ہارڈننگ آف دی اسٹیٹ کانفرنس کا 21واں اجلاس، مشترکہ کاوشوں کا جائزہ اور بلوچستان کے روشن مستقبل کے عزم کا اعادہ
کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ہارڈننگ آف دی اسٹیٹ کانفرنس کا 21واں اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی و وفاقی اداروں اور سیکیورٹی فورسز نے شرکت کی۔ اجلاس میں امن و امان، اینٹی سمگلنگ و اینٹی نارکوٹکس اقدامات، بی ایریاز سے اے ایریاز کنورژن، ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت اور عوامی فلاح و بہبود پر تفصیلی غور کیا گیا اور بلوچستان کے روشن مستقبل کے لیے مربوط حکمت عملی پر عزم کا اظہار کیا گیا۔
رپورٹ: سیدہ نتاشا
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ریاستی دفاعی کانفرنس (ہارڈننگ آف دی اسٹیٹ کانفرنس) کا 21واں اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا، جس میں کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان بھی شریک تھے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ کانفرنس گزشتہ ڈیڑھ سال سے باقاعدگی سے منعقد ہو رہی ہے اور صوبے میں امن و استحکام کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر تقریباً 21 دن بعد ہونے والے اجلاس کا بنیادی مقصد سابقہ فیصلوں پر عملدرآمد کی پیشرفت کا جائزہ لینا اور نتائج کو مزید بہتر بنانا ہے۔
کانفرنس میں وفاقی و صوبائی اداروں، متعلقہ محکموں اور سیکیورٹی فورسز بشمول پاکستان آرمی، فرنٹیئر کور اور پاکستان کوسٹ گارڈ کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں اینٹی سمگلنگ اور اینٹی نارکوٹکس آپریشنز پر خصوصی توجہ دی گئی اور ان مضر سرگرمیوں کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز کرنے پر زور دیا گیا۔
شرکاء نے بی ایریاز سے اے ایریاز کنورژن کے عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس حکمت عملی کو صوبے کے تمام ڈویژنز میں مؤثر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ ترقیاتی فوائد ہر علاقے تک پہنچ سکیں اور امن و خوشحالی کو فروغ ملے۔
اجلاس میں مجموعی سیکیورٹی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت اور عوامی فلاح و بہبود کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ آخر میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بلوچستان کے درخشاں مستقبل کے لیے اسی نوعیت کی جامع اور مؤثر حکمت عملی پر تسلسل کے ساتھ عمل جاری رکھا جائے گا۔