جاپان نے ایک حیران کن اور منفرد ٹیکنالوجی متعارف کروا دی ہے جس کے ذریعے اب ٹی وی اسکرین پر نظر آنے والے کھانوں کا ذائقہ بھی محسوس کیا جا سکے گا۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس تجرباتی ڈیوائس کو ٹیسٹ دی ٹی وی (TTTV) کا نام دیا گیا ہے، جسے ٹوکیو کی میجی یونیورسٹی کے پروفیسر ہومی میاشِتا نے اپنی تحقیقی ٹیم کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ یہ ٹی وی بظاہر ایک عام فلیٹ اسکرین جیسا دکھائی دیتا ہے، تاہم اس میں ایک خاص نظام نصب کیا گیا ہے جو ذائقے کو انسانی زبان تک منتقل کرتا ہے۔ اس نظام میں دس بنیادی ذائقوں جیسے میٹھا، کھٹا، نمکین اور دیگر ذائقوں کا امتزاج استعمال کیا جاتا ہے، جو مخصوص تناسب سے اسکرین پر باریک تہہ یا اسپرے کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں، اور ناظرین اسکرین پر زبان پھیر کر ٹی وی پر دکھائے جانے والے کھانوں کا ذائقہ محسوس کر سکتے ہیں۔ پروفیسر ہومی میاشِتا کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا مقصد صرف تفریح نہیں بلکہ انسانی تجربات کو نئی جہت دینا ہے، اور کورونا وبا کے دوران گھروں تک محدود زندگی نے اس خیال کو مزید مضبوط کیا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا سے جڑنے کے نئے راستے تلاش کیے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں یہ نظام لوگوں کو مختلف ممالک اور ثقافتوں کے کھانوں کا ذائقہ گھر بیٹھے محسوس کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ یہ منصوبہ تقریباً 30 طلبہ پر مشتمل ایک تحقیقی ٹیم نے مکمل کیا، جس کا ابتدائی پروٹوٹائپ گزشتہ سال تیار کیا گیا تھا، جبکہ اس کے کمرشل ورژن کی ممکنہ قیمت تقریباً ایک لاکھ جاپانی ین یعنی 639 امریکی ڈالر رکھی جا سکتی ہے۔ تاہم فی الحال یہ ڈیوائس عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں اور اسے مزید بہتری اور جانچ کے مراحل سے گزارا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو آن لائن کھانا پکانے کی تربیت، ریستورانوں کی ورچوئل مارکیٹنگ اور فاصلاتی تعلیم جیسے شعبوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بلوچستان کے ساحلی علاقوں پسنی سے جیوانی تک سمندر کے پانی کا رنگ سبز ہو گیا ہے، جس کی وجہ نوکٹیلوکا بلوم بتائی جا رہی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ٹیکنیکل ایڈوائزر معظم خان کے مطابق نوکٹیلوکا بلوم ایک قدرتی موسمی عمل ہے جو ہر سال نومبر سے فروری کے دوران ظاہر ہوتا ہے اور اس کا آلودگی سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نوکٹیلوکا بلوم کو عام طور پر “سی اسپارکل” کہا جاتا ہے، جو مختلف اوقات میں سرخ، نارنجی، سبز یا بے رنگ بھی دکھائی دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ بلوم زہریلا نہیں ہوتا اور اس کے باعث مچھلیوں کی ہلاکت کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
معظم خان کا کہنا تھا کہ رات کے وقت نوکٹیلوکا بلوم سمندر میں نیلی روشنی پیدا کرتا ہے، جو ایک قدرتی منظر ہے۔ تاہم بلوم کے ختم ہونے کے بعد کچھ عرصے کے لیے بو آ سکتی ہے، جو بھی قدرتی عمل کا حصہ ہے۔بلوچستان کے ساحلی علاقوں پسنی سے جیوانی تک سمندر کے پانی کا رنگ سبز ہو گیا ہے، جس کی وجہ نوکٹیلوکا بلوم بتائی جا رہی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ٹیکنیکل ایڈوائزر معظم خان کے مطابق نوکٹیلوکا بلوم ایک قدرتی موسمی عمل ہے جو ہر سال نومبر سے فروری کے دوران ظاہر ہوتا ہے اور اس کا آلودگی سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نوکٹیلوکا بلوم کو عام طور پر “سی اسپارکل” کہا جاتا ہے، جو مختلف اوقات میں سرخ، نارنجی، سبز یا بے رنگ بھی دکھائی دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ بلوم زہریلا نہیں ہوتا اور اس کے باعث مچھلیوں کی ہلاکت کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
معظم خان کا کہنا تھا کہ رات کے وقت نوکٹیلوکا بلوم سمندر میں نیلی روشنی پیدا کرتا ہے، جو ایک قدرتی منظر ہے۔ تاہم بلوم کے ختم ہونے کے بعد کچھ عرصے کے لیے بو آ سکتی ہے، جو بھی قدرتی عمل کا حصہ ہے۔
سورج مکھی کے بیج غذائیت سے بھرپور ہونے کے باعث صحت کے لیے بے حد فائدہ مند سمجھے جاتے ہیں۔ یہ بیج وٹامنز، معدنیات اور صحت مند چکنائی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ان میں خاص طور پر وٹامن ای کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو جسم کے خلیات کو نقصان پہنچانے والے فری ریڈیکلز سے محفوظ رکھتا ہے۔
ماہرینِ غذائیت کے مطابق سورج مکھی کے بیج دل کی صحت کے لیے نہایت مفید ہیں۔ ان میں موجود صحت مند چکنائیاں خراب کولیسٹرول کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں، جس سے دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ وٹامن ای سوزش کو کم کر کے دل کو مزید تحفظ فراہم کرتا ہے۔
یہ بیج دماغی صحت کے لیے بھی فائدہ مند مانے جاتے ہیں۔ وٹامن ای دماغی خلیات کو مضبوط بناتا ہے جبکہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز یادداشت اور توجہ کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں، جس سے ذہنی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
جلد کی خوبصورتی اور صحت کے لیے بھی سورج مکھی کے بیج اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جلد کو فری ریڈیکلز اور سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے بچاتے ہیں، جس سے جلد تروتازہ اور جوان نظر آتی ہے۔
ہاضمے کے مسائل سے بچاؤ کے لیے سورج مکھی کے بیجوں میں پایا جانے والا فائبر آنتوں کی صحت بہتر بناتا ہے، قبض میں کمی لاتا ہے اور مفید بیکٹیریا کی افزائش میں مدد دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سورج مکھی کے بیج وزن کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان میں موجود پروٹین، فائبر اور صحت مند چکنائی بھوک کو کم کرتی ہے، جس سے غیر ضروری کھانے سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔
ان بیجوں میں میگنیشیم، کیلشیم اور کاپر جیسے اہم معدنیات بھی شامل ہوتے ہیں، جو ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اجزا سوزش کم کر کے مجموعی ہڈیوں کی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔
سورج مکھی کے بیج مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وٹامن ای، سیلینیم اور زنک جسم کے دفاعی نظام کو بہتر بناتے ہیں اور بیماریوں کے خلاف قوت بڑھاتے ہیں۔
آنکھوں کی صحت کے لیے بھی یہ بیج مفید سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس آنکھوں کو عمر کے ساتھ آنے والی کمزوری اور موتیابند جیسے مسائل سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ لیوٹین اور زیکسینتھین اچھی بینائی برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج مکھی کے بیج اگر مناسب مقدار میں روزمرہ خوراک کا حصہ بنائے جائیں تو یہ مجموعی صحت کے لیے نہایت فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔
بنی نوع انسان کو درپیش ایک نیا اور سنگین خطرہ سامنے آ گیا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے سائنسدانوں نے اپنی تازہ تحقیق میں خبردار کیا ہے کہ زمین کا بڑھتا ہوا درجۂ حرارت اور سورج کی مسلسل بڑھتی تپش مستقبل میں فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مالیکیولز میں نمایاں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق کاربن ڈائی آکسائیڈ وہ بنیادی گیس ہے جس کی مدد سے درخت اور پودے ضیائی تالیف (Photosynthesis) کے عمل کے ذریعے آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ اگر فضا میں یہ گیس کم ہو گئی تو آکسیجن کی پیداوار بھی متاثر ہو گی، جس کے نتیجے میں زمین پر زندگی کا وجود شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر زمین کے درجۂ حرارت میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو آئندہ چند ہزار برسوں میں زمین کا ماحول انسان سمیت تمام جانداروں کے لیے ناقابلِ رہائش بن سکتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور آکسیجن دونوں گیسوں کی عدم موجودگی زمین پر زندگی کے خاتمے کے مترادف ہو گی۔
ناسا کے سائنسدانوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی، بے ہنگم صنعتی سرگرمیوں اور قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال کو فوری طور پر روکا جائے، بصورت دیگر آنے والی نسلوں کے لیے سانس لینا بھی ممکن نہیں رہے گا۔
ماہرینِ فلکیات نے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ایک انتہائی انوکھا سیارہ دریافت کر لیا ہے جس کی شکل لیموں جیسی بتائی جا رہی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ سیارہ اپنی غیر معمولی ساخت کی وجہ سے اتنا منفرد ہے کہ یہ ستاروں اور سیاروں کے درمیان موجود روایتی فرق کو بھی دھندلا سکتا ہے۔
یہ دریافت رواں ہفتے معروف سائنسی جریدے دی آسٹروفزیکل جرنل لیٹرز میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی، جسے یونیورسٹی آف شکاگو کے ماہرینِ فلکیات نے انجام دیا۔ تحقیق کے مطابق اس سیارے کو PSR J2322-2650b کا نام دیا گیا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ سیارہ اپنے مرکزی ستارے کے گرد صرف 10 لاکھ میل کے فاصلے پر گردش کر رہا ہے، جو زمین اور سورج کے درمیان فاصلے سے تقریباً 100 گنا کم ہے۔ حیران کن طور پر اس سیارے کا ایک سال صرف 7.8 گھنٹے پر مشتمل ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ انتہائی تیزی سے اپنے ستارے کا چکر مکمل کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سیارے کی لیموں جیسی بیضوی شکل کی بنیادی وجہ اس کا مرکزی ستارہ ہے، جو دراصل ایک پلسر ہے۔ پلسر ایک تیزی سے گھومنے والا نیوٹرون ستارہ ہوتا ہے، جس کی کششِ ثقل نہایت طاقتور ہوتی ہے۔ اسی شدید کشش نے اس سیارے کی قدرتی گول شکل کو بگاڑ کر بیضوی بنا دیا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس عجیب سیارے کا ماحول بھی نہایت سخت اور خطرناک ہے۔ اس کے ایٹماسفیئر میں ہیلیئم اور کاربن کی بھاری مقدار پائی گئی ہے، جبکہ وہاں انتہائی تیز رفتار ہوائیں چلتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں کسی بھی قسم کی زندگی کا تصور ممکن نہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی دریافت مستقبل میں فلکیات کے میدان میں نئی بحث کو جنم دے سکتی ہے۔ اس سیارے کی ساخت اور خصوصیات نے ستاروں اور سیاروں کی تعریف پر سوال اٹھا دیے ہیں، جس سے کائنات کو سمجھنے کے روایتی نظریات میں تبدیلی آ سکتی ہے۔
ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے خبردار کیا ہے کہ اسٹار لنک نیٹ ورک کا ایک سیٹلائٹ تکنیکی خرابی کے باعث کمپنی کے کنٹرول سے باہر ہو گیا ہے، جس کے باعث اس کے زمین پر گرنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسپیس ایکس کا کہنا ہے کہ مدار میں موجود اسٹار لنک سیٹلائٹس میں سے ایک کو اچانک تکنیکی مسئلہ پیش آیا، جس کے بعد سیٹلائٹ بے قابو ہو گیا اور بعد ازاں ٹکڑوں میں ٹوٹ گیا۔
کمپنی کے مطابق اس سیٹلائٹ کے ٹوٹنے کے بعد اس کے متعدد حصے اس وقت خلا میں گردش کر رہے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ٹوٹے ہوئے ٹکڑے آئندہ چند ہفتوں میں مدار سے نکل کر زمین کی جانب گر سکتے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ ملبہ کس مقام پر گر سکتا ہے۔
اسپیس ایکس نے صارفین اور متعلقہ حکام کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔
کمپنی نے مزید وضاحت کی ہے کہ وہ اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور مدار میں موجود ملبے کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اسپیس ایکس کے مطابق اسٹار لنک سیٹلائٹس کو اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ وہ عموماً زمین کے ماحول میں داخل ہوتے ہی جل جاتے ہیں، جس سے نقصان کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
ناسا کا جدید روور پرسورینس مریخ پر طویل سفر کا نیا ریکارڈ بنانے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اب تک پرسورینس نے تقریباً 25 میل (40 کلومیٹر) کا فاصلہ طے کر لیا ہے، اور یہ مریخ پر سب سے زیادہ فاصلے کا ریکارڈ توڑنے والے سابقہ ریکارڈ، جو اپرچونیٹی روور کے نام ہے، کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اپرچونیٹی نے تقریباً 28.06 میل (45.16 کلومیٹر) کا سفر مکمل کیا تھا۔
پرسورینس کا مقصد صرف زیادہ فاصلے کا سفر کرنا نہیں بلکہ مریخ کے جیزرو کریٹر میں قدیم حیاتیاتی نشانات تلاش کرنا بھی ہے۔ اس کے مضبوط پہیے اور خودکار نیویگیشن سسٹم نے سخت مریخی زمین پر لمبا سفر ممکن بنایا ہے۔
ناسا کے انجینیئرز کا خیال ہے کہ پرسورینس مستقبل میں مزید میل طے کر سکتا ہے، خاص طور پر اگر یہ 2028 یا اس کے بعد بھی فعال رہے۔
مریخ پر طویل سفر کا یہ ریکارڈ صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں؛ یہ روور کو زیادہ سائنسی سائٹس تک پہنچنے، مختلف جغرافیائی خصوصیات کا مشاہدہ کرنے اور مریخ کی تاریخ و ممکنہ مائیکرو زندگی کے نشانات تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔
اے آئی سے تیار کردہ پاکستانی فلم "دی نیکسٹ صلاح الدین" 19 دسمبر کو ریلیز ہوگی
رپورٹر : عروبہ شہزاد
پاکستانی فلم انڈسٹری ایک پاکستانی فلم انڈسٹری جدید ٹیکنالوجی کے ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہی ہے ، جہاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کی گئی فلم "دی نیکسٹ صلاح الدین " (The Next Salahuddin) 19 دسمبر سے ملک بھر کے سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔
فلم کے پروڈیوسر، لکھاری اور ڈائریکٹر فرحان صدیقی نے پریس کانفرنس میں اس منفرد منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستانی سینما کے لیے ایک بے مثال اور تاریخی تجربہ ہے۔ ان کے مطابق فلم کی تیاری میں اے آئی نے مرکزی کردار ادا کیا ہے، جس میں اسکرپٹ رائٹنگ، بصری ترتیب (ویژول کمپوزیشن) اور کرداروں کی تخلیق سمیت کئی اہم مراحل مصنوعی ذہانت کے ذریعے مکمل کیے گئے ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فرحان صدیقی نے بتایا کہ فلم فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر تخلیق کی گئی ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر امن، انسانی وقار اور بنیادی انسانی حقوق کا پیغام عام کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فلم صرف ایک تکنیکی تجربہ نہیں بلکہ انسانیت اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج کی علامت ہے۔
پریس کانفرنس میں مزید بتایا گیا کہ "دی نیکسٹ صلاح الدین "جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بامعنی کہانی اور سماجی شعور کو فروغ دینے کی ایک کوشش ہے، جو پاکستانی سینما میں جدت اور تخلیقی امکانات کے نئے دور کا داوا کرتی ہے۔ فرحان صدیقی کے مطابق یہ فلم منظر کشی اور بیانیہ تخلیق میں نئی راہوں کی نمائندگی کرتی ہے اور مستقبل میں فلم سازی کے انداز کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ پاکستانی فلم انڈسٹری میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا ایک مضبوط آغاز ثابت ہو سکتا ہے، جو مقامی سینما کو عالمی رجحانات سے ہم آہنگ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جادوئی مشروم (Magic Mushroom) میں موجود ایک قدرتی مرکب سِلوسیبن (Psilocybin) ڈپریشن کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ مرکب دماغ میں ایک خاص سرگرمی کو کم کرتا ہے جسے رومینیشن (Rumination) کہا جاتا ہے۔ رومینیشن کی وجہ سے لوگ بار بار منفی خیالات میں پھنسے رہتے ہیں اور خوشی یا دلچسپی محسوس نہیں کر پاتے۔
عام طور پر ڈپریشن کا علاج ٹاک تھراپی اور اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کے ذریعے کیا جاتا ہے، لیکن یہ ہر مریض کے لیے مؤثر نہیں ہوتے۔ کورنیل یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے مطابق سِلوسیبن دماغ کے اس حصے کی سرگرمی کو کم کرتا ہے جو منفی سوچ کے چکر کو برقرار رکھتی ہے، اور یوں مریض منفی خیالات سے آزاد ہو پاتے ہیں۔
اگرچہ یہ مرکب بہت امید افزا نتائج دکھا رہا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے صرف ڈاکٹر کی نگرانی میں استعمال کرنا چاہیے۔ کیونکہ خود سے استعمال خطرناک ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق مستقبل میں ڈپریشن کے نئے اور مؤثر علاج کی راہ ہموار کر سکتی ہے اور لاکھوں لوگوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہو سکتی ہے۔
جاپان میں سائنس دانوں نے پلاسٹک آلودگی کے خلاف ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے پودوں سے تیار کی گئی ایسی نئی قسم کی پلاسٹک ایجاد کر لی ہے جو قدرتی ماحول، خصوصاً سمندر کے پانی میں، نقصان دہ مائیکرو پلاسٹکس پیدا کیے بغیر مکمل طور پر تحلیل ہو جاتی ہے۔
یہ جدید پلاسٹک پودوں کے سیلولوز سے تیار کی گئی ہے، جو زمین پر سب سے زیادہ پائے جانے والے قدرتی مرکبات میں سے ایک ہے۔ محققین کے مطابق یہ مٹی، پودوں اور جانوروں کے لیے بالکل محفوظ ہے اور قدرتی ماحول کو آلودہ نہیں کرتی۔
تحقیق سے وابستہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس پلاسٹک کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مضبوط اور لچکدار ہونے کے ساتھ ساتھ قدرتی ماحول میں خود بخود تحلیل ہو جاتی ہے، جو اسے روایتی بایو ڈیگریڈیبل پلاسٹک کے مقابلے میں کہیں بہتر بناتی ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین اسے ایک ممکنہ طور پر ’’پرفیکٹ پلاسٹک‘‘ قرار دے رہے ہیں۔
تحقیق کے سربراہ ٹاکوزو آئیڈا کے مطابق قدرت ہر سال تقریباً 10 کھرب ٹن سیلولوز پیدا کرتی ہے۔ اسی وافر مقدار میں دستیاب قدرتی مادے کو استعمال کرتے ہوئے ٹیم نے ایک ایسا پلاسٹک مٹیریل تیار کیا ہے جو سمندر میں محفوظ طریقے سے تحلیل ہو جاتا ہے اور ماحولیاتی نظام کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں دنیا کو پلاسٹک آلودگی کے سنگین مسئلے سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، خاص طور پر سمندروں میں پلاسٹک کچرے کے بڑھتے ہوئے خطرے کے تناظر میں۔
کیا کبھی دروازے کا ہینڈل پکڑتے ہوئے یا کسی سے ہاتھ ملاتے ہوئے اچانک کرنٹ سا محسوس ہوا ہے؟ اگر ایسا ہوا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ کوئی خطرناک برقی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عام سائنسی مظہر ہے جسے اسٹیٹک الیکٹرک چارج کہا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سردیوں یا شدید گرمی کے خشک موسم میں ہوا میں نمی کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں ہمارے کپڑوں، جوتوں، بالوں یا روزمرہ استعمال کی اشیاء پر الیکٹران جمع ہونے لگتے ہیں۔ جب ہم کسی دھاتی چیز، دروازے کے ہینڈل، موبائل فون یا کسی دوسرے انسان کو چھوتے ہیں تو یہ جمع شدہ الیکٹران اچانک خارج ہو جاتے ہیں، جس سے ہمیں ہلکا سا جھٹکا محسوس ہوتا ہے۔
یہی وہ عمل ہے جو بچپن میں غبارے کو بالوں پر رگڑنے کے بعد دیوار سے چپکتے دیکھنے پر ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی فائبر کے کپڑے، خشک بال اور کم نمی والا ماحول اسٹیٹک چارج بننے کے امکانات کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔
بارش یا مرطوب موسم میں یہ مسئلہ تقریباً ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ نمی فضا میں موجود اضافی چارج کو خود ہی زائل کر دیتی ہے۔ اسی لیے سردیوں میں یا خشک موسم میں یہ جھٹکے زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔
اچھی خبر یہ ہے کہ اس قسم کے جھٹکے عام طور پر نقصان دہ نہیں ہوتے، البتہ یہ پریشانی کا باعث ضرور بن سکتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے ماہرین جلد کو خشک ہونے سے بچانے، موئسچرائزر استعمال کرنے، زیادہ پانی پینے، مصنوعی کپڑوں کے بجائے کاٹن یا ریشم پہننے اور گھروں میں ہیومیڈیفائر استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلی بار اگر کسی چیز کو چھوتے ہوئے ہلکا سا جھٹکا لگے تو اسے بجلی کا مسئلہ نہ سمجھیں۔ یہ محض اسٹیٹک چارج ہے، جو خشک موسم میں ہونے والا ایک قدرتی سائنسی عمل ہے۔
سائنس دانوں نے انسانی عمر میں غیر معمولی فرق کی ایک ممکنہ سائنسی وجہ دریافت کر لی ہے، جو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ آخر کیوں بعض افراد 100 سال یا اس سے بھی زیادہ عمر پاتے ہیں، جبکہ اکثریت ایسا نہیں کر پاتی۔
نئی تحقیق کے مطابق 90 برس سے زائد عمر تک جینے والے افراد کے خون کی حیاتیاتی ساخت عام لوگوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر مختلف ہوتی ہے۔ یہ فرق اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ طویل عمر صرف طرزِ زندگی کا نتیجہ نہیں بلکہ کسی حد تک وراثتی اور فطری عوامل سے بھی جڑی ہو سکتی ہے۔
برطانوی ویب سائٹ Indy100 کی رپورٹ کے مطابق محققین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے مستقبل میں یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ پیدائش کے وقت ہی کسی فرد کے طویل عمر کے امکانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔
سائنسی جریدے GeroScience میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ان افراد کے حیاتیاتی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جو 90 برس سے زیادہ عمر تک پہنچے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ایسے افراد میں کولیسٹرول، گلوکوز، کریٹینن اور یورک ایسڈ کی سطحیں نسبتاً کم تھیں، جو بہتر میٹابولک صحت اور گردوں کے بہتر افعال کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔
یہ تحقیق اپنی نوعیت کی بڑی مطالعات میں شمار ہوتی ہے، جس میں 44 ہزار سویڈش شہریوں کے طبی ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا۔ ان افراد کے طبی معائنے 64 سے 99 سال کی عمر کے درمیان کیے گئے اور انہیں 35 برس تک قومی رجسٹرز کے ذریعے فالو کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق مطالعے میں شامل افراد میں سے صرف 2.7 فیصد لوگ 100 برس کی عمر تک پہنچ سکے، جن میں تقریباً 85 فیصد خواتین شامل تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس تحقیق سے قطعی نتائج اخذ نہیں کیے جا سکتے، تاہم شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ میٹابولک صحت، غذائیت اور طویل عمر کے درمیان گہرا تعلق موجود ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ خوراک، الکحل کے استعمال اور مجموعی طرزِ زندگی جیسے عوامل بھی لمبی زندگی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں معمر افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور 1970 کی دہائی کے بعد سے یہ آبادی تقریباً ہر دس سال میں دوگنی ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تحقیق طویل عمر کے راز کو سمجھنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکی سائنس دانوں نے پودوں کی دنیا سے جڑا ایک حیران کن راز دریافت کر لیا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق کچھ قدیم پودے زر افشانی (Pollination) کے لیے نہ تو رنگ استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی خوشبو، بلکہ وہ حرارت کو اشارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ پولینیشن کے قدیم ترین طریقوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے سائنس میں شائع ہوئی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سائیکڈز (Cycads) نامی پودوں کی ایک قدیم قسم، جو جراسک دور سے تقریباً بغیر تبدیلی کے موجود ہے، اپنے مخروطی پھولوں میں خود حرارت پیدا کرتی ہے۔
حرارت سے بھنورے متوجہ ہوتے ہیں
ماہرین کے مطابق ان پودوں میں حرارت ایک قدرتی روزانہ کے نظام کے تحت بڑھتی اور کم ہوتی ہے، جسے بھنورے محسوس کر لیتے ہیں۔
نر کونز دوپہر کے بعد گرم ہونا شروع ہوتے ہیں، جبکہ مادہ کونز چند گھنٹوں بعد حرارت خارج کرتے ہیں۔ اس ترتیب سے بھنورے پہلے نر پھولوں پر جاتے ہیں اور پھر مادہ پھولوں کی طرف منتقل ہو کر زر افشانی کا عمل مکمل کرتے ہیں۔
جینیاتی گھڑی کا کردار
تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ پورا نظام باہر کے موسم یا روشنی پر نہیں بلکہ پودوں کے اندر موجود ایک جینیاتی گھڑی کے ذریعے کنٹرول ہوتا ہے۔
AOX1 نامی جین پودے کی توانائی کو براہِ راست حرارت میں تبدیل کرتا ہے۔
دوسری جانب، بھنوروں کے اینٹینا میں موجود حساس نظام TRPA1 آئن چینل کے ذریعےانفراریڈ حرارت کو محسوس کرتا ہے، جس سے وہ پودوں تک پہنچ جاتے ہیں۔
پولینیشن کا قدیم نظام
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ثابت ہوا ہے کہ حرارت بھی پولینیشن کا ایک مؤثر ذریعہ ہو سکتی ہے۔
دنیا بھر میں سائیکڈز کی صرف 300 اقسام باقی رہ گئی ہیں اور ان میں سے اکثر کو معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔
تحقیق کی سربراہ وینڈی ویلینسیا مونٹویا کے مطابق یہ دریافت پودوں اور حشرات کے درمیان رابطے کے ایک نئے پہلو کو سامنے لاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اب تک رنگ اور خوشبو کو ہی زر افشانی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب معلوم ہوا ہے کہ انفراریڈ حرارت بھی ایک خاموش مگر طاقتور اشارہ ہو سکتی ہے۔
کالی مرچ صرف کھانے کا ذائقہ بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ صحت کے لیے بھی ایک قیمتی مصالحہ ہے۔ قدیم طب اور جدید تحقیقات دونوں نے اس کے فوائد کو تسلیم کیا ہے۔ کالی مرچ میں موجود خاص مرکب پائپرین جسم کے مختلف نظاموں کے لیے فائدہ مند ہے اور متعدد بیماریوں کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔
1. ہاضمے کے لیے فائدہ مند
کالی مرچ معدے کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔ یہ ہاضمے کے عمل کو تیز کرتی ہے اور معدے میں گیس، سوجن اور قبض کے مسائل کم کرنے میں مددگار ہوتی ہے۔ پائپرین ہاضمے کے لیے ضروری ہاضماتی انزائمز کی پیداوار بڑھاتا ہے، جس سے خوراک کو جلدی ہضم کیا جا سکتا ہے۔
2. وزن کم کرنے میں مددگار
تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کالی مرچ میں موجود پائپرین جسم میں چربی کے جمع ہونے کے عمل کو سست کر دیتا ہے۔ اس کے باقاعدہ استعمال سے میٹابولزم (Metabolism) بہتر ہوتا ہے اور وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس لیے وزن کنٹرول کرنے والے افراد کے لیے یہ ایک مفید مصالحہ ہے۔
3. مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے
کالی مرچ میں اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جو جسم کو فری ریڈیکلز کے نقصان سے بچاتے ہیں۔ یہ مدافعتی نظام کو طاقتور بناتے ہیں اور بیمار ہونے کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔ سردیوں اور وائرل انفیکشن کے موسم میں معتدل مقدار میں کالی مرچ کا استعمال فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
4. دماغی صحت اور یادداشت
کالی مرچ کے پائپرین دماغ کے خلیات کو نقصان سے بچانے میں مددگار ہوتے ہیں۔ کچھ تحقیقات کے مطابق یہ مرکب یادداشت بہتر بنانے، توجہ بڑھانے اور دماغی تھکن کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں دماغ کو چوکنا رکھنے کے لیے کالی مرچ ایک چھوٹا مگر اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
5. دیگر طبی فوائد
خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھنے میں مددگار
جوڑوں کے درد اور سوجن کم کرنے میں معاون
جلد اور بالوں کی صحت کے لیے مفید
احتیاط
کالی مرچ کے بے تحاشہ استعمال سے معدے میں جلن یا تیزابیت پیدا ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ معتدل مقدار میں استعمال سب سے بہتر ہے، اور خاص طور پر معدے کے مسائل والے افراد زیادہ مقدار سے گریز کریں۔
کالی مرچ صرف کھانے کا ذائقہ نہیں بڑھاتی بلکہ صحت کے کئی پہلوؤں میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ہاضمہ بہتر کرنا، مدافعتی نظام کو مضبوط بنانا، دماغ کی کارکردگی میں اضافہ اور وزن کنٹرول کے فوائد اسے روزمرہ زندگی کا قیمتی حصہ بناتے ہیں۔ معتدل استعمال کے ساتھ، کالی مرچ ہر گھر کی خوراک کا لازمی حصہ بن سکتی ہے۔
کھیرا عام طور پر صحت بخش غذا تصور کیا جاتا ہے اور خاص طور پر وزن کم کرنے والوں میں اسے بے حد پسند کیا جاتا ہے۔ سلاد، رائتہ، جوس اور اسموتھیز میں کھیرا روزمرہ خوراک کا حصہ بن چکا ہے، تاہم ماہرینِ صحت خبردار کرتے ہیں کہ یہ سبزی ہر شخص کے لیے یکساں فائدہ مند نہیں۔
غذائی ماہرین کے مطابق کھیرے میں تقریباً 95 فیصد پانی موجود ہوتا ہے، جو جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں وٹامن کے، وٹامن سی، پوٹاشیم، میگنیشیم اور فائبر جیسے اہم غذائی اجزا پائے جاتے ہیں، جو ہاضمے کی بہتری، جلد کی حفاظت، بلڈ پریشر کے توازن اور جسمانی سوزش میں کمی میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ مخصوص طبی حالات میں کھیرے کا استعمال فائدے کے بجائے نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔
کن افراد کو کھیرے سے پرہیز کرنا چاہیے؟
بلغم اور سانس کی بیماریاں
بھارتی ماہر غذائیت شویتا شاہ کے مطابق کھیرے کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے، جو جسم میں بلغم کی مقدار بڑھا سکتی ہے۔ نزلہ، زکام، کھانسی، دمہ، سائنوس یا سانس کی الرجی کے مریضوں کے لیے کھیرا تکلیف میں اضافہ کر سکتا ہے، خاص طور پر سردیوں میں۔
کمزور نظامِ ہاضمہ
اگرچہ کھیرے میں فائبر پایا جاتا ہے، لیکن حساس معدے والے افراد کے لیے یہ گیس، اپھارہ اور بدہضمی کا سبب بن سکتا ہے۔ کھیرے میں موجود قدرتی جز کیوکربیٹاسن بعض افراد میں معدے کی خرابی پیدا کر دیتا ہے، خاص طور پر IBS کے مریضوں میں۔
جوڑوں کا درد اور گٹھیا
ماہرین کے مطابق جوڑوں کے درد، سوجن یا گٹھیا میں مبتلا افراد کو کھیرے کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے۔ آیوروید کے مطابق اس کی ٹھنڈی فطرت بعض لوگوں میں درد اور سوجن کو بڑھا سکتی ہے۔
پیشاب کی نالی کے مسائل
کھیرے میں پانی کی زیادہ مقدار اسے قدرتی طور پر پیشاب آور بناتی ہے۔ پیشاب کی نالی کے انفیکشن یا مثانے کے مسائل میں مبتلا افراد کے لیے کھیرے کا زیادہ استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ذیابیطس کے مریض
اگرچہ کھیرا شوگر کے مریضوں کے لیے عموماً محفوظ سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کے بیج بعض صورتوں میں خون میں شوگر کی سطح حد سے زیادہ کم کر سکتے ہیں، خاص طور پر وہ افراد جو انسولین یا شوگر کم کرنے والی ادویات استعمال کرتے ہوں۔ اس سے کمزوری، چکر یا لرزش جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔
رات کے وقت کھیرے کا استعمال کیوں نقصان دہ؟
ماہرین غذائیت رات کے وقت کھیرے کے استعمال سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔ کھیرے کو ہضم ہونے میں وقت لگتا ہے اور اس میں پانی کی زیادتی بار بار باتھ روم جانے کا سبب بن سکتی ہے، جس سے نیند متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ رات کے وقت جسم کے لیے ٹھنڈی غذائیں موزوں نہیں سمجھی جاتیں۔
ماہرین کا مشورہ
کھیرے کے فوائد اپنی جگہ مسلم ہیں، تاہم اسے خوراک میں شامل کرنے سے پہلے اپنی صحت اور طبی مسائل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی غذا کا ضرورت سے زیادہ یا غلط وقت پر استعمال فائدے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک نئی سائنسی تحقیق نے سمندری دنیا کے بارے میں ہماری سوچ بدل کر رکھ دی ہے۔ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈولفن اور کلر وہیل، جنہیں عام طور پر ایک دوسرے کا جانی دشمن سمجھا جاتا ہے، حقیقت میں بعض علاقوں میں مل کر شکار کرتی ہیں۔
یہ حیران کن تحقیق عالمی شہرت یافتہ سائنسی جریدے Scientific Reports میں شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ کینیڈا کے ساحلی علاقے میں ڈولفن اور کلر وہیل کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے ڈرون کیمروں اور خصوصی آلات کی مدد سے مناظر ریکارڈ کیے۔ ان مناظر میں دیکھا گیا کہ ڈولفن اور کلر وہیل ایک ساتھ سمندر کی گہرائی میں جا کر سالمن مچھلی کا شکار کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ڈولفن شکار کے دوران کلر وہیل کی مدد کرتی ہیں کیونکہ دونوں جانور ایکو لوکیشن کے ذریعے مچھلی کا سراغ لگاتے ہیں۔ اس تعاون سے کلر وہیل کی توانائی بچتی ہے اور شکار آسان ہو جاتا ہے۔
دوسری جانب ڈولفن کو بھی اس دوستی کا فائدہ ملتا ہے۔ شکار کے بعد وہ مچھلی کے بچے ہوئے ٹکڑے کھا لیتی ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہیں ان خطرناک کلر وہیل سے تحفظ مل جاتا ہے جو عام طور پر ڈولفن کا شکار کرتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دو طاقتور شکاری ممالیہ جانوروں کا اس طرح مل کر شکار کرنا قدرت میں بہت کم دیکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تحقیق کو سمندری حیات کے بارے میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ فطرت میں دشمن سمجھے جانے والے جانور بھی حالات کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔
دنیا میں ایک ایسا جزیرہ بھی موجود ہے جس کا رقبہ صرف فٹ بال کے دو میدانوں کے برابر ہے، مگر اس کے باوجود اسے دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے جزائر میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ حیرت انگیز جزیرہ سانتا کروز ڈیل ایسلوٹے کولمبیا کے سان برناردو آرکی پیلاگو میں واقع ہے۔ اس جزیرے کا کل رقبہ صرف 0.012 مربع کلومیٹر ہے، لیکن یہاں تقریباً 1200 افراد رہائش پذیر ہیں، جس کی وجہ سے یہاں آبادی کی کثافت دنیا میں سب سے زیادہ سمجھی جاتی ہے۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق یہ جزیرہ انیسویں صدی تک غیر آباد تھا۔ بعد ازاں افریقی نژاد کولمبیائی ماہی گیروں نے یہاں رہائش اختیار کی اور وقت کے ساتھ ساتھ آبادی میں اضافہ ہوتا گیا۔
جزیرے میں تقریباً 115 گھر موجود ہیں، جو انتہائی محدود جگہ پر تعمیر کیے گئے ہیں۔ جگہ کم ہونے کی وجہ سے کئی گھروں کو اوپر کی جانب بڑھایا جا رہا ہے، جس سے رہائشیوں کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔
جزیرے میں بنیادی سہولیات بھی محدود ہیں۔ پینے کا پانی ہر ہفتے مین لینڈ سے لایا جاتا ہے، جبکہ جزیرے میں کسی قسم کی گاڑی موجود نہیں۔ لوگ پیدل ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں۔
جزیرے کی بڑھتی ہوئی شہرت کے بعد سیاحت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مقامی افراد سیاحوں سے تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے عوض فیس وصول کرتے ہیں تاکہ آمدن کا ذریعہ بنایا جا سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مقامی لوگوں کے مطابق جزیرے میں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں اور محدود وسائل کے باوجود یہاں کے رہائشی اپنی کمیونٹی میں پرامن زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ جزیرہ دنیا بھر میں انسانوں کی محدود جگہ میں رہنے کی ایک منفرد مثال سمجھا جاتا ہے۔
بہت سے افراد بینائی کے مختلف مسائل کا شکار ہوتے ہیں جو ان کی پڑھائی، ڈرائیونگ یا روزمرہ سرگرمیوں جیسے چہروں کو پہچاننے وغیرہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ایسے افراد کے لیے ڈاکٹرز چشمہ (عینک) تجویز کرتے ہیں تاکہ ان کی دیکھنے کی صلاحیت اور معیارِ زندگی بہتر بنایا جا سکے۔ این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، قریب یا دور کی نظر کے مسائل کے شکار افراد کے لیے درست نمبر کی عینک پہننا ضروری ہے۔
تاہم، اگر لوگ اپنی بینائی کی ضرورت کے مطابق لینز یا چشمہ استعمال نہیں کرتے تو انہیں کئی قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کسی شخص یا چیز کو واضح دیکھنے کے لیے دونوں آنکھوں کا ایک ساتھ کام کرنا ضروری ہے اور آنکھوں کی بینائی تقریباً برابر ہونی چاہیے۔
ماہرین امراضِ چشم کے مطابق، ایک یا دونوں آنکھوں میں غلط نمبر کا چشمہ لگانے سے آنکھوں کی بینائی کمزور ہو سکتی ہے اور دونوں آنکھیں مل کر کام کرنے میں بھی دشواری پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں افراد یا اشیا کو پہچاننے اور ان کی موجودگی کا صحیح اندازہ لگانے میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
غلط نمبر کے چشمے کے ممکنہ اثرات
1. آنکھوں کی تھکن: غلط نمبر کا چشمہ آنکھوں کو زیادہ محنت کرنے پر مجبور کرتا ہے، جس سے آنکھوں میں تھکن اور تکلیف محسوس ہو سکتی ہے۔
2. سر درد: بینائی کے مطابق چشمہ نہ ہونے سے آنکھوں کے پٹھوں پر مسلسل دباؤ پڑتا ہے، جو سر درد کی شکایت پیدا کر سکتا ہے۔
3. دھندلاپن: غلط نمبر کی عینک سے نظر دھندلی ہو جاتی ہے، اور کسی چیز یا شخص کو واضح دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
4. چکر آنا: بعض افراد کو غلط نمبر کے چشمے کے استعمال سے چکر یا عدم توازن کا احساس بھی ہو سکتا ہے۔
غلط نمبر کی عینک کی پہچان
اگر کسی شخص نے بینائی کمزور ہونے کے بعد غلط نمبر کا چشمہ لگا رکھا ہے تو اسے کسی چیز پر توجہ مرکوز کرنے میں دشواری پیش آئے گی۔ اس کے علاوہ، آنکھیں بار بار جزوی طور پر بند ہو سکتی ہیں، سر درد کی شکایت ہو سکتی ہے اور رات کے وقت دیکھنے میں بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
حکومت پاکستان نے سرکاری اہلکاروں کے درمیان محفوظ رابطے کے لیے واٹس ایپ کے متبادل کے طور پر اپنی نئی میسجنگ ایپ BEEP متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ ایپ چین کی معروف ایپ WeChat سے متاثر ہو کر تیار کی گئی ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام کو بتایا گیا کہ BEEP ایپ تقریباً مکمل ہو چکی ہے اور اس منصوبے کی حتمی ڈیڈ لائن30 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین سید امین الحق نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB) کو ہدایت دی ہے کہ ایپ کی تیاری بروقت مکمل کی جائے۔
نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیف ایگزیکٹو فیصل رتیال کے مطابق BEEP ایپ مکمل طور پر پاکستان میں تیار کی گئی ہے اور اسے تمام متعلقہ سرکاری اداروں کی منظوری حاصل ہے۔ اس ایپ کا مقصد سرکاری ملازمین کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں محفوظ پیغام رسانی اور ویڈیو کالز ممکن ہوں۔
فیصل رتیال نے بتایا کہ ایپ کو مرحلہ وار لانچ کیا جائے گا اور ابتدا میں اس کا استعمال وفاقی وزارتوں اور ان سے منسلک محکموں میں شروع ہوگا۔ توقع ہے کہ ایپ کا ابتدائی رول آؤٹ اگلے دو ماہ میں کر دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ BEEP ایپ کو وفاقی ای آفس سسٹم کے ساتھ منسلک کیا جائے گا، جس سے سرکاری اداروں کے اندر پیغامات، دستاویزات کی ترسیل اور دفتری امور کو محفوظ اور مؤثر بنایا جا سکے گا۔
یہ ایپ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن پر مبنی ہے، جس کے باعث ٹیکسٹ میسجز اور ویڈیو کالز مکمل طور پر محفوظ رہیں گی۔ حکام کے مطابق یہ ایپ حساس سرکاری معلومات اور رابطوں کے لیے موزوں ہے۔
BEEP ایپ کی آپریشنل لاگت کے حوالے سے بتایا گیا کہ اسے استعمال پر مبنی فیس ماڈل کے تحت چلایا جائے گا اور وقت کے ساتھ اسے مالی طور پر خود کفیل بنانے کا منصوبہ ہے۔
واضح رہے کہ BEEP ایپ عام عوام کے لیے نہیں بلکہ صرف سرکاری اہلکاروں کے استعمال کے لیے تیار کی جا رہی ہے، جبکہ عوامی سطح پر واٹس ایپ بدستور دستیاب رہے گا۔
پاکستان نے ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ کراچی میں واقع این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے انجینئرز نے پاکستان کی پہلی ڈرائیور لیس گاڑی کی کامیاب ٹیسٹ ڈرائیو کر کے نئی تاریخ رقم کر دی۔
یہ جدید گاڑی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی مدد سے بغیر کسی ڈرائیور کے چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ٹیسٹ ڈرائیو کے دوران گاڑی نے این ای ڈی یونیورسٹی کے کیمپس کی سڑکوں پر نہایت ہموار اور محفوظ انداز میں سفر کیا، جسے دیکھ کر وہاں موجود افراد حیران رہ گئے۔
یہ منصوبہ ایک سال قبل این ای ڈی یونیورسٹی کے نیشنل سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور شعبہ کمپیوٹر اینڈ انفارمیشن سائنسز میں شروع کیا گیا تھا۔ انجینئرز کی ٹیم نے چین سے درآمد شدہ ایک برقی گاڑی کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مکمل طور پر خودکار گاڑی میں تبدیل کیا۔
گاڑی کو روبوٹکس، میپنگ، سینسرز، کمپیوٹر وژن اور اے آئی الگورتھمز سے لیس کیا گیا ہے، جس کی بدولت یہ خود بخود راستہ پہچاننے، موڑ کاٹنے اور سامنے آنے والی ٹریفک کا اندازہ لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
فی الحال حفاظتی اقدامات کے تحت گاڑی کی رفتار 15 سے 20 کلومیٹر فی گھنٹہ رکھی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں مزید تجربات کے بعد اس رفتار اور فیچرز میں اضافہ کیا جائے گا۔
یہ کامیابی پاکستان کے نوجوان انجینئرز کی محنت، صلاحیت اور جدید ٹیکنالوجی میں بڑھتی دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جو ملک کو سائنسی اور تکنیکی ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کر رہی ہے۔