ناسا کا پرسورینس روور مریخ پر طویل سفر کا ریکارڈ توڑنے کے قریب
ناسا کا جدید روور پرسورینس مریخ پر طویل سفر کا نیا ریکارڈ بنانے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اب تک پرسورینس نے تقریباً 25 میل (40 کلومیٹر) کا فاصلہ طے کر لیا ہے، اور یہ مریخ پر سب سے زیادہ فاصلے کا ریکارڈ توڑنے والے سابقہ ریکارڈ، جو اپرچونیٹی روور کے نام ہے، کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اپرچونیٹی نے تقریباً 28.06 میل (45.16 کلومیٹر) کا سفر مکمل کیا تھا۔ پرسورینس کا مقصد صرف زیادہ فاصلے کا سفر کرنا نہیں بلکہ مریخ کے جیزرو کریٹر میں قدیم حیاتیاتی نشانات تلاش کرنا بھی ہے۔ اس کے مضبوط پہیے اور خودکار نیویگیشن سسٹم نے سخت مریخی زمین پر لمبا سفر ممکن بنایا ہے۔ ناسا کے انجینیئرز کا خیال ہے کہ پرسورینس مستقبل میں مزید میل طے کر سکتا ہے، خاص طور پر اگر یہ 2028 یا اس کے بعد بھی فعال رہے۔ مریخ پر طویل سفر کا یہ ریکارڈ صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں؛ یہ روور کو زیادہ سائنسی سائٹس تک پہنچنے، مختلف جغرافیائی خصوصیات کا مشاہدہ کرنے اور مریخ کی تاریخ و ممکنہ مائیکرو زندگی کے نشانات تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ناسا کا پرسورینس روور مریخ پر طویل سفر کا ریکارڈ توڑنے کے قریب
رپورٹ : اقصی بلوچ
ناسا کا جدید روور پرسورینس مریخ پر طویل سفر کا نیا ریکارڈ بنانے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اب تک پرسورینس نے تقریباً 25 میل (40 کلومیٹر) کا فاصلہ طے کر لیا ہے، اور یہ مریخ پر سب سے زیادہ فاصلے کا ریکارڈ توڑنے والے سابقہ ریکارڈ، جو اپرچونیٹی روور کے نام ہے، کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اپرچونیٹی نے تقریباً 28.06 میل (45.16 کلومیٹر) کا سفر مکمل کیا تھا۔

پرسورینس کا مقصد صرف زیادہ فاصلے کا سفر کرنا نہیں بلکہ مریخ کے جیزرو کریٹر میں قدیم حیاتیاتی نشانات تلاش کرنا بھی ہے۔ اس کے مضبوط پہیے اور خودکار نیویگیشن سسٹم نے سخت مریخی زمین پر لمبا سفر ممکن بنایا ہے۔
ناسا کے انجینیئرز کا خیال ہے کہ پرسورینس مستقبل میں مزید میل طے کر سکتا ہے، خاص طور پر اگر یہ 2028 یا اس کے بعد بھی فعال رہے۔
مریخ پر طویل سفر کا یہ ریکارڈ صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں؛ یہ روور کو زیادہ سائنسی سائٹس تک پہنچنے، مختلف جغرافیائی خصوصیات کا مشاہدہ کرنے اور مریخ کی تاریخ و ممکنہ مائیکرو زندگی کے نشانات تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔