زمین پر آکسیجن میں کمی کا خطرہ، ناسا کے سائنسدانوں کا سنگین انتباہ

 زمین پر آکسیجن میں کمی کا خطرہ، ناسا کے سائنسدانوں کا سنگین انتباہ

بنی نوع انسان کو درپیش ایک نیا اور سنگین خطرہ سامنے آ گیا ہے۔ امریکی خلائی ادارے  ناسا  کے سائنسدانوں نے اپنی تازہ تحقیق میں خبردار کیا ہے کہ زمین کا بڑھتا ہوا درجۂ حرارت اور سورج کی مسلسل بڑھتی تپش مستقبل میں فضا میں موجود  کاربن ڈائی آکسائیڈ  کے مالیکیولز میں نمایاں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کاربن ڈائی آکسائیڈ وہ بنیادی گیس ہے جس کی مدد سے درخت اور پودے ضیائی تالیف (Photosynthesis)  کے عمل کے ذریعے آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ اگر فضا میں یہ گیس کم ہو گئی تو آکسیجن کی پیداوار بھی متاثر ہو گی، جس کے نتیجے میں زمین پر زندگی کا وجود شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر زمین کے درجۂ حرارت میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو آئندہ چند ہزار برسوں میں زمین کا ماحول انسان سمیت تمام جانداروں کے لیے ناقابلِ رہائش بن سکتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور آکسیجن دونوں گیسوں کی عدم موجودگی زمین پر زندگی کے خاتمے کے مترادف ہو گی۔ ناسا کے سائنسدانوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ  ماحولیاتی آلودگی، بے ہنگم صنعتی سرگرمیوں اور قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال  کو فوری طور پر روکا جائے، بصورت دیگر آنے والی نسلوں کے لیے سانس لینا بھی ممکن نہیں رہے گا۔

 زمین پر آکسیجن میں کمی کا خطرہ، ناسا کے سائنسدانوں کا سنگین انتباہ

رپورٹ : اقصی بلوچ

بنی نوع انسان کو درپیش ایک نیا اور سنگین خطرہ سامنے آ گیا ہے۔ امریکی خلائی ادارے  ناسا  کے سائنسدانوں نے اپنی تازہ تحقیق میں خبردار کیا ہے کہ زمین کا بڑھتا ہوا درجۂ حرارت اور سورج کی مسلسل بڑھتی تپش مستقبل میں فضا میں موجود  کاربن ڈائی آکسائیڈ  کے مالیکیولز میں نمایاں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔


ماہرین کے مطابق کاربن ڈائی آکسائیڈ وہ بنیادی گیس ہے جس کی مدد سے درخت اور پودے ضیائی تالیف (Photosynthesis)  کے عمل کے ذریعے آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ اگر فضا میں یہ گیس کم ہو گئی تو آکسیجن کی پیداوار بھی متاثر ہو گی، جس کے نتیجے میں زمین پر زندگی کا وجود شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر زمین کے درجۂ حرارت میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو آئندہ چند ہزار برسوں میں زمین کا ماحول انسان سمیت تمام جانداروں کے لیے ناقابلِ رہائش بن سکتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور آکسیجن دونوں گیسوں کی عدم موجودگی زمین پر زندگی کے خاتمے کے مترادف ہو گی۔
ناسا کے سائنسدانوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ  ماحولیاتی آلودگی، بے ہنگم صنعتی سرگرمیوں اور قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال  کو فوری طور پر روکا جائے، بصورت دیگر آنے والی نسلوں کے لیے سانس لینا بھی ممکن نہیں رہے گا۔


Related News

آرٹیمس ٹو مشن کا دلچسپ پہلو: “رائز” نامی ننھا کھلونا بھی خلاء کی جانب روانہ
آرٹیمس ٹو مشن کا دلچسپ پہلو: “رائز” نامی ننھا کھلونا بھی خلاء کی جانب روانہ
ناسا کے آرٹیمس ٹو مشن میں “رائز” نامی ایک چھوٹا نرم کھلونا شامل کیا گیا ہے جو خلا میں پہنچ کر بے وزنی (زیرو گر...
خاموشی کو آواز دینے والی ٹیکنالوجی: فالج کے مریضوں کے لیے اے آئی کا نیا تحفہ
خاموشی کو آواز دینے والی ٹیکنالوجی: فالج کے مریضوں کے لیے اے آئی کا نیا تحفہ
جدید سائنس اور مصنوعی ذہانت نے ایک اور ایسا سنگِ میل عبور کر لیا ہے جو فالج اور بولنے میں دشواری کا شکار افراد...
ڈرون کا مؤثر توڑ، چین نے مائیکروویو شعاعوں والا جدید ہتھیار تیار کر لیا
ڈرون کا مؤثر توڑ، چین نے مائیکروویو شعاعوں والا جدید ہتھیار تیار کر لیا
چین نے ڈرون حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک جدید ہتھیار تیار کر لیا ہے، جو مائیکروویو شعاعوں کے ذریعے بیک وق...
کیا ٹھنڈے پانی سے نہانے سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے؟ ماہرین نے خبردار کر دیا
کیا ٹھنڈے پانی سے نہانے سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے؟ ماہرین نے خبردار کر دیا
ٹھنڈے پانی سے نہانا بعض افراد کے لیے تازگی اور چستی کا باعث بن سکتا ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ عمل...
گوگل نے جیمنائی میں سب سے بڑی اپ ڈیٹ متعارف کروا دی
گوگل نے جیمنائی میں سب سے بڑی اپ ڈیٹ متعارف کروا دی
گوگل نے اپنے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل جیمنائی میں اب تک کی سب سے بڑی اپ ڈیٹ متعارف کرائی ہے جسے ’پرسنل انٹیلی...
پاکستان نے اپنا پہلا سرکاری اے آئی اوتار ‘لیلا’ لانچ کر دیا
پاکستان نے اپنا پہلا سرکاری اے آئی اوتار ‘لیلا’ لانچ کر دیا
وفاقی حکومت نے پاکستان کا پہلا سرکاری مصنوعی ذہانت (اے آئی) اوتار 'لیلا' لانچ کر دیا ہے۔ وزیرِ اطلاعات و ٹیکنا...