نوجوان پاکستانی انجینئر محمد فراز کو جرمنی میں عالمی ایوارڈ مل گیا
کیلے کے تنوں سے فائبر بنانے والی جدید مشین پر عالمی پذیرائی جرمنی میں جاری بین الاقوامی نمائش ہیم ٹیکسٹائل 2026 میں پاکستانی نوجوان انجینئر محمد فراز نے اپنی منفرد اور تخلیقی ایجاد کے ذریعے دنیا بھر کے طالب علموں میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے محمد فراز نے کیلے کے درخت کے تنوں سے فائبر بنانے کی جدید مشین تیار کی، جس پر انہیں عالمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ایوارڈ جیتنے والی یہ مشین نہ صرف ماحولیاتی تحفظ میں مددگار ہے بلکہ یہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت میں ایک نئی انقلابی تبدیلی کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔ فراز کی تحقیق اور فنی مہارت نے دنیا کے سامنے پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ نمائش میں پاکستان کے پویلین پر غیر ملکی خریداروں کی بڑی تعداد نے پاکستانی مصنوعات کو سراہا، خاص طور پر ان کی کم قیمت، اعلیٰ معیار اور پائیداری کی وجہ سے۔ پاکستانی نمائش کنندگان نے اس کامیابی کو ملکی مصنوعات کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مقبولیت کا موقع قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ہیم ٹیکسٹائل 2026 کے بعد پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی مانگ مزید بڑھے گی۔ یہ کامیابی نہ صرف محمد فراز کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے، جو نوجوانوں میں جدت اور تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
نوجوان پاکستانی انجینئر محمد فراز کو جرمنی میں عالمی ایوارڈ مل گیا
کیلے کے تنوں سے فائبر بنانے والی جدید مشین پر عالمی پذیرائی
رپورٹ: اقصی بلوچ
جرمنی میں جاری بین الاقوامی نمائش ہیم ٹیکسٹائل 2026 میں پاکستانی نوجوان انجینئر محمد فراز نے اپنی منفرد اور تخلیقی ایجاد کے ذریعے دنیا بھر کے طالب علموں میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے محمد فراز نے کیلے کے درخت کے تنوں سے فائبر بنانے کی جدید مشین تیار کی، جس پر انہیں عالمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

ایوارڈ جیتنے والی یہ مشین نہ صرف ماحولیاتی تحفظ میں مددگار ہے بلکہ یہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت میں ایک نئی انقلابی تبدیلی کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔ فراز کی تحقیق اور فنی مہارت نے دنیا کے سامنے پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
نمائش میں پاکستان کے پویلین پر غیر ملکی خریداروں کی بڑی تعداد نے پاکستانی مصنوعات کو سراہا، خاص طور پر ان کی کم قیمت، اعلیٰ معیار اور پائیداری کی وجہ سے۔ پاکستانی نمائش کنندگان نے اس کامیابی کو ملکی مصنوعات کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مقبولیت کا موقع قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ہیم ٹیکسٹائل 2026 کے بعد پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی مانگ مزید بڑھے گی۔
یہ کامیابی نہ صرف محمد فراز کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے، جو نوجوانوں میں جدت اور تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔