فرانس کی وزارت داخلہ کی ویب سائٹس پر سائبر حملہ، حساس سرکاری ڈیٹا متاثر
فرانس کی وزارت داخلہ کی ویب سائٹس کو ایک بڑے سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں حساس سرکاری ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کی گئی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کی وزارت داخلہ نے اس سائبر حملے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ فرانسیسی حکام کے مطابق حملے کے دوران وزارت کے پیشہ ورانہ ای میل اکاؤنٹس متاثر ہوئے، جس کے بعد حملہ آور اہم سرکاری فائلوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ سنگین ہے اور ڈیٹا کے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کتنا اور کس نوعیت کا ڈیٹا لیک ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق متاثر ہونے والی فائلوں میں فوجداری ریکارڈ پروسیسنگ سسٹم اور مطلوب افراد کی فہرست (FPR) جیسے حساس ڈیٹا بھی شامل ہیں، جو سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کیے جاتے ہیں۔ فرانسیسی حکام نے سائبر حملے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے 22 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ نقصان کی نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
فرانس کی وزارت داخلہ کی ویب سائٹس پر سائبر حملہ، حساس سرکاری ڈیٹا متاثر
رپورٹ : اقصی بلوچ
فرانس کی وزارت داخلہ کی ویب سائٹس کو ایک بڑے سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں حساس سرکاری ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کی گئی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کی وزارت داخلہ نے اس سائبر حملے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔

فرانسیسی حکام کے مطابق حملے کے دوران وزارت کے پیشہ ورانہ ای میل اکاؤنٹس متاثر ہوئے، جس کے بعد حملہ آور اہم سرکاری فائلوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ سنگین ہے اور ڈیٹا کے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کتنا اور کس نوعیت کا ڈیٹا لیک ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق متاثر ہونے والی فائلوں میں فوجداری ریکارڈ پروسیسنگ سسٹم اور مطلوب افراد کی فہرست (FPR) جیسے حساس ڈیٹا بھی شامل ہیں، جو سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کیے جاتے ہیں۔
فرانسیسی حکام نے سائبر حملے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے 22 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ نقصان کی نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔