بلوچستان میں انسداد دہشت گردی آپریشنز اور گرفتاریوں پر داخلہ سیکریٹری و ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کی پریس کانفرنس
کوئٹہ: ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے بتایا کہ گزشتہ برس بلوچستان میں 90 ہزار سے زائد خفیہ آپریشنز کیے گئے، جس میں 7 سو سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ دہشت گردانہ حملوں میں آخری تین ماہ میں کمی آئی۔ نیا ادارہ نیفٹیک قائم کیا گیا ہے جو مارچ تک تمام اضلاع میں فعال ہو جائے گا۔ گرفتار دہشت گرد ساجد احمد عرف شاویز اور دیگر نوجوان کالعدم تنظیموں سے وابستہ تھے اور جدید اسلحہ و خودکش جیکٹس سمیت پکڑے گئے۔ نوجوانوں کو پھر سے معاشرے میں شامل کرنے کا عمل جاری ہے۔
رپورٹ: سیدہ نتاشا
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ گزشتہ برس قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بلوچستان میں مجموعی طور پر 90 ہزار خفیہ آپریشنز کیے، جن میں 7 سو سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے اور 400 سیکیورٹی اہلکار اور شہری شہید ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ 2025 کے آخری تین ماہ میں دہشت گردانہ حملوں میں واضح کمی دیکھی گئی۔ اس کے ساتھ ہی صوبے میں نیا ادارہ "نیفٹیک" قائم کیا گیا ہے، جو مارچ 2026 تک بلوچستان کے تمام اضلاع میں فعال کر دیا جائے گا، اور پورے صوبے کو اے ایریا میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم دہشت گرد ساجد احمد عرف شاویز کو گرفتار کیا، جو تربت یونیورسٹی میں استاد تھا اور کالعدم تنظیم سے وابستہ تھا۔ اس کی گاڑی سے جدید اسلحہ، خودکش جیکٹ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔ ساجد نے نوجوانوں کو کالعدم تنظیموں میں بھرتی کرنے، ریکی اور سہولت کاری میں حصہ لیا اور ایران و افغانستان سے اسلحہ اسمگل کروایا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں پڑھے لکھے نوجوان بھی اس راستے پر جا رہے ہیں، اور بعض تنظیمیں بی ایس او اور بی وائے سی کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے انہیں مسلح سرگرمیوں میں شامل کر رہی ہیں۔ خاران سے 18 سالہ سرفراز، جہانزیب عرف مہربان اور بہزل جیسے نوجوان بھی گرفتار کیے گئے، جو دہشت گردوں کی مالی اور ادویاتی معاونت کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ گرفتار نوجوانوں کو واپس معاشرے کے کارآمد شہری بنانے کا عمل جاری ہے تاکہ وہ دوبارہ ملک و قوم کی خدمت کر سکیں۔