کوئٹہ میں خواتین کے لیے پنک بس سروس کا آغاز، وزیر اعلیٰ کا افتتاح
کوئٹہ میں خواتین کے لیے پہلی پنک بس سروس کا آغاز کر دیا گیا ہے جس میں ڈرائیور اور عملہ بھی مکمل خواتین پر مشتمل ہوگا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے 5 پنک اور 15 نئی گرین بسوں کا افتتاح کیا۔ خواتین نے اس اقدام کو محفوظ، باوقار اور سہل سفری سہولت قرار دیا۔ منصوبے کے تحت جلد پشین، مستونگ اور تربت میں بھی گرین بس سروس شروع کی جائے گی۔
رپورٹ: سیدہ نتاشا
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں خواتین کے لیے خصوصی پنک بس سروس کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بدھ کے روز 5 پنک بسوں اور 15 نئی گرین بسوں کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزراء، کمشنر کوئٹہ، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
پنک بس سروس کو مکمل طور پر خواتین کے لیے مخصوص کیا گیا ہے، جس میں نہ صرف سفر صرف خواتین کے لیے ہوگا بلکہ ڈرائیور اور عملہ بھی تمام خواتین پر مشتمل ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کو محفوظ، باوقار اور آسان سفری سہولت فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ بغیر کسی خوف یا پریشانی کے شہر میں سفر کر سکیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت شہریوں کو جدید اور معیاری ٹرانسپورٹ سسٹم فراہم کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنک بس سروس سے خواتین کے روزمرہ سفر میں نمایاں آسانی آئے گی اور انہیں ایک محفوظ ماحول میسر ہوگا۔ گرین اور پنک بس روٹس کو کچلاک سے سونا خان چوک تک مزید توسیع دی جا رہی ہے۔"مزید برآں، وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اعلان کیا کہ خواتین کے لیے پنک بس سروس کو صرف کوئٹہ تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ عوامی مطالبے اور ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اگلے مرحلے میں اسے پشین اور مستونگ میں بھی شروع کیا جائے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان اضلاع میں بھی خواتین کو محفوظ ٹرانسپورٹ کی شدید ضرورت ہے، اور سروس کے آغاز سے طالبات، ورکنگ وومن اور گھریلو خواتین کو بڑا فائدہ پہنچے گا۔
صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ آئندہ چند ماہ میں پشین اور مستونگ کے لیے بس اسٹاپ پوائنٹس، روٹس اور عملے کی ٹریننگ کا عمل مکمل کر لیا جائے۔