فرانس کی وزارت داخلہ کی ویب سائٹس کو ایک بڑے سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں حساس سرکاری ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کی گئی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کی وزارت داخلہ نے اس سائبر حملے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق حملے کے دوران وزارت کے پیشہ ورانہ ای میل اکاؤنٹس متاثر ہوئے، جس کے بعد حملہ آور اہم سرکاری فائلوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ سنگین ہے اور ڈیٹا کے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کتنا اور کس نوعیت کا ڈیٹا لیک ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق متاثر ہونے والی فائلوں میں فوجداری ریکارڈ پروسیسنگ سسٹم اور مطلوب افراد کی فہرست (FPR) جیسے حساس ڈیٹا بھی شامل ہیں، جو سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کیے جاتے ہیں۔
فرانسیسی حکام نے سائبر حملے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے 22 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ نقصان کی نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے انجینئرز نے پاکستان کی پہلی مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والی ڈرائیور لیس گاڑی کامیابی سے تیار کر کے اس کا عملی مظاہرہ کر دیا ہے۔ اس کامیابی کو ملکی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
این ای ڈی یونیورسٹی کی سڑکوں پر کیے گئے آزمائشی مرحلے کے دوران یہ خودکار گاڑی بغیر کسی ڈرائیور کے رواں دواں رہی، جسے دیکھ کر طلبہ اور اساتذہ حیران رہ گئے۔ یہ منصوبہ تقریباً ایک سال قبل نیشنل سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے تحت ڈیپارٹمنٹ آف کمپیوٹر اینڈ انفارمیشن سائنسز میں شروع کیا گیا تھا۔
یہ گاڑی دراصل چین سے درآمد کی گئی ایک الیکٹرک کار ہے، جسے پاکستانی انجینئرز نے جدید اے آئی سسٹمز، روبوٹکس، میپنگ ٹیکنالوجی، سینسرز اور کمپیوٹر وژن کی مدد سے مکمل طور پر خودکار بنا دیا ہے۔
پروجیکٹ ٹیم کے مطابق ایک سال کی مسلسل محنت کے بعد یہ منصوبہ اب عملی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور گاڑی کے مختلف روڈ ٹرائلز جاری ہیں۔ گاڑی کا اسٹیئرنگ کنٹرول ریڈار ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر وژن کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ گاڑی میں آبجیکٹ ڈیٹیکشن، لین کی شناخت، رفتار کی حد کا تعین اور ٹریفک سگنلز کی پہچان جیسے جدید فیچرز پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔ فی الحال حفاظتی اقدامات کے تحت گاڑی کی رفتار 15 سے 20 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود رکھی گئی ہے۔
پروجیکٹ ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ گاڑی ان چند خودکار گاڑیوں میں شامل ہے جو پاکستان کے بے ترتیب اور مصروف شہری ماحول میں چلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ جدید سینسر ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ گاڑی گڑھوں، خراب سڑکوں اور مقامی انفراسٹرکچر کے مسائل سے مؤثر انداز میں نمٹ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب ایک بڑا قدم ہے اور مستقبل میں اس سے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔
آسٹریلیا کے بعد اب ڈنمارک بھی کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کی تیاری کر رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈنمارک کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ یہ اقدام یورپی یونین میں نوعمروں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کی ایک بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ تجویز حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل کر چکی ہے، اور منظوری کی صورت میں یہ قانون 2026 تک نافذ کیا جا سکتا ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت والدین 13 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کی اجازت دے سکیں گے، تاہم 13 سال سے کم عمر بچوں کو خود سے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
حکام کے مطابق ڈنمارک میں 13 سال سے کم عمر تقریباً 98 فیصد بچے پہلے ہی سوشل میڈیا اکاؤنٹس استعمال کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے قوانین پر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
ڈنمارک کی وزیر برائے ڈیجیٹل امور، کیرولین اسٹیج کا کہنا ہے کہ جس طرح حقیقی دنیا میں عمر کے حساب سے پابندیاں ہوتی ہیں، اسی طرح ڈیجیٹل دنیا میں بھی نگرانی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آن لائن دنیا میں بچوں کی حفاظت کے لیے کوئی باڈی گارڈ موجود نہیں، اس لیے حکومتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
رپورٹس میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ پابندی کے باعث نوجوان اپنے آن لائن دوستوں سے رابطہ برقرار نہ رکھ سکیں گے، تاہم کئی والدین نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔
عمر کی تصدیق کے لیے ڈنمارک حکومت ایک ڈیجیٹل شناختی ایپ متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے ذریعے صارفین کی عمر کی تصدیق کر کے پابندی پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے گا۔
واٹس ایپ نے اپنے صارفین کے لیے ایک بڑی اور اہم اپ ڈیٹ جاری کر دی ہے، جس کا مقصد رابطے کے عمل کو مزید آسان، جدید اور ذاتی نوعیت کا بنانا ہے۔ اس اپ ڈیٹ میں متعدد نئے فیچرز شامل کیے گئے ہیں جو نہ صرف صارفین کے روزمرہ استعمال کو بہتر بنائیں گے بلکہ تعطیلات کے دوران رابطے کو مزید دلچسپ اور مؤثر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔
کال مس ہونے پر وائس اور ویڈیو میل کی سہولت
واٹس ایپ کی اس نئی اپ ڈیٹ کے تحت اگر کسی صارف کی وائس یا ویڈیو کال کا جواب نہیں دیا جاتا تو اب وہ سامنے والے شخص کے لیے وائس یا ویڈیو نوٹ ریکارڈ کر سکتا ہے۔ یہ فیچر روایتی وائس میل سسٹم کا ایک جدید اور مؤثر متبادل ہے، جس کے ذریعے صارف اپنی بات زیادہ واضح اور ذاتی انداز میں پہنچا سکیں گے۔
وائس چیٹس میں ریئل ٹائم ری ایکشنز کا اضافہ
نئے فیچرز میں وائس چیٹس کے دوران ریئل ٹائم ری ایکشنز بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس سہولت کے ذریعے صارف گفتگو کے دوران ہی ایموجیز یا جذباتی ردعمل بھیج سکتے ہیں، جس سے بات چیت زیادہ جاندار اور دلچسپ ہو جائے گی، خاص طور پر گروپ وائس چیٹس میں۔
گروپ ویڈیو کالز کا تجربہ مزید بہتر
واٹس ایپ نے گروپ ویڈیو کالز کو بہتر بنانے کے لیے ایک اور اہم فیچر متعارف کرایا ہے، جس کے تحت اب فعال اسپیکر کو خودکار طور پر نمایاں کیا جائے گا۔ اس سے صارفین کو یہ سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ اس وقت کون بات کر رہا ہے، اور گروپ کالز زیادہ منظم اور مؤثر ہو جائیں گی۔
میٹا اے آئی امیج ٹولز میں جدید اپ گریڈ
واٹس ایپ نے میٹا اے آئی کے امیج ٹولز کو بھی جدید ماڈلز کے ساتھ اپ گریڈ کر دیا ہے۔ ان ٹولز کی مدد سے صارفین چیٹس، تقریبات اور تعطیلات کے لیے معیاری اور تخلیقی تصاویر تیار کر سکیں گے، جنہیں بعد ازاں مختصر ویڈیوز میں بھی تبدیل کیا جا سکے گا۔ یہ فیچر خاص طور پر سوشل شیئرنگ کے شوقین صارفین کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگا۔
ڈیسک ٹاپ صارفین کے لیے نیا میڈیا ٹیب
ڈیسک ٹاپ ورژن استعمال کرنے والے صارفین کے لیے میڈیا ٹیب کو نئے اور بہتر ڈیزائن کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جس سے تصاویر، ویڈیوز اور دستاویزات کی تلاش پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نئے اسٹیکرز، موسیقی کے بول اور سوالیہ پرامپٹس بھی شامل کیے گئے ہیں، جو چیٹس کو مزید دلچسپ بنائیں گے۔
واٹس ایپ کا مؤقف
واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ ان تمام اپ ڈیٹس کا مقصد صارفین کو تعطیلات کے دوران زیادہ تفریحی، تخلیقی اور مؤثر رابطے کا تجربہ فراہم کرنا ہے، تاکہ لوگ اپنے دوستوں اور اہل خانہ سے بہتر انداز میں جڑے رہ سکیں۔
گوگل ٹرانسلیٹ نے اپنی خدمات میں ایک اہم بہتری متعارف کرا دی ہے، جس کے بعد اب محاورات، سلینگ اور پیچیدہ جملوں کا ترجمہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر ہو گیا ہے۔ اس نئی پیش رفت کا مقصد صارفین کو مختلف زبانوں کے حقیقی مفہوم کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
گوگل اب صرف لفظ بہ لفظ ترجمے تک محدود نہیں رہا بلکہ ان جملوں پر بھی توجہ دے رہا ہے جن کے معنی محاوروں، مثالوں یا ثقافتی حوالوں میں پوشیدہ ہوتے ہیں۔ ماضی میں ایسے جملوں کا ترجمہ اکثر غلط یا مبہم ہو جاتا تھا، تاہم نئی اپ ڈیٹ کے بعد اس مسئلے میں واضح بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔
اس بہتری کے پیچھے گوگل کی جانب سے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس، خاص طور پر جیمنی (Gemini) ماڈلز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان جدید اے آئی ٹیکنالوجیز کی مدد سے گوگل ٹرانسلیٹ اب محاورات اور سلینگ کو صرف الفاظ کے بجائے ان کے سیاق و سباق اور مجموعی معنی کے مطابق سمجھنے اور ترجمہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
نئے سسٹم کے تحت اگر کوئی فقرہ محاوراتی انداز میں استعمال کیا گیا ہو تو گوگل ٹرانسلیٹ اب اس کے اصل مفہوم کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ ترجمہ زیادہ فطری اور قابلِ فہم ہو۔ اس سے مختلف زبانیں سیکھنے والے افراد، طلبہ اور بین الاقوامی صارفین کو خاصی سہولت ملنے کی توقع ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مشینی ترجمہ اب بھی انسانی مترجم کا مکمل متبادل نہیں بن سکا۔ بعض مخصوص، مقامی یا غیر روایتی محاورات میں اب بھی غلطیوں کا امکان موجود ہے، لیکن نئی اے آئی صلاحیتیں ترجمے کے معیار کو مسلسل بہتر بنا رہی ہیں۔
گوگل کے مطابق اس اپ ڈیٹ کا مقصد زبانوں کے درمیان فاصلہ کم کرنا اور دنیا بھر کے صارفین کو زیادہ درست اور بامعنی ترجمے فراہم کرنا ہے۔
وفاقی حکومت نے ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑا اقدام کرتے ہوئے پاکستان بھر کے طلبہ میں 7 لاکھ کروم بُکس تقسیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانا اور تعلیمی نظام کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو جدید تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، تاکہ طلبہ آن لائن تعلیم اور ڈیجیٹل وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔
رانا مشہود کے مطابق کروم بُکس کی فراہمی سے طلبہ کو آن لائن کلاسز، ڈیجیٹل تعلیمی مواد اور جدید سافٹ ویئر تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے طلبہ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے طلبہ کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور نوجوانوں کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کیا جا سکے۔ کروم بُکس ٹی آئی ایف فاؤنڈیشن لاہور کے تعاون سے فراہم کیے جائیں گے۔
وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین نے واضح کیا کہ کروم بُکس کی تقسیم مرحلہ وار اور شفاف طریقے سے کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ایک قومی مانیٹرنگ نظام بھی متعارف کرایا جائے گا، جس کے ذریعے ان آلات کے مؤثر استعمال اور تعلیمی نتائج کا جائزہ لیا جا سکے گا۔
حکام کے مطابق یہ منصوبہ شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان تعلیمی فرق کو کم کرنے میں مدد دے گا اور ملک بھر کے طلبہ کو مساوی تعلیمی مواقع فراہم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔
انار ایک ایسا پھل ہے جو اپنی موٹی سرخی مائل جلد اور اس کے اندر موجود رسیلے سرخ دانوں کی وجہ سے دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے۔ ان دانوں کے اندر موجود بیج، جنہیں اریل (Aril) بھی کہا جاتا ہے، نہ صرف کھانے کے قابل ہوتے ہیں بلکہ غذائیت سے بھرپور بھی ہوتے ہیں۔
ماہرینِ غذائیت کے مطابق انار کے بیجوں کو صحت کے لیے بے حد مفید سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ان میں وٹامن سی، وٹامن کے، پوٹاشیم اور فائبر شامل ہے جو جسم کے مختلف نظاموں کو بہتر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
انار کے بیجوں میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس، خاص طور پر پولی فینول، جسم میں فری ریڈیکلز کے خلاف لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ اجزا سوزش کو کم کرنے اور خلیوں کو نقصان سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جس سے مجموعی صحت بہتر رہتی ہے۔
ماہرین کے مطابق انار کے بیج دل کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔ یہ بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے اور کولیسٹرول کی سطح کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے دل کی بیماریوں کے خطرات میں کمی آ سکتی ہے۔
ان بیجوں میں موجود وٹامن سی مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے اور جسم کو مختلف انفیکشنز اور بیماریوں سے لڑنے کے قابل بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سردیوں یا موسمی بیماریوں کے دوران انار کا استعمال مفید سمجھا جاتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق انار کے بیجوں میں ایسے قدرتی مرکبات پائے جاتے ہیں جو بعض اقسام کے کینسر کے خلیوں کی نشوونما کو روکنے میں مدد دے سکتے ہیں، خاص طور پر چھاتی اور پروسٹیٹ کینسر کے حوالے سے ان کے فوائد پر تحقیق کی گئی ہے۔
انار کے بیج فائبر کا ایک بہترین ذریعہ ہیں، جو ہاضمے کو بہتر بنانے، قبض سے بچاؤ اور آنتوں کی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ فائبر کی موجودگی کی وجہ سے یہ بیج دیر تک پیٹ بھرے ہونے کا احساس بھی دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انار کے بیج جسم میں سوزش کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں، جو جوڑوں کے درد، ذیابیطس اور دیگر دائمی بیماریوں کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ انار کے بیجوں میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جلد کو سورج کی نقصان دہ شعاعوں اور ماحولیاتی آلودگی سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، جس سے جلد صحت مند اور تروتازہ رہتی ہے۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انار کے بیج دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ ان میں موجود پولی فینول یادداشت کو بہتر بنانے اور دماغ کو آکسیڈیٹیو تناؤ سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
کم کیلوریز اور زیادہ فائبر کی وجہ سے انار کے بیج وزن کم کرنے یا وزن کو کنٹرول میں رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ بھوک کو دیر تک قابو میں رکھتے ہیں۔
یہ تاثر عام ہے کہ مونگ پھلی کھانے کے فوراً بعد پانی پینا صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے، مگر ماہرین اس خیال کو غلط فہمی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق مونگ پھلی چونکہ خشک غذا ہے، اس لیے اس کے بعد پانی پینا نہ صرف محفوظ ہے بلکہ ہاضمے کے لیے فائدہ مند بھی ہوسکتا ہے۔
سائنسی نقطۂ نظر
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں کہ مونگ پھلی کے فوراً بعد پانی پینے سے گلے میں خراش، کھانسی یا کوئی اور مسئلہ ہوتا ہے۔ یہ خدشہ زیادہ تر روایتی تصورات کی بنیاد پر پایا جاتا ہے، حقیقت میں عام صحت رکھنے والے افراد کو اس بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
غلط فہمی کیوں پیدا ہوئی؟
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ مونگ پھلی کی تاثیر گرم ہوتی ہے اور اس کے بعد ٹھنڈا پانی پینے سے گلے میں تکلیف ہوسکتی ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ صرف اُن لوگوں میں دیکھا جاتا ہے جنہیں پہلے سے الرجی، تیزابیت، گیس یا معدے کی کسی تکلیف کا سامنا ہو۔
ماہرین کی رائے
غذائی ماہرین کے مطابق مونگ پھلی پروٹین، فائبر اور صحت مند چکنائی کا بہترین ذریعہ ہے، جبکہ پانی خوراک کو معدے میں آگے بڑھانے اور ہاضمہ بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس لیے عام حالات میں مونگ پھلی کے بعد پانی پینا کسی نقصان کا سبب نہیں بنتا۔
کن افراد کو احتیاط کرنی چاہیے؟
جن افراد کو مونگ پھلی سے الرجی ہو، انہیں اس کے استعمال کے بعد پانی پینے میں خاص احتیاط کرنی چاہیے، کیونکہ الرجی کی صورت میں معمولی غذائی ردعمل بھی بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح وہ لوگ جو تیزابیت، گیس یا ہاضمے کی دائمی تکالیف کا شکار ہوں، انہیں مونگ پھلی کے فوراً بعد ٹھنڈا پانی پینے سے پیٹ میں مزید بوجھ، جلن یا بدہضمی محسوس ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ حساس گلے والے بچوں میں ٹھنڈا پانی گلے کی خراش یا کھانسی بڑھا سکتا ہے، اس لیے ایسے افراد یا بچوں کے لیے بہتر ہے کہ وہ مونگ پھلی کھانے کے بعد فوراً پانی پینے سے گریز کریں یا نیم گرم پانی استعمال کریں۔ مجموعی طور پر یہ احتیاط صرف اُن لوگوں کے لیے ضروری ہے جنہیں پہلے سے کوئی مخصوص مسئلہ ہو، ورنہ صحت مند افراد کے لیے مونگ پھلی کے بعد پانی پینا بالکل محفوظ ہے۔
ایسے افراد میں گلے کی خراش یا بدہضمی بڑھ سکتی ہے، اس لیے انہیں احتیاط برتنی چاہیے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مونگ پھلی کھانے کے بعد پانی پینا بالکل محفوظ ہے اور اس حوالے سے پھیلی ہوئی روایات حقیقت پر مبنی نہیں۔ اگر آپ کو کوئی خاص طبی مسئلہ نہیں ہے تو مونگ پھلی کے بعد پانی پینے میں کوئی قباحت نہیں۔
گوگل میپس، جو دنیا بھر میں راستوں اور مقامات کی تلاش کے لیے استعمال ہوتا ہے، اب ایک نیا اور مفید فیچر متعارف کروا رہا ہے جس کی مدد سے صارفین اپنی پارک کی ہوئی گاڑی باآسانی تلاش کرسکیں گے۔ یہ فیچر اُس وقت کام آتا ہے جب آپ کسی بڑی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرکے اس کی صحیح لوکیشن بھول جاتے ہیں۔ گوگل میپس نے یہ سہولت فی الحال iOS صارفین کے لیے پیش کی ہے۔ اگر آپ اپنے آئی فون کو کار پلے، بلوٹوتھ یا USB کے ذریعے گاڑی کے ساتھ منسلک کرتے ہیں تو ایپ خودکار طور پر اس جگہ کو محفوظ کرلیتی ہے جہاں آپ نے گاڑی روکی ہوتی ہے۔ نقشے پر ایک پن ظاہر ہوتی ہے جس پر "آپ نے یہاں پارک کیا ہے" لکھا ہوتا ہے، اور جیسے ہی آپ دوبارہ ڈرائیونگ شروع کرتے ہیں، یہ پن خود بخود غائب ہو جاتی ہے۔ یہ فیچر دراصل گوگل میپس کے پرانے جہاں پارک کیا ہے وہاں محفوظ کریں آپشن کا جدید اور بہتر ورژن ہے، جبکہ پرانی سہولت اب بھی صارفین کے لیے دستیاب ہے۔
دنیا بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کی کم از کم عمر کے تعین کے حوالے سے ہونے والی بحث تیز ہوتی جا رہی ہے، اور متعدد ممالک نئے قوانین متعارف بھی کروا رہے ہیں۔ تاہم اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے حکومتوں کو خبردار کیا ہے کہ صرف عمر کی پابندیاں لگانا بچوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ رکھنے کے لیے کافی نہیں۔ یونیسف کے مطابق ایسے قوانین اچھے ارادوں کے ساتھ بنائے جاتے ہیں، لیکن بعض صورتوں میں یہ غیر متوقع خطرات بھی پیدا کر سکتے ہیں اور بچوں کی آن لائن حفاظت کو کمزور بنا دیتے ہیں۔
یونیسف کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا بچوں کے لیے صرف ایک تفریحی سہولت نہیں بلکہ بہت سے بچوں، خصوصاً تنہائی یا سماجی مشکلات کا شکار بچوں کے لیے تعلیم، رابطے، کھیل اور خود اظہار کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اگر پلیٹ فارمز تک رسائی کو سختی سے محدود کیا جائے تو بچے غیر محفوظ یا کم ریگولیٹڈ ایپس اور ویب سائٹس کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں، جس سے ان کو مزید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ اکثر بچے پابندیوں کے باوجود بھی مشترکہ ڈیوائسز، متبادل اکاؤنٹس یا ورک اراؤنڈز کے ذریعے سوشل میڈیا استعمال کر لیتے ہیں، جس سے نگرانی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔
یونیسف نے زور دیا کہ عمر کی پابندیاں ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ضرور ہو سکتی ہیں مگر یہ حکمت عملی صرف اسی پر منحصر نہیں ہونی چاہیے۔ بچوں کو آن لائن نقصان سے بچانے، ان کی پرائیویسی کا احترام کرنے اور انہیں خطرناک پلیٹ فارمز کی طرف دھکیلنے سے روکنے کے لیے جامع اقدامات ضروری ہیں۔ ادارے نے واضح کیا کہ قوانین صرف عمر کی شرط نافذ کر دینے سے مؤثر نہیں بنتے،ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن، حفاظت کے نظام، اور مواد کی نگرانی کو بہتر بنانا ہوگا۔
یونیسف نے حکومتوں، ریگولیٹرز اور ٹیک کمپنیوں سے اپیل کی کہ وہ بچوں اور والدین کے ساتھ مل کر ایسے ڈیجیٹل ماحول تشکیل دیں جو محفوظ، شمولیتی ہوں اور بچوں کے تمام حقوق کا مکمل احترام کرتے ہوں۔
نے پیدل چل کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔ روبوٹ نے 66 میل یعنی تقریباً 106.3 کلو میٹر کا سفر مسلسل پیدل طے کرکے گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کیا۔ اس طویل سفر کے دوران روبوٹ کی کارکردگی اور برداشت کا بھرپور امتحان لیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق AgiBot A2 نے اپنا پیدل سفر چینی شہر سوزہو سے شروع کیا اور تین دن کے طویل سفر کے بعد شنگھائی پہنچا۔ اس مشن کے دوران روبوٹ کی بیٹریاں تبدیل کی گئیں، تاہم اس نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنا سفر روکا نہیں، کیونکہ یہ تجربہ روبوٹ کی مسلسل آپریٹنگ صلاحیت جانچنے کے لیے انجام دیا جا رہا تھا۔
گنیز ورلڈ ریکارڈز نے AgiBot A2 کو دنیا کا طویل ترین پیدل سفر کرنے والا روبوٹ قرار دیتے ہوئے اسے باضابطہ طور پر اعزاز سے نواز دیا۔ ماہرین کے مطابق اس کامیابی سے ثابت ہوتا ہے کہ جدید ہیومنائیڈ روبوٹس اب لیبارٹریز تک محدود نہیں رہے بلکہ شہری ماحول، مختلف سطحوں، ٹریفک اور دن رات کی تبدیلیوں کو خود سمجھتے ہوئے آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دنیا بھر میں اوپن اے آئی اور چیٹ جی پی ٹی کی سروس اچانک متاثر ہونے کے باعث صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ منگل کے روز مختلف ممالک میں بڑی تعداد میں لوگوں نے اطلاع دی کہ وہ سروس تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔ بین الاقوامی ویب سائٹ ڈاؤن ڈیٹیکٹر پر 39 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں جن میں سے زیادہ تر صارفین نے چیٹ جی پی ٹی تک پہنچ نہ ہونے کی نشاندہی کی۔ کچھ صارفین نے اوپن اے آئی کی ویب سائٹ اور اے پی آئی تک رسائی میں مسائل کی رپورٹ بھی کی۔
سوشل میڈیا پر صارفین نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سروس مکمل طور پر جواب دے چکی ہے اور صرف لوڈنگ پر ہی رہتی ہے۔ کئی صارفین نے مذاق اور تنقید بھی کی، خصوصاً ان طلبہ کو نشانہ بنایا جو تعلیمی کام کے لیے چیٹ جی پی ٹی پر انحصار کرتے ہیں۔ تقریباً 20 منٹ بعد صورتحال بہتر ہونا شروع ہوئی اور مختلف صارفین نے بتایا کہ سروس دوبارہ بحال ہو گئی ہے۔
اوپن اے آئی کی جانب سے جاری مختصر بیان میں کہا گیا کہ کمپنی بڑھتے ہوئے ایرر ریٹس کا جائزہ لے رہی ہے۔ اپ ڈیٹ میں مزید بتایا گیا کہ مسئلہ حل کرنے کے لیے اقدامات کر لیے گئے ہیں اور نظام کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
چین نے بدھ کے روز اپنے شمال مغربی علاقے سے ایک دوبارہ قابل استعمال کیریئر راکٹ ’ژوقے-3 لانچ کیا۔ یہ راکٹ مائع آکسیجن اور میتھین سے چلتا ہے اور کم خرچ، زیادہ وزن اٹھانے اور بار بار استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
لانچ کے بعد راکٹ کا دوسرا حصہ کامیابی سے مدار تک پہنچ گیا، مگر اس کا پہلا حصہ واپسی پر لینڈنگ میں ناکام رہا۔
واپسی کے دوران پہلے حصے میں ایندھن جلنے کا عمل ٹھیک طریقے سے نہ ہو سکا، جس کے باعث وہ لینڈنگ پیڈ پر نہیں اتر پایا۔ ماہرین نے حادثے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
بیجنگ کی راکٹ کمپنی لانڈ اسپیس کے مطابق، اس مشن کے دوران راکٹ کے پورے ڈیزائن، اس کے سسٹمز اور پرواز کے دوران جمع ہونے والا اہم ڈیٹا کامیابی سے حاصل کر لیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ معلومات مستقبل میں راکٹ کی باقاعدہ پروازوں اور محفوظ واپسی کے لیے بہت مددگار ثابت ہوں گی۔
ذہنی بیماریوں کے بارے میں سائنس دانوں نے ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ جرمنی کے محققین نے پہلی بار ایسا جین دریافت کیا ہے جو خود براہِ راست ذہنی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔ اس جین کا نام GRIN2A ہے۔
اس سے پہلے ماہرین کا خیال تھا کہ ذہنی امراض ایک نہیں بلکہ کئی جینز کے مجموعی اثرات سے پیدا ہوتے ہیں، لیکن نئی تحقیق نے یہ نظریہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ سائنسی جریدے مالیکیولر سائیکیٹری میں شائع رپورٹ کے مطابق، GRIN2A جین کی مخصوص اقسام رکھنے والے افراد میں ذہنی بیماری کی علامات بہت جلد ظاہر ہو جاتی ہیں ۔ بعض بچوں میں، جب کہ عام طور پر یہ علامات بڑوں میں سامنے آتی ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا میں ہر 7 میں سے ایک شخص کسی نہ کسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے، جن میں ڈپریشن اور اینزائٹی سب سے عام ہیں۔ ماہرین کے مطابق جینیات ذہنی بیماریوں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اور خاندان میں ایسا مرض ہونا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ تاہم اب تک یہی سمجھا جاتا رہا کہ اس کے پیچھے کئی جین مل کر کام کرتے ہیں۔ لیکن اب پہلی بار ایک واحد جین کو براہِ راست وجہ قرار دیا گیا ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف، پروفیسر یُوہانس لیمکے کے مطابق:
ہم نے ثابت کیا ہے کہ GRIN2A وہ پہلا جین ہے جو اپنے طور پر ذہنی بیماری پیدا کر سکتا ہے۔
محققین نے ان 121 افراد کا ڈیٹا جانچا جن کے اس جین میں تبدیلی موجود تھی۔ نتائج کے مطابق یہ جین نہ صرف سکیزوفرینیا بلکہ دیگر ذہنی بیماریوں سے بھی وابستہ ہے، اور ان افراد میں علامات بچپن یا نوعمری میں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ حیران کن طور پر کچھ مریضوں میں صرف ذہنی علامات تھیں، حالانکہ عام طور پر GRIN2A کی تبدیلیاں مرگی یا ذہنی کمزوری سے بھی منسلک ہوتی ہیں۔
یہ جین دماغ میں اعصابی خلیوں کے سگنلز کو کنٹرول کرتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ اس جین کی مخ
صوص اقسام دماغ کے NMDA ریسیپٹر کی کارکردگی کم کر دیتی ہیں — یہ ایک اہم پروٹین ہے جو دماغی خلیوں کے رابطے کو برقرار رکھتا ہے۔
ابتدائی علاج کے تجربات میں ایسے مریضوں کو L-serine نامی غذائی سپلیمنٹ دیا گیا، جس کے بعد ان میں ذہنی علامات میں واضح بہتری دیکھی گئی۔ L-serine دماغ میں NMDA ریسیپٹر کو بہتر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔
پروفیسر لیمکے اور ان کی ٹیم گزشتہ 15 سال سے بچوں میں دماغی امراض پر تحقیق کر رہی ہے، اور انہی کی قائم کردہ دنیا کی سب سے بڑیGRIN2A مریضوں کی رجسٹری اس اہم دریافت کا ذریعہ بنی۔
نیورالِنک چپ لگوانے والے مفلوج افراد نے دماغ کی مدد سے روبوٹک بازو چلانا شروع کر دیا ہے۔
ایلون مسک کی کمپنی نیورالِنک کے تجرباتی پروگرام میں شامل افراد نے حیران کن کارکردگی دکھائی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو میں دیکھا گیا کہ راکی اسٹوٹن برگ ، جو 2006 کی چوٹ کے بعد گردن سے نیچے تک مفلوج ہیں۔ صرف اپنے خیالات کی مدد سے ایک روبوٹک بازو کو با آسانی حرکت دیتے نظر آتے ہیں۔ اس سے پہلے وہ ماؤتھ سے چلنے والے ایک خصوصی کنٹرولر کے ذریعے ویڈیو گیمز وغیرہ کھیلتے تھے۔
تجربے میں شامل ایک اور رضاکار نے بھی سوچ کی مدد سے روبوٹک بازو کو کنٹرول کرتے ہوئے گلاس اٹھایا اور اس سے مشروب پیا۔
نیورالِنک کا کہنا ہے کہ کلینیکل ٹرائل میں شامل افراد اب نہ صرف کمپیوٹر بلکہ روبوٹک بازو جیسی فزیکل ڈیوائسز بھی اپنے دماغ کے ذریعے چلانے کے قابل ہو رہے ہیں۔ کمپنی مستقبل میں مزید ایسی جدید ڈیوائسز لانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جنہیں نیورالِنک کی مدد سے کنٹرول کیا جا سکے گا۔
کیلیفورنیا: امریکی خلائی ادارہ ناسا نے مریخ پر تحقیق کے لیے نئی نسل کے ڈرونز کی آزمائش کی ہے۔ یہ تجربات امریکی ریاست کیلیفورنیا کے موجاوے صحرا میں کیے گئے، جو اپنی ساخت اور ماحول کے اعتبار سے مریخ کی سطح سے مشابہت رکھتا ہے۔
ناسا کے مطابق سائنس دانوں نے تین تحقیقی ڈرونز کو اپریل اور ستمبر کے دوران ایک وسیع، بنجر اور خصوصیات سے خالی ریتیلے علاقے میں اڑایا۔ ان تجربات کا مقصد ڈرون کے جدید نیویگیشن سافٹ ویئر میں بہتری کا جائزہ لینا تھا تاکہ مستقبل کی مریخی پروازوں میں درست سمت شناسی ممکن ہوسکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مریخ پر موجود ایسے ہی ریتیلے اور یکساں نظر آنے والے علاقے سابقہ انجینوئٹی مارس ہیلی کاپٹر کے لیے بھی چیلنج ثابت ہوئے تھے۔ انجینوئٹی کو اپنی آخری پروازوں کے دوران اسی وجہ سے سمت کا درست اندازہ لگانے میں مشکلات پیش آئیں۔
انجینوئٹی ہیلی کاپٹر 2021 میں پرزیورینس روور کے ساتھ مریخ کی سطح پر بھیجا گیا تھا۔ یہ توقعات سے زیادہ مدت تک فعال رہا اور مجموعی طور پر 72 پروازیں مکمل کیں۔ جنوری 2024 میں ایک لینڈنگ کے دوران نقصان پہنچنے کے بعد اس کا مشن باضابطہ طور پر مکمل قرار دیا گیا۔
سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کوئٹہ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان کے تعاون سے سینٹرل لائبریری میں " سیرتُ النبیؐ کارنر "قائم کر دیا، جسے اسلامی تعلیمات اور سیرتِ رسول ﷺ کے مطالعے کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
یونیورسٹی کے مطابق اس خصوصی کارنر میں 14 جدید لیپ ٹاپ فراہم کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے طالبات اور سٹاف کو رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ کی سیرت کا مطالعہ ڈیجیٹل ذرائع سے کرنے کا موقع میسر ہوگا۔ اس کارنر میں سیرتِ رسول ﷺ سے متعلق کتابیں ،تحقیقی مواد اور دیگر علمی وسائل بھی دستیاب کیے گئے ہیں، جو سیرت النبی ﷺ پر تحقیق اور مطالعے کو مزید آسان بنائیں گے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے " سیرتُ النبیؐ کارنر" کا قیام نوجوانوں کی فکری و اخلاقی تربیت کے لیے اہم کردار ادا کرے گا، جبکہ یہ اقدام طلبہ کو روحانی اور تعلیمی رہنمائی فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یونیورسٹی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ اس کارنر سے مستفید ہونے والی طالبات نہ صرف علمی میدان میں بہتر کارکردگی دکھائیں گی بلکہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں اپنی شخصیت کو بھی نکھارنے میں کامیاب ہوں گی۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں آٹھ ماہ کے مشن کی تکمیل کے بعد دو روسی اور ایک امریکی خلاباز بحفاظت زمین پر واپس آگئے۔ خلابازوں کو لے کر آنے والا روسی خلائی کیپسول قازقستان کے شہر ژزقازغان کے قریب لینڈنگ کے دوران زمین سے ٹکرایا، تاہم تمام خلاباز محفوظ رہے۔ طبی عملے نے موقع پر ہی ابتدائی امداد فراہم کی جس کے بعد انہیں مزید طبی معائنے کے لیے ماسکو منتقل کردیا گیا۔
چینی سائنس دانوں نے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے ایسا متبادل گوشت تیار کر لیا ہے جو دیکھنے اور کھانے میں مرغی کے گوشت سے بہت ملتا جلتا ہے۔ ماہرین نے ایک خاص فنگس میں جینیاتی تبدیلی کر کے اس سے پروٹین سے بھرپور ایسا مادہ حاصل کیا ہے جس کی ساخت اور ذائقہ چکن جیسا محسوس ہوتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ نیا پروٹین عام چکن کے مقابلے میں کم خرچ اور ماحول دوست ہے۔ مویشی پالنے سے دنیا بھر میں تقریباً 14 فیصد گرین ہاؤس گیسز پیدا ہوتی ہیں، اور اس عمل کے لیے بہت زیادہ زمین اور پانی بھی درکار ہوتا ہے، اس لیے اس طرح کے متبادل مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اگرچہ فنگس اور خمیر سے بنایا جانے والا پروٹین ماحول کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کا میٹ میں بدلنا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ اب نئی تحقیق سے امید پیدا ہوئی ہے کہ ایسے پروٹین کو مزید بہتر بنا کر عام گوشت کا آسان اور سستا متبادل بنایا جا سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں گوگل اپنے نئے اے آئی چشمے متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے۔ ان جدید گلاسز کے ذریعے کمپنی کا اے آئی اسسٹنٹ جیمینائی براہِ راست صارف کے چہرے کے سامنے موجود ہو گا، جس سے استعمال مزید آسان اور تیز ہو جائے گا۔
گوگل کے مطابق ادارہ دو قسم کے اے آئی گلاسز تیار کر رہا ہے۔ پہلی قسم ایسے چشموں پر مشتمل ہے جن میں اسکرین موجود نہیں ہوگی، مگر بلٹ اِن اسپیکرز، مائیکروفون اور کیمرا کی مدد سے صارف قدرتی انداز میں جیمینائی سے بات چیت کر سکے گا، تصاویر لے سکے گا اور فوری مدد حاصل کر سکے گا۔
دوسری قسم ڈسپلے اے آئی گلاسز کی ہے، جن میں لینس کے اندر ایک چھوٹا ڈسپلے شامل کیا گیا ہے۔ اس ڈسپلے کے ذریعے صارف کو نجی طور پر صرف ضرورت کے وقت معلومات دکھائی جائیں گی، جیسے راستے کی رہنمائی یا کسی جملے کا فوری ترجمہ۔
بتایا جا رہا ہے کہ یہ گلاسز گوگل جینٹل مونسٹر اور واربی پارکر کے تعاون سے تیار کر رہا ہے، جبکہ پہلے ماڈلز کی لانچ آئندہ برس کے آغاز میں متوقع ہے۔