سال 2025 میں بلوچستان حکومت کے ترقیاتی اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ گیے۔
سال 2025 کے دوران بلوچستان حکومت نے زراعت، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پر خصوصی توجہ دی۔ زرعی شعبے میں ہزاروں ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا، جبکہ یوتھ پالیسی کے تحت نوجوانوں کو بیرونِ ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے۔ تعلیم میں وظائف اور اسکالرشپس کے ذریعے مستحق طلبہ کی معاونت کی گئی، صحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نئی سہولیات متعارف کرائی گئیں اور کوئٹہ میں شہری ترقی کے بڑے منصوبے شروع کیے گئے۔ ان اقدامات کے ابتدائی مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس سے عوام میں ترقی کے تسلسل کی امید پیدا ہوئی ہے۔
رپورٹ: ماہ رنگ بلوچ
سال 2025 کے دوران بلوچستان حکومت نے صوبے کی مجموعی ترقی کے لیے زراعت، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی۔ زراعت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر 27 ہزار سے زائد ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا، جس پر تقریباً 55 ارب روپے لاگت آئی، جبکہ اس منصوبے کی مالی معاونت وفاقی اور صوبائی حکومت نے مشترکہ طور پر کی۔ نوجوانوں کے لیے بلوچستان یوتھ پالیسی متعارف کرائی گئی جس کے تحت بیرونِ ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں اور اب تک ہزاروں ہنر مند نوجوان بیرونِ ملک ملازمتیں حاصل کر چکے ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ اور بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام کے تحت مستحق طلبہ کو ملکی و غیر ملکی تعلیمی اداروں میں وظائف فراہم کیے گئے۔ صحت اور عوامی سہولیات کے فروغ کے لیے گرین اور پنک بس سروسز کا آغاز کیا گیا جبکہ کوئٹہ کے اسپنی روڈ پر جدید ٹراما سینٹر تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ اس کے علاوہ کوئٹہ ڈویلپمنٹ پلان کے تحت سڑکوں کی توسیع، انڈرپاسز اور فلائی اوورز کی تعمیر سے شہری انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا گیا۔ حکومتی اقدامات کے ابتدائی نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس سے عوام میں ترقی کے تسلسل کی امید پیدا ہوئی ہے۔