چاند پر پہلا ہوٹل کب بنے گا؟ سائنسدانوں نے منصوبہ بنا لیا
اس وقت چاند پر ایسی کوئی جگہ موجود نہیں جہاں لوگ بیٹھ کر کافی پی سکیں یا آرام کر سکیں، لیکن مستقبل میں چاند پر ہوٹل، سیاحتی اور رہائشی سہولیات قائم کرنے کے منصوبے سنجیدگی سے زیرِ غور ہیں۔ ایک امریکی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ سال 2032 تک چاند پر دنیا کا پہلا ہوٹل قائم کرے گی، جہاں قیام کے خواہش مند سیاحوں کو تقریباً 75 لاکھ پاؤنڈ ادا کرنا ہوں گے۔ رپورٹس کے مطابق ناسا اور نجی خلائی کمپنیوں کے تعاون سے زمین کے گرد مدار میں اسپیس اسٹیشنز کے بعد اب چاند پر مستقل انسانی موجودگی کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں، تاکہ خلائی سیاحت کو حقیقت بنایا جا سکے۔ یاد رہے کہ 1969 میں اپالو 11 مشن کے ذریعے نیل آرم اسٹرانگ اور بز آلڈرن چاند پر قدم رکھنے والے پہلے انسان بنے تھے، اور اب ہوٹل کی تعمیر کو اسی انسانی جستجو کا اگلا مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ گیلیکٹک ریسورسز یوٹیلائزیشن (GRU Space) نامی کمپنی نے پیش کیا ہے، جسے ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس اور مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنی اینویڈیا کی حمایت حاصل ہے۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق ابتدائی بکنگ کے لیے سیاحوں سے ساڑھے سات لاکھ پاؤنڈ بطور ایڈوانس لیے جا رہے ہیں، جبکہ پہلے مرحلے میں ہوٹل میں صرف چار مہمانوں کو قیام کی اجازت دی جائے گی۔ منصوبے کے مطابق ہوٹل کو 2032 میں چاند کی سطح پر اتارا جائے گا، جہاں مہمان پانچ راتیں گزار سکیں گے۔ ہوٹل میں آکسیجن پیدا کرنے کا نظام، ہوا اور پانی کی ری سائیکلنگ، درجہ حرارت پر کنٹرول، ہنگامی انخلا کا سسٹم اور سورج کی خطرناک شعاعوں سے بچاؤ کے لیے ریڈی ایشن شیلٹر موجود ہوگا۔ GRU Space کے بانی 22 سالہ اسکائلر چان کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو مستقبل میں انسان چاند اور مریخ پر زندگی کا تجربہ کر سکیں گے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ کامیابی کی صورت میں ہر سال 12 سیاحتی دورے چاند تک کروائے جائیں گے۔ تاہم سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ انسان خلا میں طویل عرصے تک محفوظ طریقے سے کیسے رہ سکتا ہے۔ منصوبے کے تحت 2029 میں پہلا آزمائشی مشن بھیجا جائے گا، جس میں ہوٹل کا چھوٹا ماڈل چاند پر اتارا جائے گا۔ 2031 میں بڑے انفلیٹیبل ڈھانچے کی تنصیب ہوگی، جبکہ 2032 میں مکمل ہوٹل قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ حتمی ٹکٹ کی قیمت ایک کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ مستقبل میں ہوٹل میں مہمانوں کی تعداد 10 تک بڑھانے کا منصوبہ ہے اور عمارت کو چاند کی مٹی سے بنی اینٹوں سے تعمیر کیا جائے گا۔ GRU Space کا کہنا ہے کہ چاند پر بیس قائم کرنے کے بعد یہی ماڈل مریخ پر بھی دہرایا جائے گا، جہاں آئندہ دہائیوں میں انسانی آبادکاری کا خواب دیکھا جا رہا ہے۔
چاند پر پہلا ہوٹل کب بنے گا؟ سائنسدانوں نے منصوبہ بنا لیا
رپورٹ: اقصی بلوچ
اس وقت چاند پر ایسی کوئی جگہ موجود نہیں جہاں لوگ بیٹھ کر کافی پی سکیں یا آرام کر سکیں، لیکن مستقبل میں چاند پر ہوٹل، سیاحتی اور رہائشی سہولیات قائم کرنے کے منصوبے سنجیدگی سے زیرِ غور ہیں۔

ایک امریکی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ سال 2032 تک چاند پر دنیا کا پہلا ہوٹل قائم کرے گی، جہاں قیام کے خواہش مند سیاحوں کو تقریباً 75 لاکھ پاؤنڈ ادا کرنا ہوں گے۔
رپورٹس کے مطابق ناسا اور نجی خلائی کمپنیوں کے تعاون سے زمین کے گرد مدار میں اسپیس اسٹیشنز کے بعد اب چاند پر مستقل انسانی موجودگی کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں، تاکہ خلائی سیاحت کو حقیقت بنایا جا سکے۔
یاد رہے کہ 1969 میں اپالو 11 مشن کے ذریعے نیل آرم اسٹرانگ اور بز آلڈرن چاند پر قدم رکھنے والے پہلے انسان بنے تھے، اور اب ہوٹل کی تعمیر کو اسی انسانی جستجو کا اگلا مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ منصوبہ گیلیکٹک ریسورسز یوٹیلائزیشن (GRU Space) نامی کمپنی نے پیش کیا ہے، جسے ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس اور مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنی اینویڈیا کی حمایت حاصل ہے۔
کمپنی کے ترجمان کے مطابق ابتدائی بکنگ کے لیے سیاحوں سے ساڑھے سات لاکھ پاؤنڈ بطور ایڈوانس لیے جا رہے ہیں، جبکہ پہلے مرحلے میں ہوٹل میں صرف چار مہمانوں کو قیام کی اجازت دی جائے گی۔

منصوبے کے مطابق ہوٹل کو 2032 میں چاند کی سطح پر اتارا جائے گا، جہاں مہمان پانچ راتیں گزار سکیں گے۔ ہوٹل میں آکسیجن پیدا کرنے کا نظام، ہوا اور پانی کی ری سائیکلنگ، درجہ حرارت پر کنٹرول، ہنگامی انخلا کا سسٹم اور سورج کی خطرناک شعاعوں سے بچاؤ کے لیے ریڈی ایشن شیلٹر موجود ہوگا۔
GRU Space کے بانی 22 سالہ اسکائلر چان کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو مستقبل میں انسان چاند اور مریخ پر زندگی کا تجربہ کر سکیں گے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ کامیابی کی صورت میں ہر سال 12 سیاحتی دورے چاند تک کروائے جائیں گے۔ تاہم سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ انسان خلا میں طویل عرصے تک محفوظ طریقے سے کیسے رہ سکتا ہے۔

منصوبے کے تحت 2029 میں پہلا آزمائشی مشن بھیجا جائے گا، جس میں ہوٹل کا چھوٹا ماڈل چاند پر اتارا جائے گا۔ 2031 میں بڑے انفلیٹیبل ڈھانچے کی تنصیب ہوگی، جبکہ 2032 میں مکمل ہوٹل قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ حتمی ٹکٹ کی قیمت ایک کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ مستقبل میں ہوٹل میں مہمانوں کی تعداد 10 تک بڑھانے کا منصوبہ ہے اور عمارت کو چاند کی مٹی سے بنی اینٹوں سے تعمیر کیا جائے گا۔
GRU Space کا کہنا ہے کہ چاند پر بیس قائم کرنے کے بعد یہی ماڈل مریخ پر بھی دہرایا جائے گا، جہاں آئندہ دہائیوں میں انسانی آبادکاری کا خواب دیکھا جا رہا ہے۔