جی ڈی اے دھرنے کے پیشِ نظر امن و امان یقینی بنانے کے لیے ڈی آئی جی کوئٹہ کی سخت ہدایات
کوئٹہ : ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں 20 جنوری کو ہونے والے جی ڈی اے دھرنے کے دوران سکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایس ایس پی آپریشنز، ایس ایس پی سکیورٹی ڈویژن، ایس ایس پی ایڈمنسٹریشن، تمام سپرنٹنڈنٹس آف پولیس اور سب ڈویژنل پولیس افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے جامع سکیورٹی حکمتِ عملی پر غور کیا گیا۔ڈی آئی جی کوئٹہ نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ دھرنے کے دوران مکمل طور پر الرٹ اور چوکس رہیں۔ انہوں نے اینٹی رائٹ یونٹس کی مؤثر تعیناتی، واٹر کینن اور آنسو گیس شیلز کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس مکمل طور پر تیار رہے۔ ڈی آئی جی نے واضح کیا کہ سڑکوں کی بندش، عوامی زندگی میں خلل اور سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تشدد، توڑ پھوڑ یا قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی کی جائے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پولیس اہلکار پیشہ ورانہ انداز میں، قانونی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے فرائض انجام دیں اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائیں۔
جی ڈی اے دھرنے کے پیشِ نظر امن و امان یقینی بنانے کے لیے ڈی آئی جی کوئٹہ کی سخت ہدایات
کوئٹہ : ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں 20 جنوری کو ہونے والے جی ڈی اے دھرنے کے دوران سکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایس ایس پی آپریشنز، ایس ایس پی سکیورٹی ڈویژن، ایس ایس پی ایڈمنسٹریشن، تمام سپرنٹنڈنٹس آف پولیس اور سب ڈویژنل پولیس افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے جامع سکیورٹی حکمتِ عملی پر غور کیا گیا۔ڈی آئی جی کوئٹہ نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ دھرنے کے دوران مکمل طور پر الرٹ اور چوکس رہیں۔ انہوں نے اینٹی رائٹ یونٹس کی مؤثر تعیناتی، واٹر کینن اور آنسو گیس شیلز کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس مکمل طور پر تیار رہے۔ ڈی آئی جی نے واضح کیا کہ سڑکوں کی بندش، عوامی زندگی میں خلل اور سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تشدد، توڑ پھوڑ یا قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی کی جائے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پولیس اہلکار پیشہ ورانہ انداز میں، قانونی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے فرائض انجام دیں اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائیں۔