چائے یا کافی؟ ماہرین کے مطابق کون سا مشروب زیادہ فائدہ مند ہے؟

چائے یا کافی؟ ماہرین کے مطابق کون سا مشروب زیادہ فائدہ مند ہے؟

سردیوں کے موسم میں چائے اور کافی دونوں ہی کا استعمال بڑھ جاتا ہے، مگر اکثر لوگ یہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ ان دونوں میں سے صحت کے لیے بہتر کون سا مشروب ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں مشروبات میں کیفین موجود ہوتا ہے، لیکن ان کے جسم پر اثرات مختلف ہوتے ہیں۔ اعتدال میں استعمال کیے جائیں تو چائے اور کافی دونوں فائدہ دیتی ہیں، مگر حد سے زیادہ مقدار نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ چائے کے فوائد اور نقصانات چائے میں کیفین کی مقدار کافی سے کم ہوتی ہے، اسی وجہ سے یہ دل پر کم دباؤ ڈالتی ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو سوزش سے بچانے میں مدد دیتے ہیں جبکہ ہری چائے وزن کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ تاہم زیادہ چائے پینا جسم میں آئرن کے جذب ہونے میں رکاوٹ بن جاتا ہے، جس سے خون کی کمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چائے کا زیادہ استعمال گیس، تیزابیت اور پیٹ کے مسائل کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ کافی کے فائدے اور ممکنہ نقصان کافی ذہنی چوکناہٹ بڑھانے اور توانائی فراہم کرنے میں مؤثر سمجھی جاتی ہے۔ اس میں موجود کیفین میٹابولزم تیز کرتا ہے، جس سے کیلوریز تیزی سے جلتی ہیں۔ کچھ تحقیقات کے مطابق مناسب مقدار میں کافی پینے سے دل کے امراض اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرات میں کمی دیکھی گئی ہے۔ لیکن ضرورت سے زیادہ کافی دل کی دھڑکن تیز کر سکتی ہے، بےچینی بڑھا سکتی ہے اور نیند کے نظام کو خراب کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ افراد میں کافی تیزابیت بھی بڑھا دیتی ہے۔ کون سا مشروب بہتر ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو زیادہ کیفین برداشت نہیں ہوتی یا دل کا مسئلہ ہے تو چائے ایک محفوظ انتخاب ہو سکتی ہے، جبکہ اگر ذہنی توجہ یا فوری توانائی درکار ہو تو کافی زیادہ فائدہ دیتی ہے۔ لیکن دونوں مشروبات کا استعمال روزانہ 2 سے 3 کپ  تک محدود رکھنا صحت کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ اعتدال میں استعمال دونوں کو ہی فائدہ مند بناتا ہے۔

چائے یا کافی؟ ماہرین کے مطابق کون سا مشروب زیادہ فائدہ مند ہے؟

اقصی بلوچ 

سردیوں کے موسم میں چائے اور کافی دونوں ہی کا استعمال بڑھ جاتا ہے، مگر اکثر لوگ یہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ ان دونوں میں سے صحت کے لیے بہتر کون سا مشروب ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں مشروبات میں کیفین موجود ہوتا ہے، لیکن ان کے جسم پر اثرات مختلف ہوتے ہیں۔ اعتدال میں استعمال کیے جائیں تو چائے اور کافی دونوں فائدہ دیتی ہیں، مگر حد سے زیادہ مقدار نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

چائے کے فوائد اور نقصانات
چائے میں کیفین کی مقدار کافی سے کم ہوتی ہے، اسی وجہ سے یہ دل پر کم دباؤ ڈالتی ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو سوزش سے بچانے میں مدد دیتے ہیں جبکہ ہری چائے وزن کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ تاہم زیادہ چائے پینا جسم میں آئرن کے جذب ہونے میں رکاوٹ بن جاتا ہے، جس سے خون کی کمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چائے کا زیادہ استعمال گیس، تیزابیت اور پیٹ کے مسائل کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

کافی کے فائدے اور ممکنہ نقصان
کافی ذہنی چوکناہٹ بڑھانے اور توانائی فراہم کرنے میں مؤثر سمجھی جاتی ہے۔ اس میں موجود کیفین میٹابولزم تیز کرتا ہے، جس سے کیلوریز تیزی سے جلتی ہیں۔ کچھ تحقیقات کے مطابق مناسب مقدار میں کافی پینے سے دل کے امراض اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرات میں کمی دیکھی گئی ہے۔ لیکن ضرورت سے زیادہ کافی دل کی دھڑکن تیز کر سکتی ہے، بےچینی بڑھا سکتی ہے اور نیند کے نظام کو خراب کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ افراد میں کافی تیزابیت بھی بڑھا دیتی ہے۔

کون سا مشروب بہتر ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو زیادہ کیفین برداشت نہیں ہوتی یا دل کا مسئلہ ہے تو چائے ایک محفوظ انتخاب ہو سکتی ہے، جبکہ اگر ذہنی توجہ یا فوری توانائی درکار ہو تو کافی زیادہ فائدہ دیتی ہے۔ لیکن دونوں مشروبات کا استعمال روزانہ 2 سے 3 کپ  تک محدود رکھنا صحت کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ اعتدال میں استعمال دونوں کو ہی فائدہ مند بناتا ہے۔

 


Related News

بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت صوبے بھر میں ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے، جس کا مقصد عوام کو معیاری...
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
4 فروری کو دنیا بھر میں ورلڈ کینسر ڈے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد کینسر سے متعلق آگاہی، ابتدائی تشخیص اور بروق...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی زیرِ صدارت پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس میں دیہی اور دور دراز علاقو...
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
مصروف زندگی میں ہر کسی کے لیے جم جانا ممکن نہیں، لیکن صحت مند رہنے کے لیے یہ ضروری بھی نہیں۔ روزمرہ روٹین میں...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے ٹراما سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زیرِ علاج زخمی افراد کی عیادت کی۔ اس م...
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس ایک نہایت خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کی شرحِ اموات 40 سے 7...