، مضبوط حکمتِ عملی اور اجتماعی کوشش کا ہے۔ صاف پانی کی فراہمی، ویکسینیشن کا دائرہ وسیع کرنا، غذائی قلت کے خاتمے کے لیے مؤثر پروگرامز، دیہی علاقوں میں صحت مراکز کی مضبوطی اور ماں و بچے کی صحت پر خصوصی توجہ وہ اقدامات ہیں جو حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
چیلنجز بڑے ہیں، مگر امکانات بھی واضح ہیں۔ اگر موجودہ کوششوں کو تسلسل، اخلاص اور منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو بلوچستان میں صحت کے شعبے کی مجموعی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ عوام کی زندگیوں میں سکون، سہولت اور امید واپس آ سکتی ہے، اور یہی وہ منزل ہے جس کی طرف یہ تمام کوششیں رواں دواں ہیں۔


Related News

بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت صوبے بھر میں ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے، جس کا مقصد عوام کو معیاری...
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
4 فروری کو دنیا بھر میں ورلڈ کینسر ڈے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد کینسر سے متعلق آگاہی، ابتدائی تشخیص اور بروق...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی زیرِ صدارت پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس میں دیہی اور دور دراز علاقو...
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
مصروف زندگی میں ہر کسی کے لیے جم جانا ممکن نہیں، لیکن صحت مند رہنے کے لیے یہ ضروری بھی نہیں۔ روزمرہ روٹین میں...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے ٹراما سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زیرِ علاج زخمی افراد کی عیادت کی۔ اس م...
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس ایک نہایت خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کی شرحِ اموات 40 سے 7...