سائنس

چین میں سستی اور محفوظ بیٹری تیار کر لی گئی

چین میں سستی اور محفوظ بیٹری تیار کر لی گئی

چین کے سائنس دانوں نے ایک نئی قسم کی بیٹری تیار کر لی ہے جو لیتھیم بیٹریوں کا سستا اور محفوظ متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔ چینی انجینئرز نے سوڈیم اور سلفر سے بنی بیٹری تیار کی ہے، جو روایتی لیتھیم بیٹریوں کے مقابلے میں کم لاگت اور زیادہ محفوظ سمجھی جا رہی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں برقی آلات میں لیتھیم بیٹریوں کا زیادہ استعمال ہو رہا ہے، تاہم ان بیٹریوں کے زیادہ گرم ہونے کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ لیتھیم کے حصول میں مشکلات اور اس کی بڑھتی قیمت بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے دنیا بھر کے محققین ایسے متبادل بیٹری مٹیریلز پر کام کر رہے ہیں جو زیادہ محفوظ، سستے اور مؤثر ہوں۔ سوڈیم اور سلفر بیٹریوں پر پہلے بھی تحقیق کی جا چکی ہے، مگر ماضی میں ان کی تیاری کے دوران کئی عملی مسائل سامنے آئے۔ ان میں سب سے بڑا مسئلہ سوڈیم دھات کی زیادہ مقدار کی ضرورت تھی، جس کی وجہ سے ان بیٹریوں کا بڑے پیمانے پر استعمال ممکن نہیں ہو سکا۔ نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے ان رکاوٹوں کو کم کرنے میں پیش رفت کی ہے، جس سے مستقبل میں یہ بیٹریاں عام استعمال کے لیے دستیاب ہو سکتی ہیں۔

صارفین کی سہولت کے لیے گوگل میپس نئے ڈیزائن کے ساتھ

صارفین کی سہولت کے لیے گوگل میپس نئے ڈیزائن کے ساتھ

گوگل نے گوگل میپس کی سیٹنگز اسکرین کو نئے ڈیزائن کے ساتھ متعارف کرانا شروع کر دیا ہے۔ فی الحال یہ نیا ڈیزائن محدود صارفین کے لیے دستیاب ہے اور پکسل فونز پر بیٹا ورژن میں دیکھا جا سکتا ہے۔ نئی سیٹنگز اسکرین کو سادہ اور منظم انداز میں ترتیب دیا گیا ہے، اور آپشنز کو سات بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ صارفین کے لیے نیویگیشن آسان ہو جائے۔ اہم تبدیلیوں میں یہ شامل ہے کہ اب گوگل میپس سے سائن آؤٹ کا بٹن نمایاں جگہ پر موجود ہے، جبکہ پہلے صارفین کو اس کے لیے نیچے تک اسکرول کرنا پڑتا تھا۔ سیٹنگز بند کرنے کے لیے اوپر بائیں کونے میں موجود بیک ایرو کی جگہ اب اوپر دائیں جانب ایکس بٹن دیا گیا ہے۔ گوگل نے کچھ آپشنز کو بہتر طریقے سے متعلقہ مینو میں منتقل کیا ہے، تاہم مجموعی ڈیزائن میں ابھی بھی میٹیریل تھری ایکسپریسیو اسٹائل مکمل طور پر شامل نہیں کیا گیا، حالانکہ گوگل کی دیگر ایپس میں یہ ڈیزائن پہلے ہی موجود ہے۔

سام سنگ نے دنیا کا سب سے بڑا ٹی وی نمائش کے لیے پیش کر دیا

سام سنگ نے دنیا کا سب سے بڑا ٹی وی نمائش کے لیے پیش کر دیا

ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ نے 130 انچز کے مائیکرو آر جی بی ٹی وی کو نمائش کے لیے پیش کر دیا ہے، جو اب تک کا سب سے بڑا اور جدید ڈسپلے ہے۔ یہ نیا ماڈل CES 2026 میں امریکی شہر لاس ویگس میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ نئے آر 95 ایچ ماڈل میں آڈیو کو ڈسپلے کے فریم میں شامل کیا گیا ہے اور اسکرین کی پیمائش میچ کے لیے ٹیون کی گئی ہے، تاکہ آواز، تصویر اور ٹی وی کے اسپیس میں قدرتی تعلق پیدا ہو۔ یہ 130 انچز کا ماڈل سام سنگ کے جدید مائیکرو آر جی بی اے آئی انجن پرو سے چلتا ہے۔ اس کے علاوہ آر جی بی کلر بوسٹر پرو اور مائیکرو آر جی بی ایچ ڈی آر پرو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے مناظر میں رنگ، کنٹراسٹ اور تفصیلات بڑھاتے ہیں۔ سام سنگ کے مطابق یہ ڈسپلے 100 فیصد BT.2020 حقیقی رنگ پیش کرتا ہے اور درست رنگ پیش کرنے پر جرمنی کے VDE (Verband Der Elektrotechnik) کی جانب سے سرٹیفکیٹ بھی حاصل کر چکا ہے۔

انسٹاگرام پر 17.5 ملین صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کا خدشہ، پاس ورڈ تبدیلی کی ہدایات جاری

انسٹاگرام پر 17.5 ملین صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کا خدشہ، پاس ورڈ تبدیلی کی ہدایات جاری

سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام کے تقریباً ایک کروڑ 75 لاکھ اکاؤنٹس کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ صارفین کو اپنے پاس ورڈز تبدیل کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق انسٹاگرام صارفین کی ذاتی معلومات کے لیک ہونے کے خدشات سامنے آئے ہیں۔ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹس کی سیکیورٹی پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ سائبر سیکیورٹی کمپنی میلویئربائٹس کی رپورٹ کے مطابق لیک ہونے والے ڈیٹا میں صارفین کے یوزرنیم، ای میل ایڈریسز، فون نمبرز، رہائشی پتے اور دیگر حساس معلومات شامل ہیں۔ کمپنی نے بتایا کہ یہ معلومات ڈارک ویب مانیٹرنگ کے دوران سامنے آئیں اور صارفین کو ممکنہ غلط استعمال سے بچانے کے لیے پاس ورڈ ری سیٹ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کئی صارفین نے غیر متوقع طور پر اپنے اکاؤنٹس کے پاس ورڈ ری سیٹ ہونے اور ای میلز موصول ہونے کی شکایات کی تھیں، جس سے ڈیٹا لیک کے خدشات پیدا ہوئے۔ سائبر سیکیورٹی کمپنی نے کہا ہے کہ اس سرگرمی کے نتیجے میں دنیا بھر میں ایک کروڑ 75 لاکھ انسٹاگرام اکاؤنٹس کا ڈیٹا چوری ہوا ہے اور یہ معلومات ڈارک ویب پر فروخت کے لیے دستیاب ہو سکتی ہیں۔

ناسا کا تاریخی کارنامہ: مریخ پر آکسیجن کی کامیاب تیاری

ناسا کا تاریخی کارنامہ: مریخ پر آکسیجن کی کامیاب تیاری

ناسا نے MOXIE نامی جدید تجربے کے ذریعے مریخ کے کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بھرپور ماحول سے آکسیجن تیار کر کے تاریخ رقم کر دی ہے۔ یہ تجربہ 2021 سے 2023 تک Perseverance rover پر کامیابی سے جاری رہا، جس کے دوران مختلف موسمی اور ماحولیاتی حالات میں 122 گرام خالص آکسیجن پیدا کی گئی۔ اس کامیابی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مستقبل میں مریخ پر انسانی مشنز کے لیے سانس لینے کی آکسیجن اور راکٹ ایندھن وہیں تیار کرنا ممکن ہو گا، جو انسانی آبادکاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

انڈونیشیا میں چیٹ بوٹ گروک پر پابندی

انڈونیشیا میں چیٹ بوٹ گروک پر پابندی

انڈونیشیا کی حکومت نے ایلون مسک کے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ گروک پر عارضی پابندی لگا دی ہے۔ وزارتِ مواصلات کے مطابق یہ فیصلہ اس خدشے کے باعث کیا گیا ہے کہ گروک کے ذریعے فحش اور غیر اخلاقی مواد تیار اور پھیلایا جا سکتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں آن لائن فحش مواد کے خلاف سخت قوانین موجود ہیں، اس لیے فوری کارروائی ضروری تھی۔ وزارت نے اس معاملے پر بات چیت کے لیے ایکس کمپنی کے حکام کو بھی طلب کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ انڈونیشیا دنیا کا سب سے بڑا مسلم آبادی والا ملک ہے، جہاں غیر اخلاقی آن لائن مواد پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ اسی وجہ سے حکومت نے گروک تک عوامی رسائی روک دی ہے۔

چین نے اے آئی شعبے کا حجم 10 کھرب یوآن تک بڑھانے کا ہدف مقرر کر لیا

چین نے اے آئی شعبے کا حجم 10 کھرب یوآن تک بڑھانے کا ہدف مقرر کر لیا

چین نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بڑی پیش رفت کے لیے نیا منصوبہ متعارف کرا دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت چین نے اگلے دو سال میں اپنے اے آئی شعبے کے مالیاتی حجم کو 10 کھرب یوآن سے زیادہ کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق چین کا مقصد 2027 تک بنیادی اے آئی ٹیکنالوجیز میں عالمی سطح پر برتری حاصل کرنا ہے۔ اس کے لیے حکومت کی جانب سے ایک جامع عملی منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس میں اے آئی صنعت کے مختلف شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔ منصوبے کے تحت تکنیکی جدت کو خاص اہمیت دی گئی ہے، جبکہ تحقیق، معیاری ڈیٹا کی دستیابی اور مختلف شعبوں میں اے آئی کے استعمال کو فروغ دینے پر بھی زور دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ باصلاحیت افراد کو متوجہ کرنے، طویل مدتی سرمایہ کاری بڑھانے اور اوپن سورس اے آئی نظام کی حمایت کے اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ بیجنگ میونسپل کمیشن آف ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کے ڈائریکٹر یانگ شیولنگ کے مطابق منصوبے میں مقامی سطح پر تیار کردہ اے آئی کمپیوٹنگ کلسٹر کی تعمیر بھی شامل ہے، جس میں ایک لاکھ سے زائد چپس استعمال کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ 10 سے زائد نئی اے آئی کمپنیوں کو اسٹاک مارکیٹ میں لانے اور 20 سے زائد یونیکورن کمپنیوں کو فروغ دینے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین میں اے آئی شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ چین اکیڈمی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ ستمبر 2025 تک چین میں اے آئی سے وابستہ کمپنیوں کی تعداد 5300 سے تجاوز کر چکی ہے، جو دنیا بھر میں موجود ایسی کمپنیوں کا تقریباً 15 فیصد بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدامات چین کو مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک مضبوط عالمی طاقت بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

چین کے مصنوعی سورج  نے بڑی کامیابی حاصل کر لی

چین کے مصنوعی سورج  نے بڑی کامیابی حاصل کر لی

چین کے سائنس دانوں نے توانائی کے شعبے میں ایک اہم کامیابی حاصل کر لی ہے، جسے مستقبل میں بجلی پیدا کرنے کے نئے ذرائع کے لیے بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے مطابق ان کے تجرباتی نیوکلیئر ری ایکٹر، جسے ’مصنوعی سورج‘ کہا جاتا ہے، نے پہلی بار پلازمہ کی ایسی سطح حاصل کر لی ہے جو اس سے قبل ممکن نہیں سمجھی جاتی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی نیوکلیئر فیوژن انرجی کو سمجھنے میں درپیش ایک بڑی رکاوٹ کو دور کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ نیوکلیئر فیوژن ایسا عمل ہے جس کے ذریعے بغیر نقصان دہ فضلے کے بہت زیادہ توانائی پیدا کی جا سکتی ہے۔ یہی وہ قدرتی عمل ہے جو سورج میں ہوتا ہے، تاہم زمین پر اسی عمل کو کامیابی سے انجام دینا ایک مشکل کام سمجھا جاتا ہے۔ سائنس دانوں نے حالیہ برسوں میں اس میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ گزشتہ سال چین کے مصنوعی سورج نے پہلی بار 1000 سیکنڈ سے زائد وقت تک کام کر کے ایک ریکارڈ قائم کیا تھا، جسے بعد میں فرانس کی WEST مشین نے توڑ دیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ کامیابی مستقبل میں سستی، صاف اور تقریباً لامحدود توانائی کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو کیا کریں؟ آسان طریقے جان لیں

واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو کیا کریں؟ آسان طریقے جان لیں

پاکستان میں واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہونے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ روزانہ بڑی تعداد میں عام شہری، بزرگ، خواتین، طلبہ اور کاروباری افراد اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹس سے محروم ہو رہے ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ ایک آگاہی ویڈیو میں عوام کو واٹس ایپ ہیکنگ سے بچاؤ اور اکاؤنٹ دوبارہ حاصل کرنے کے طریقے بتائے گئے ہیں۔ واٹس ایپ اکاؤنٹ کیسے ہیک ہوتا ہے؟ اکثر صارفین کو کسی جاننے والے کے نام سے پیغام موصول ہوتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ واٹس ایپ اکاؤنٹ ویریفائی کرنا ہے یا پھر 6 ہندسوں کا کوڈ بھیج دیں۔ بعض اوقات یہ پیغام کسی دوست یا رشتہ دار کے نمبر سے آتا ہے جس کا اکاؤنٹ پہلے ہی ہیک ہو چکا ہوتا ہے۔ لوگ لاعلمی یا جلدی میں وہ کوڈ شیئر کر دیتے ہیں، جس کے بعد ہیکر مکمل طور پر واٹس ایپ اکاؤنٹ پر قابض ہو جاتا ہے۔ یاد رکھیں، واٹس ایپ کا تصدیقی کوڈ کبھی کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ اگر واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو کیا کریں؟ اگر آپ کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہو چکا ہے تو سب سے پہلے اپنے موبائل فون سے واٹس ایپ ڈیلیٹ کریں اور دوبارہ انسٹال کریں۔ اس کے بعد وہی موبائل نمبر درج کریں جو پہلے واٹس ایپ پر رجسٹرڈ تھا۔ نمبر ڈالنے کے بعد آپ کو 6 ہندسوں کا تصدیقی کوڈ موصول ہوگا، یہ کوڈ درج کریں۔ زیادہ تر کیسز میں اسی مرحلے پر ہیکر کی رسائی ختم ہو جاتی ہے۔ ساتھ ہی اپنے دوستوں اور گھر والوں کو کسی دوسرے نمبر سے اطلاع دیں کہ اگر آپ کے نام سے کوئی مشکوک پیغام آئے تو اس پر عمل نہ کریں۔ اکاؤنٹ بحال نہ ہو تو کیا کریں؟ اگر اکاؤنٹ فوری طور پر بحال نہ ہو سکے تو پریشان نہ ہوں۔ واٹس ایپ 7 دن بعد صارف کو بغیر پن کے لاگ ان ہونے کی اجازت دے دیتا ہے، بشرطیکہ سم کارڈ صارف کے پاس موجود ہو۔ احتیاطی تدابیر ماہرین کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ پر ٹو اسٹیپ ویریفکیشن کو خود آن کریں اور کسی بھی مشکوک لنک یا پیغام سے دور رہیں تاکہ ہیکنگ سے بچا جا سکے۔

کائنات کی ابتدائی دور میں انتہائی گرم گیس کا حیران کن مشاہدہ

کائنات کی ابتدائی دور میں انتہائی گرم گیس کا حیران کن مشاہدہ

سائنس دانوں نے خلا میں گیس کے ایک انتہائی گرم مجموعے کا مشاہدہ کیا ہے، جو ابتدائی کائنات میں پایا گیا اور محققین کی توقعات سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ یہ گیس کا مجموعہ کائنات کے ابتدائی دور میں دریافت ہوا، یعنی بِگ بینگ کے تقریباً 1 ارب 40 کروڑ سال بعد، اور یہ اتنی گرم ہے کہ سائنس دان شروع میں اسے کسی غلطی کا نتیجہ سمجھ رہے تھے۔ یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے محقق ڈاژی ژو کے مطابق، سائنس دانوں کو توقع نہیں تھی کہ ابتدائی کائنات میں اتنی شدید گرم گیس دیکھی جا سکتی ہے۔ مہینوں کی تحقیق کے بعد یہ تصدیق ہوئی کہ یہ گیس توقع سے کم از کم پانچ گُنا زیادہ گرم ہے، اور یہ آج دریافت ہونے والے گلیکسی کلسٹرز سے بھی زیادہ توانائی رکھتی ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ابتدائی کائنات میں موجود کچھ بڑی چیزیں، ممکنہ طور پر تین عظیم الجثہ بلیک ہولز، اس گیس کو اتنا گرم رکھ رہی تھیں۔ یہ دریافت SPT2349-56 نامی ایک 'بیبی' گلیکسی کلسٹر کے مشاہدے سے ہوئی، جو تقریباً 12 ارب سال پہلے کی کہکشاؤں پر مشتمل ہے۔ اس جھرمٹ میں 30 فعال کہکشائیں موجود ہیں اور اس کا مرکز 5 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ یہ مشاہدہ سائنس دانوں کے لیے کائنات کی ابتدائی تاریخ کے حوالے سے ایک حیرت انگیز دریافت ہے اور یہ بتاتا ہے کہ کائنات کے شروع کے دور میں کچھ بہت ہی طاقتور اور غیر متوقع عوامل موجود تھے۔

آٹو فوکس اسمارٹ چشمہ متعارف

آٹو فوکس اسمارٹ چشمہ متعارف

فِن لینڈ کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی IXI نے ایک ایسا جدید اسمارٹ چشمہ متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جو پہننے والے کی نظر کے مطابق خود بخود فوکس ایڈجسٹ کر لیتا ہے۔ بظاہر یہ چشمہ عام چشموں جیسا ہی دکھائی دیتا ہے، تاہم اس میں جدید سینسنگ ٹیکنالوجی شامل کی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس چشمے میں آنکھوں کی حرکت کو پہچاننے والے خاص سینسر نصب ہیں، جبکہ لینسز میں لیکوئیڈ کرسٹل ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ یہ لینسز لمحوں میں اپنی طاقت تبدیل کر لیتے ہیں، جس سے صارف کو دور اور قریب دیکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ یہ اسمارٹ چشمہ روایتی بائی فوکل اور ویری فوکل لینسز کا جدید متبادل قرار دیا جا رہا ہے۔ عام لینسز میں صارف کو بار بار سر یا آنکھوں کی پوزیشن بدلنا پڑتی ہے، جبکہ نیا چشمہ خود ہی نظر کو واضح بنا لیتا ہے۔ چشمے میں موجود فوٹو ڈایوڈز اور ایل ای ڈی لائٹس آنکھوں پر غیر مرئی انفرا ریڈ روشنی خارج کرتی ہیں۔ اس روشنی کی واپسی سے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ صارف کس فاصلے پر موجود چیز کو دیکھ رہا ہے، اور اسی حساب سے فوکس فوراً تبدیل ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جدید چشمہ مستقبل میں نظر کے مسائل سے دوچار افراد کے لیے ایک اہم اور کارآمد ایجاد ثابت ہو سکتا ہے۔

نئے سال کا یادگار فلکیاتی نظارہ کب دیکھا جائے گا؟

نئے سال کا یادگار فلکیاتی نظارہ کب دیکھا جائے گا؟

نئے سال کے آغاز میں دنیا نے پہلا سپر مون تو دیکھ لیا، لیکن ایک اور نایاب فلکیاتی نظارہ ابھی باقی ہے۔ ماہرین فلکیات کے مطابق جنوری 2026 میں زہرہ اور مریخ کے درمیان ایک دُہرا شمسی اقتران ہونے جا رہا ہے، جو فلکیاتی تاریخ میں کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ یہ فلکیاتی مظہر 6 سے 9 جنوری کے درمیان ہوگا۔ اس دوران زہرہ، مریخ اور سورج ایک ہی سیدھ میں آ جائیں گے اور دونوں سیارے سورج کے پیچھے سے گزریں گے۔ جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ ماجد ابو زاہرہ کے مطابق اس موقع پر زہرہ اور مریخ آسمان پر بظاہر ایک دوسرے کی مخالف سمت میں حرکت کرتے دکھائی دیں گے۔ تفصیلات کے مطابق 6 جنوری رات 8 بجے مکہ مکرمہ کے وقت کے مطابق زہرہ سورج کے پیچھے سے گزرے گا، جبکہ 9 جنوری صبح 6 بج کر 59 منٹ پر مریخ سورج کے عقب سے گزرے گا۔ دونوں واقعات کے درمیان کم وقت ہونے کی وجہ سے اسے دُہرا شمسی اقتران کہا جا رہا ہے۔ ماہرین فلکیات نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ اس نظارے کو ننگی آنکھ سے دیکھنے سے گریز کریں، کیونکہ سورج کے قریب موجود سیاروں کو براہ راست دیکھنے سے آنکھوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج گردشِ زمین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج گردشِ زمین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں آج 8 جنوری کو گردشِ زمین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا مقصد زمین کی گردش سے متعلق سائنسی حقیقت کو یاد کرنا اور سائنس کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ یہ دن سائنسی تاریخ میں اس لیے اہم ہے کہ 8 جنوری 1851 کو فرانسیسی سائنس دان لیون فوکو نے پیرس میں ایک بڑے جھولتے ہوئے پینڈولم کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ زمین اپنے محور کے گرد گردش کرتی ہے۔ اس تجربے کو فوکو پینڈولم کے نام سے جانا جاتا ہے اور آج بھی اسے سائنس کی دنیا میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ یومِ گردشِ زمین ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ زمین کی حرکت کا علم ہماری روزمرہ زندگی میں کس قدر اہم ہے۔ موسم کی پیش گوئی، سیٹلائٹ نظام، نیویگیشن، قدرتی آفات کی نگرانی اور خلائی تحقیق جیسے شعبے زمین کی گردش کو سمجھنے سے ہی ممکن ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دن خاص طور پر طلبہ کے لیے اہم ہے تاکہ وہ طبیعیات، فلکیات اور خلائی علوم میں دلچسپی لیں اور سائنسی سوچ کو اپنائیں۔ یومِ گردشِ زمین ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ سادہ مشاہدہ اور تحقیق انسان کو کائنات کے بڑے راز سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

ناریل کے تیل میں صرف تین چمچ شامل کریں، بال گرنے سے نجات اور افزائش میں مدد

ناریل کے تیل میں صرف تین چمچ شامل کریں، بال گرنے سے نجات اور افزائش میں مدد

بالوں کی مناسب دیکھ بھال نہ کی جائے تو وہ خشک، بے جان ہو جاتے ہیں اور گرنے لگتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بالوں کی صحت اور خوبصورتی برقرار رکھنے کے لیے قدرتی تیلوں کا استعمال فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ناریل کے تیل میں چند قدرتی اجزا شامل کر کے بال گرنے کے مسئلے میں کمی لائی جا سکتی ہے اور بالوں کی نشوونما میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ قدرتی نسخے کے مطابق ناریل کے تیل میں تین سے چار چمچ پسی ہوئی خشک روز میری شامل کر کے ہلکی آنچ پر پکایا جائے۔ جب تیل ابلنے لگے تو اسے ٹھنڈا کر کے اس میں بایوٹین کا ایک کیپسول شامل کر لیا جائے۔ اس تیل سے ہفتے میں چند بار سر کی مالش کرنے سے بالوں کی جڑیں مضبوط ہو سکتی ہیں اور بال گرنے میں کمی آ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بایوٹین ایک اہم وٹامن ہے جو جلد، بالوں اور ناخنوں کی صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے، جبکہ روز میری ایک قدرتی جڑی بوٹی ہے جو بالوں کی افزائش میں مدد دے سکتی ہے۔ ناریل کا تیل بالوں کو نمی فراہم کرتا ہے اور خشکی کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ قدرتی اجزا سے تیار کیا گیا یہ تیل بالوں کی مجموعی صحت بہتر بنانے، بالوں کو گھنا اور مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم بہتر نتائج کے لیے اس کا استعمال باقاعدگی سے کرنا ضروری ہے۔

یو ای ٹی کے طلبہ نے پاکستان کا پہلا اے آئی وکیل متعارف کرادیا

یو ای ٹی کے طلبہ نے پاکستان کا پہلا اے آئی وکیل متعارف کرادیا

یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) کے چھ طلبہ نے پاکستان کا پہلا مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ڈیجیٹل وکیل تیار کیا ہے۔ یہ جدید نظام قانونی شعبے میں اہم تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ڈیجیٹل وکیل کو بطور قانونی اسسٹنٹ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وکلا صرف ایک کلک پر تفصیلی کیس تیار کر سکتے ہیں، جبکہ یہ وکیل 1947 سے 2025 تک کے ملکی عدالتی فیصلوں اور قوانین کے مطابق درست قانونی جوابات فراہم کرتا ہے۔ ڈیجی لائر کے بانیوں کے مطابق، اے آئی وکیل درخواستیں، جوابات، نوٹسز اور معاہدات تیار کرتا ہے اور اس وقت دس ہزار سے زائد لا فرمز اور اداروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ اس کے ذریعے وکلا اور قانونی ماہرین کا وقت ضائع نہیں ہوگا اور عدالتوں میں کیس کے التوا جیسے مسائل میں کمی آئے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی نوجوان وکلا کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ انصاف کی فراہمی، شفافیت اور عوامی اعتماد کو مضبوط کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔

واٹس ایپ صارفین کے لیے الرٹ، نیا سائبر فراڈ سامنے آ گیا

واٹس ایپ صارفین کے لیے الرٹ، نیا سائبر فراڈ سامنے آ گیا

واٹس ایپ صارفین کو ایک نئے اور خطرناک سائبر فراڈ گوسٹ پیئرنگ سے خبردار کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے ہیکرز بغیر کسی سیکیورٹی سسٹم کو توڑے صارفین کے واٹس ایپ اکاؤنٹس خاموشی سے ہائی جیک کر لیتے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، ہیکرز واٹس ایپ کی منسلک ڈیوائسز کی سہولت کا غلط استعمال کرتے ہوئے صارف کے پیغامات، تصاویر، ویڈیوز اور وائس نوٹس تک مکمل رسائی حاصل کر لیتے ہیں، جس کے بعد اکاؤنٹ پر مکمل کنٹرول ممکن ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیکرز عموماً صارفین کو ایک جعلی لنک ارسال کرتے ہیں جو کسی معروف ویب سائٹ جیسا دکھائی دیتا ہے۔ جیسے ہی صارف اس لنک پر جا کر اپنا موبائل نمبر اور واٹس ایپ کا تصدیقی کوڈ درج کرتا ہے، اس کا اکاؤنٹ ہیکر کے آلے سے منسلک ہو جاتا ہے، جبکہ صارف کو اس عمل کی کوئی واضح اطلاع بھی نہیں ملتی۔ اکاؤنٹ ہیک ہونے کی صورت میں ممکنہ خطرات: ہیکر صارف کے نجی پیغامات پڑھ سکتا ہے تصاویر، ویڈیوز اور وائس نوٹس ڈاؤن لوڈ کیے جا سکتے ہیں صارف کی شناخت سے پیغامات بھیجے جا سکتے ہیں فراڈ پیغامات صارف کے رابطوں تک پھیلائے جا سکتے ہیں واٹس ایپ اکاؤنٹ کو محفوظ رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر: واٹس ایپ سیٹنگز میں جا کر منسلک ڈیوائسز کی باقاعدہ جانچ کریں اور کسی بھی غیر معروف ڈیوائس کو فوراً ہٹا دیں۔ واٹس ایپ میں دو مرحلوں کی تصدیق کو فعال کریں اور چھ ہندسوں کا پن کوڈ ضرور سیٹ کریں۔ کسی بھی مشکوک لنک، ویب سائٹ یا تصدیقی کوڈ کی درخواست سے گریز کریں، چاہے پیغام کسی جاننے والے کی جانب سے ہی کیوں نہ آیا ہو۔ تصدیق کے لیے براہِ راست کال کریں۔ سائبر ماہرین نے زور دیا ہے کہ صارفین تصدیقی کوڈ یا کیو آر کوڈ اسکین کرنے کی کسی بھی درخواست پر خصوصی احتیاط برتیں اور واٹس ایپ کی حفاظتی سہولیات کو باقاعدگی سے استعمال کریں تاکہ خود کو سائبر فراڈ اور ڈیجیٹل جرائم سے محفوظ رکھا جا سکے۔

ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک کا وینزویلا کے لیے بڑا اعلان، محدود مدت تک مفت انٹرنیٹ

ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک کا وینزویلا کے لیے بڑا اعلان، محدود مدت تک مفت انٹرنیٹ

دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ایلون مسک کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنی اسٹارلنک نے وینزویلا میں محدود وقت کے لیے مفت انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ سہولت 3 فروری تک دستیاب رہے گی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وینزویلا سیاسی بحران، فوجی کارروائیوں اور انٹرنیٹ بندش کا سامنا کر رہا ہے۔ اسٹارلنک کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد وینزویلا کے عوام کو دنیا سے جوڑے رکھنا اور معلومات تک آزاد رسائی کو ممکن بنانا ہے۔ کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ وینزویلا کے عوام کے ساتھ مسلسل رابطے کے عزم پر قائم ہے، جہاں آن لائن سنسرشپ ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ماضی میں وینزویلا کی حکومت فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندیاں لگا چکی ہے، جس سے عوام اور صحافیوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ حالیہ حالات میں دارالحکومت کراکس سمیت کئی شہروں میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند ہو گئی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسٹارلنک کا یہ قدم صرف ایک تکنیکی سہولت نہیں بلکہ انسانی ہمدردی اور یکجہتی کی علامت بھی ہے، جس سے مشکل حالات میں وینزویلا کے عوام کو معلومات اور رابطے کی سہولت مل سکے گی۔

چین میں روبوٹ کے لیے مصنوعی جلد تیار، انسانوں کی طرح درد محسوس کرنے کے قابل

چین میں روبوٹ کے لیے مصنوعی جلد تیار، انسانوں کی طرح درد محسوس کرنے کے قابل

چین کے سائنس دانوں نے روبوٹ کے لیے ایک خاص مصنوعی جلد تیار کی ہے جس کی مدد سے روبوٹ انسانوں کی طرح لمس اور درد محسوس کر سکتے ہیں۔ یہ جدید جلد نیورومورفک ٹیکنالوجی سے بنائی گئی ہے جو انسانی اعصابی نظام کی طرح کام کرتی ہے۔ ہانگ کانگ کی سٹی یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق اگر روبوٹ کسی گرم یا نوکیلی چیز کو چھوتا ہے تو وہ فوراً ردِعمل دے گا اور اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لے گا، بالکل انسانوں کی طرح۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ مصنوعی جلد چار تہوں پر مشتمل ہے جو دباؤ اور لمس کو برقی سگنلز میں تبدیل کرتی ہے۔ ہلکا دباؤ عام لمس سمجھا جاتا ہے جبکہ زیادہ دباؤ کو درد کے طور پر محسوس کیا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ روبوٹ کو فوری ردِعمل کے لیے مرکزی دماغ کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ اگر جلد کو نقصان پہنچے تو روبوٹ فوراً اس کی نشاندہی کر لیتا ہے اور خراب حصے کو چند سیکنڈ میں بدلنا بھی ممکن ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایجاد مستقبل میں روبوٹس کو زیادہ محفوظ اور انسانوں کے قریب بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

عمان کے آسمان پر روشن شہابی بارش کا خوبصورت منظر

عمان کے آسمان پر روشن شہابی بارش کا خوبصورت منظر

سلطنت عمان کے آسمان پر جنوری کے شروع میں روشن شہابی بارش دیکھنے کو مل رہی ہے، جو ہر سال نئے سال کے آغاز کے ساتھ اپنے عروج پر پہنچتی ہے۔ یہ ایک قدرتی فلکیاتی مظہر ہے جو آسمان کو جادوئی روشنی سے بھر دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ شہابی بارش زمین کے قریب موجود چھوٹے ملبے یا میٹیورائٹس کی وجہ سے ہوتی ہے، جو زمین کی فضا میں داخل ہو کر تیز رفتار سے روشن ٹریک چھوڑتے ہیں۔ ہر سال کے اس وقت آسمان میں درجنوں سے لے کر سینکڑوں روشن شہاب دیکھے جا سکتے ہیں، حالات کے مطابق۔ عام طور پر رات کے درمیانی وقت سے صبح کے ابتدائی گھنٹے تک، خاص طور پر صاف اور تاریک آسمان والے علاقوں میں یہ مظہر سب سے زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ عمان کے مختلف شہروں میں لوگ اس فلکیاتی خوبصورتی کا لطف اٹھا سکتے ہیں، جو آسمان دیکھنے والوں کے لیے ایک نادر اور دلکش تجربہ ہے۔ یہ روشن شہابی بارش نہ صرف آسمان کے شوقین افراد کے لیے دلچسپی کا باعث ہے بلکہ فلکیات کے مطالعہ کرنے والوں کے لیے بھی معلومات اور مشاہدے کا اہم موقع فراہم کرتی ہے۔

جنوبی کوریا میں فوری خون روکنے والا اسپرے تیار

جنوبی کوریا میں فوری خون روکنے والا اسپرے تیار

جنوبی کوریا کے سائنسدانوں نے ایک ایسا جدید طبی اسپرے تیار کیا ہے جو صرف ایک سیکنڈ میں گہرے زخموں سے بہتے ہوئے خون کو روک سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایجاد ہنگامی طبی امداد کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے اور نازک حالات میں کئی جانیں بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق کوریا ایڈوانسڈ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین نے ایک نیا میڈیکل پاؤڈر تیار کیا ہے جسے AGCL پاؤڈر کہا جاتا ہے۔ یہ ایک جدید ہیموسٹیٹک ایجنٹ ہے جسے زخم پر براہ راست اسپرے کر کے خون کو فوری طور پر روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ جب AGCL پاؤڈر کو کسی زخم پر اسپرے کیا جاتا ہے تو یہ خون میں موجود کیلشیم آئنز کے ساتھ فوراً کیمیائی ردِعمل ظاہر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ ایک مضبوط ہائیڈروجیل تہہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ صرف ایک سیکنڈ کے اندر یہ تہہ زخم کو مؤثر طریقے سے بند کر دیتی ہے اور گہرے یا ناہموار زخموں سے بھی خون کے بہاؤ کو روک دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اسپرے روایتی طریقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز اور مؤثر ہے، کیونکہ یہ چند ہی لمحوں میں کام شروع کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایجاد نازک اور ہنگامی حالات میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ AGCL پاؤڈر کی ایک بڑی خوبی اس کی پائیداری ہے۔ یہ پاؤڈر زیادہ درجہ حرارت یا نمی والے ماحول میں بھی دو سال تک مؤثر رہ سکتا ہے، جس کی وجہ سے اسے میدانِ جنگ، قدرتی آفات، حادثات اور دیگر ہنگامی حالات میں آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید زخموں سے زیادہ خون بہہ جانا دنیا بھر میں اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ ایسے میں AGCL پاؤڈر جیسی نئی ٹیکنالوجی قیمتی وقت بچا کر متاثرہ افراد کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔