بلوچستان میں ہیموفیلیا کے کیسز میں اضافہ، شعور اور علاج کی فوری ضرورت۔
بلوچستان میں ہیموفیلیا کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ صوبے میں 260 مریض رجسٹرڈ ہیں جبکہ 1500 سے زائد رجسٹریشن سے باہر ہیں۔ حکومت ہر ماہ 50 مریضوں کا علاج کر رہی ہے اور جدید Hemlibra انجیکشن بھی مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔ 17 اپریل کو ورلڈ ہیموفیلیا ڈے منایا جاتا ہے تاکہ اس مرض کے بارے میں شعور اور بروقت علاج کی اہمیت اجاگر کی جا سکے۔
رپورٹ: سیدہ نتاشا
بلوچستان میں ہیموفیلیا کے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایڈیشنل سیکریٹری صحت، ثاقب کاکڑ کے مطابق صوبے میں اس وقت 260 مریض رجسٹرڈ ہیں جبکہ 1500 سے زائد مریض تاحال رجسٹریشن سے باہر ہیں۔
ہیموفیلیا ایک موروثی مرض ہے اور اس کا علاج انتہائی مہنگا ہونے کے باعث زیادہ تر خاندان مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ حکومت بلوچستان ہر ماہ 50 مریضوں کا مفت علاج کر رہی ہے اور علاج کے مجموعی اخراجات کا پچاس فیصد حصہ بھی حکومت برداشت کرتی ہے۔ صوبے میں جدید ترین انجیکشن بھی مریضوں کو بلا معاوضہ فراہم کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق ہیموفیلیا والدین سے بچوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اہم علامات میں معمولی چوٹ پر زیادہ خون بہنا، جوڑوں میں سوجن، دانت نکلنے پر خون رکنے میں دشواری اور بچیوں میں شدید ماہواری شامل ہیں۔ علاج نہ ہونے کے باعث اب تک تین بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ہیموفیلیا ویلفیئر سوسائٹی مارچ 2023 سے متاثرہ خاندانوں کی معاونت کر رہی ہے، جبکہ تمام مریضوں کا علاج چلڈرن اسپتال کوئٹہ میں کیا جا رہا ہے۔ آغا خان اور چغتائی لیبارٹری ٹیسٹوں پر چالیس سے ساٹھ فیصد رعایت فراہم کر رہی ہیں۔
عالمی رپورٹ کے مطابق 2018 میں دنیا بھر میں ایک لاکھ ستر ہزار سے زائد ہیموفیلیا کے مریض رجسٹرڈ تھے۔ کوئٹہ میں افغان بچوں کا علاج بھی کیا جا رہا ہے۔
ہر سال 17 اپریل کو ورلڈ ہیموفیلیا ڈے منایا جاتا ہے تاکہ اس مرض کے بارے میں شعور بڑھایا جا سکے، بروقت تشخیص اور علاج کی اہمیت اجاگر کی جا سکے، اور متاثرہ افراد کی زندگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔