تعلیم

نوجوان، تعلیم اور بے روزگاری کا المیہ

نوجوان، تعلیم اور بے روزگاری کا المیہ

یہ تحریر پاکستان میں نوجوانوں کو درپیش تعلیمی بحران اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے سنگین مسئلے کو اجاگر کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ تعلیمی نظام جدید تقاضوں، عملی مہارتوں اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ نہیں، جس کے باعث تعلیم یافتہ نوجوان روزگار حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ غربت، سماجی و ثقافتی رکاوٹیں، صنفی عدم مساوات اور ناقص تعلیمی معیار تعلیم سے دوری کی بڑی وجوہات ہیں۔ تحریر اس امر پر زور دیتی ہے کہ نصاب کی اصلاح، اساتذہ کی تربیت، فنی و ڈیجیٹل تعلیم، اور لڑکے لڑکیوں کو مساوی تعلیمی مواقع فراہم کر کے ہی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بیدار کیا جا سکتا ہے، تاکہ وہ نہ صرف خود بااختیار ہوں بلکہ ملک کی ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

گورنر بلوچستان کا تربت یونیورسٹی کے تیسرے کانووکیشن میں گولڈ میڈلسٹ طلبہ کیلئے نقد انعامات کا اعلان

گورنر بلوچستان کا تربت یونیورسٹی کے تیسرے کانووکیشن میں گولڈ میڈلسٹ طلبہ کیلئے نقد انعامات کا اعلان

گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے یونیورسٹی آف تربت کے تیسرے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے گولڈ میڈلز حاصل کرنے والے گریجویٹس کیلئے فی کس ایک لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا۔ انہوں نے تربت یونیورسٹی کو جنوبی بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کی روشن مثال قرار دیتے ہوئے وائس چانسلر اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔

گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول بی ایم سی کالونی میں جدید سائنسی لیبارٹری کا قیام

گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول بی ایم سی کالونی میں جدید سائنسی لیبارٹری کا قیام

محکمہ اسکول ایجوکیشن حکومت بلوچستان کے تحت PMU-BESP کے منصوبے کے ذریعے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول بی ایم سی کالونی میں جدید سائنسی لیبارٹری اور بحال شدہ کلاس رومز قائم کیے گئے ہیں۔ ان سہولیات سے طالبات کو عملی تعلیم کے بہتر مواقع میسر آئے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی دلچسپی، حاضری اور سیکھنے کے معیار میں نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ یہ اقدام بلوچستان میں معیاری اور جدید تعلیم کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

بلوچستان میں پہلی بار ونٹر اسکول کیمپ کا آغاز

بلوچستان میں پہلی بار ونٹر اسکول کیمپ کا آغاز

حکومتِ بلوچستان کے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ پروگرام (BESP) نے ورلڈ بینک کے تعاون سے صوبے میں پہلی مرتبہ ونٹر اسکول کیمپ کا آغاز کیا ہے۔ یہ کیمپ کوئٹہ میں 5 جنوری سے 13 فروری تک جاری رہے گا، جس میں 2000 سے زائد طلباء بنیادی خواندگی اور عددی صلاحیتوں میں بہتری کے لیے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پروگرام کا مقصد موسمِ سرما میں بچوں کو مؤثر اور منظم تعلیمی سرگرمیوں سے جوڑے رکھنا ہے۔

بلوچستان محکمہ تعلیم نے طالب علموں کے اسکول چھوڑنے کی شرح کم کرنے کے لیے ارلی وارننگ سسٹم کا آغاز کر دیا

بلوچستان محکمہ تعلیم نے طالب علموں کے اسکول چھوڑنے کی شرح کم کرنے کے لیے ارلی وارننگ سسٹم کا آغاز کر دیا

بلوچستان میں طالب علموں کے اسکول چھوڑنے کے مسئلے کو کم کرنے کے لیے محکمہ تعلیم نے ارلی وارننگ سسٹم متعارف کرایا ہے۔ یہ نظام ABC ماڈل پر مبنی ہے: A – تعلیمی کارکردگی، B – رویہ، C – مسلسل غیر حاضری۔ اس کا مقصد وقت پر طلبہ کی مشکلات کی نشاندہی کرنا اور ہدفی معاونت فراہم کرنا ہے، جس سے بچے اسکول میں شامل رہیں اور تعلیمی معیار بہتر ہو۔

بلوچستان میں تعلیمی بحالی کی جانب اہم پیش رفت

بلوچستان میں تعلیمی بحالی کی جانب اہم پیش رفت

بلوچستان میں سال 2025 کے دوران 4,000 سے زائد بند اسکول دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں جبکہ 1,200 نئے اساتذہ کی تعیناتی بھی مکمل ہو چکی ہے۔ ان اقدامات سے تعلیمی سرگرمیوں میں اضافہ، دیہی علاقوں میں تعلیم تک رسائی میں بہتری اور والدین کے اعتماد کی بحالی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق آئندہ مرحلے میں مزید اسکولوں کی بحالی اور ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ پر کام کیا جائے گا۔

یونیورسٹی آف تربت میں آئی جی ایف سی کی جانب سے مستحق طلبہ میں اسکالرشپس کی تقسیم

یونیورسٹی آف تربت میں آئی جی ایف سی کی جانب سے مستحق طلبہ میں اسکالرشپس کی تقسیم

یونیورسٹی آف تربت میں آئی جی ایف سی کی جانب سے مستحق طلبہ میں اسکالرشپس کی تقسیم کے لیے خصوصی تقریب منعقد ہوئی، جس میں شعبہ قانون اور دیگر شعبہ جات کے طلبہ کے لیے مجموعی طور پر 20 لاکھ روپے کے اسکالرشپ چیکس دیے گئے۔ اسکالرشپ کی بحالی کا مقصد ہونہار اور مالی مشکلات کا شکار طلبہ کی تعلیمی معاونت ہے، جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ اور طلبہ نے تعلیم کے فروغ میں ایف سی بلوچستان ساؤتھ کے کردار کو سراہا۔

لسبیلہ یونیورسٹی اوتھل اور بلوچستان ایگریکلچر کالج کوئٹہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

لسبیلہ یونیورسٹی اوتھل اور بلوچستان ایگریکلچر کالج کوئٹہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

اوتھل/کوئٹہ: لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز  اوتھل اور بلوچستان ایگریکلچر کالج کوئٹہ کے درمیان تعلیمی و تحقیقی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔مفاہمتی یادداشت پر لسبیلہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک ترین اور بلوچستان ایگریکلچر کالج کوئٹہ کے پرنسپل پروفیسر عبدالرزاق ریکی نے دستخط کیے۔ اس موقع پر پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر الٰہی بخش مرغزانی، رجسٹرار ڈاکٹر بالاچ رشید اور فیکلٹی آف ایگریکلچر کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد راشد بھی موجود تھے۔ اس مفاہمتی یادداشت کا مقصد  دوںوں یونیورسٹیوں  کے درمیان زراعت، پانی اور سمندری علوم کے شعبوں میں تعاون کے لیے ایک جامع فریم ورک قائم کرنا ہے۔ معاہدے کے تحت دونوں ادارے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تحقیقی منصوبوں، وسائل کے اشتراک اور مہارت کے تبادلے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ یادداشت کے مطابق دونوں ادارے لیبارٹری تکنیکی ماہرین کی استعداد کار بڑھانے کے لیے تربیتی مواقع فراہم کریں گے، جبکہ پی ایچ ڈی ہولڈرز کے تبادلے کے پروگراموں کے امکانات بھی تلاش کیے جائیں گے تاکہ مشترکہ تحقیق اور علم کے تبادلے کو فروغ دیا جا سکے۔اس کے علاوہ، تعلیمی اور پیشہ ورانہ ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ سرگرمیوں جیسے ورکشاپس، سیمینارز اور کانفرنسز کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ معاہدہ صوبے میں زرعی تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اساتذہ کی مبینہ غیرقانونی تقرریاں، اینٹی کرپشن کی سی ٹی ایس پی کے سی ای او کو طلبی

اساتذہ کی مبینہ غیرقانونی تقرریاں، اینٹی کرپشن کی سی ٹی ایس پی کے سی ای او کو طلبی

کوئٹہ میں اساتذہ کی مبینہ غیرقانونی تقرریوں کی تحقیقات کے سلسلے میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان نے ٹیسٹنگ سروس سی ٹی ایس پی کے سی ای او فیصل کاکڑ کو 7 جنوری کو طلب کر لیا ہے۔ عدم حاضری کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔

بلوچستان یوتھ سوشو اکنامک ڈیولپمنٹ پروگرام۔ طلبہ و طالبات نے اپنے مستقبل کے خواب بانٹے ۔وزیراعلی بلوچستان کے وژن کے تحت نوجوانوں کو کیریئر اور خود شناسی کی رہنمائی

بلوچستان یوتھ سوشو اکنامک ڈیولپمنٹ پروگرام۔ طلبہ و طالبات نے اپنے مستقبل کے خواب بانٹے ۔وزیراعلی بلوچستان کے وژن کے تحت نوجوانوں کو کیریئر اور خود شناسی کی رہنمائی

وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز احمد خان بگٹی کے وژن کے تحت محکمہ امور نوجوانان حکومت بلوچستان نے بلوچستان یوتھ سوشو اکنامک ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت مرڈین پبلک ہائی اسکول میں ایک روزہ تربیتی سرگرمی کا کامیاب انعقاد کیا۔ اس سیشن کا موضوع “Dream Big, Start Early, Build Your Future” تھا جس کی قیادت ٹرینر محترمہ ملائکہ اعظم نے کی۔ تربیتی سیشن میں 86 سے زائد طلبہ و طالبات نے حصہ لیا۔ پروگرام کا آغاز پانچ زبانوں میں خوش آمدید کہنے سے ہوا جس نے شمولیت اور ہم آہنگی کا ماحول پیدا کیا۔ طلبہ نے مختصر حوصلہ افزائی کی قسم اٹھائی اور مستقبل کے حوالے سے اپنی 5–10 سالہ وژن شیئر کی۔ Choosing Your Path سرگرمی نے طلبہ کو اپنی صلاحیتوں اور ممکنہ کیریئر آپشنز پر غور کرنے کی ترغیب دی۔ سیشن میں کیریئر، اسکالرشپ اور فیلوشپ کے عملی رہنمائی بھی دی گئی۔ سیشن کا اختتام خود شناسی، حوصلہ افزائی اور مثبت مستقبل کے عزم کے پیغام کے ساتھ ہوا۔

جامعہ بلوچستان اور این ڈی ایم اے کے درمیان ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

جامعہ بلوچستان اور این ڈی ایم اے کے درمیان ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

جامعہ بلوچستان اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے درمیان قدرتی آفات سے نمٹنے، تحقیق، تربیت اور طلباء کی عملی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ معاہدے کے تحت مشترکہ ورکشاپس، انٹرن شپس اور تحقیقی منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔

جامعہ بلوچستان سمیت صوبے کی جامعات کی ایچ ای سی ٹی ڈی ایف کے کامیاب منصوبوں کی اسلام آباد میں نمائش

جامعہ بلوچستان سمیت صوبے کی جامعات کی ایچ ای سی ٹی ڈی ایف کے کامیاب منصوبوں کی اسلام آباد میں نمائش

اسلام آباد: جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد باذئی نے بیوٹمز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ اور لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبد المالک ترین کے ہمراہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے زیر اہتمام ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ (ٹی ڈی ایف) کے کامیاب منصوبوں کی نمائش کی تقریب میں شرکت کی۔ یہ تقریب پاک چین فرینڈشپ سینٹر اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں ٹی ڈی ایف کے تحت فنڈ کیے گئے کامیاب تحقیقی و تکنیکی منصوبے پیش کیے گئے۔ جامعہ بلوچستان کی جانب سے منتخب شدہ منصوبہ پروفیسر ڈاکٹر وحید نور نے پیش کیا، جبکہ یونیورسٹی آف بلوچستان جی آئی ایل لیب کے دیگر منصوبے بھی نمائش کا حصہ تھے۔ وائس چانسلرز نے مختلف ٹیکنالوجی اسٹالز کا دورہ کیا، شرکاء سے ملاقات کی اور مستقبل میں باہمی تعاون اور اشتراک کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ تقریب نے جامعہ بلوچستان کی اطلاقی تحقیق، جدت طرازی اور اکیڈمیا و صنعت کے درمیان روابط کے فروغ میں بڑھتے ہوئے کردار کو نمایاں کیا۔

پنجگور میں نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروباری مواقع پر زور، جامعہ مکران اور بی آر ایس پی کا اجلاس

پنجگور میں نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروباری مواقع پر زور، جامعہ مکران اور بی آر ایس پی کا اجلاس

جامعہ مکران پنجگور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر میر سعادت بلوچ نے بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (بی آر ایس پی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر طاہر رشید سے ملاقات کی، جس میں بلوچستان میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور کاروباری مواقع کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران وائس چانسلر کو حکومتِ بلوچستان کے رائز (RISE) منصوبے سے آگاہ کیا گیا، جس میں پنجگور کے نوجوانوں کی شمولیت، ہنر مندی کی تربیت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اجلاس میں ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے، نوجوانوں کو خود مختار بنانے اور پنجگور کے نوجوانوں کے لیے پائیدار معاشی مواقع پیدا کرنے پر زور دیا گیا۔

بیوٹمز کے گریجویٹس علم اور ترقی کے علمبردار ہیں، گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل

بیوٹمز کے گریجویٹس علم اور ترقی کے علمبردار ہیں، گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل

کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ منیجمنٹ سائنسز (بیوٹمز) کے اکیسویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ کانووکیشن کی تقریبات محض رسمی تقاریب نہیں ہوتیں بلکہ یہ فکری ترقی، ذاتی کامیابی اور معاشرے کی خدمت کے سفر کے اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ گورنر بلوچستان کا کہنا تھا کہ آج بیوٹمز سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ پاکستان اور بلوچستان کی امیدوں کے ترجمان ہیں اور علم و ترقی کے مشعل بردار کے طور پر آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ اور ان کی ٹیم کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ بیوٹمز مسلسل تعلیمی معیار، تحقیق اور جدت کی علامت بن کر ابھری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹائمز ہائر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2026 میں بیوٹمز کو عالمی بینڈ 1500 میں شامل کیا گیا ہے، جو بلوچستان کی واحد جامعہ ہے جسے عالمی سطح پر درجہ بندی میں جگہ ملی ہے۔ ان کے مطابق یہ کامیابی یونیورسٹی کی معیاری تعلیم اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے مستقل کوششوں کا ثبوت ہے۔ تقریب میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، وائس چانسلر بیوٹمز، دیگر سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز، فیکلٹی ممبران، والدین اور طلبہ نے شرکت کی۔ کانووکیشن کے دوران 10 پی ایچ ڈی، 685 بی ایس اور 41 ایم ایس و ایم بی اے طلبہ میں ڈگریاں اور گولڈ میڈلز تقسیم کیے گئے۔ گورنر بلوچستان نے اپنے خطاب میں مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ جیسے شعبوں میں سینٹرز آف ایکسی لینس قائم کرنے کے بیوٹمز کے وژن کو سراہا اور کہا کہ ژوب اور مسلم باغ میں ذیلی کیمپسز کا قیام تعلیمی مواقع کے فروغ کی ایک اہم مثال ہے۔ خطاب کے اختتام پر گورنر نے گریجویٹس کو تلقین کی کہ وہ دیانت داری، جدت اور سیکھنے کے جذبے کے ساتھ اپنی برادری اور ملک کی خدمت کریں۔ انہوں نے تمام فارغ التحصیل طلبہ، ان کے اہل خانہ اور اساتذہ کو اس کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

جامعہ بلوچستان کا 97واں سنڈیکیٹ اجلاس وائس چانسلر کی صدارت میں منعقد

جامعہ بلوچستان کا 97واں سنڈیکیٹ اجلاس وائس چانسلر کی صدارت میں منعقد

جامعہ بلوچستان کا 97واں سنڈیکیٹ اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد باذئی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں تعلیمی، مالی اور انتظامی امور سمیت مختلف پالیسی معاملات کی منظوری دی گئی اور جامعہ کی ترقی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

خضدار کے نواحی علاقے میں خستہ حال جھونپڑی اسکول کے معاملے پر انتظامیہ حرکت میں آگئی

خضدار کے نواحی علاقے میں خستہ حال جھونپڑی اسکول کے معاملے پر انتظامیہ حرکت میں آگئی

خضدار کے نواحی علاقے میں قائم جھونپڑی اسکول کی خستہ حالی سامنے آنے پر ضلعی انتظامیہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے محکمہ تعلیم کو مسائل حل کرنے کی ہدایات دے دیں۔ اسکول میں بچوں کے لیے بنیادی سہولیات کی کمی اور غیر محفوظ تعلیمی ماحول کے باعث اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کو محفوظ اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، جبکہ والدین اور مقامی افراد انتظامیہ کے فوری اقدام پر خوشی کا اظہار کر چکے ہیں۔

خضدار کے پہاڑوں میں امید: جھونپڑی اسکول کی کہانی

خضدار کے پہاڑوں میں امید: جھونپڑی اسکول کی کہانی

خضدار کے دور دراز پہاڑوں میں ایک چھوٹا سا جھونپڑی اسکول امید کی روشنی بن کر کھڑا ہے۔ یہ اسکول سلمیٰ نامی ایک باہمت خاتون چلا رہی ہیں جو اپنے وسائل سے بچوں کے لیے کتابیں اور کاپیاں فراہم کرتی ہیں۔ بجلی، پانی اور فرنیچر کے بغیر، یہ اسکول ثابت کرتا ہے کہ خلوص اور محنت سے تعلیم کی راہ رکھی نہیں جا سکتی۔ متعلقہ اداروں سے اپیل ہے کہ اس خواب کو مکمل کرنے میں مدد کریں۔

جامعہ بلوچستان اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے بلدیاتی اصلاحات اور جیو ٹیگنگ سروے پر معاہدہ کیا

جامعہ بلوچستان اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے بلدیاتی اصلاحات اور جیو ٹیگنگ سروے پر معاہدہ کیا

کوئٹہ :  جامعہ بلوچستان اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے بلدیاتی نظم و نسق میں بہتری، ادارہ جاتی مضبوطی اور جیو ٹیگنگ سروے کے لیے مفاہمتی یادداشت اور لیٹر آف ایگریمنٹ پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ جامعہ بلوچستان کے گورنمنٹ انوویشن لیب کے ذریعے طے پایا۔ معاہدے کے تحت میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی املاک کا جیو ٹیگنگ سروے کیا جائے گا، جس سے بلدیاتی ریکارڈ کی درستگی، شفافیت، شہری منصوبہ بندی اور آمدن میں اضافہ ممکن ہوگا۔ معاہدے میں ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ، تربیتی پروگراموں کا انعقاد، معیاری عملی طریقہ کار کی تیاری، نگرانی اور جائزہ کے فریم ورک اور ڈیجیٹل اقدامات شامل ہیں۔ تقریب میں پرو وائس چانسلر جامعہ بلوچستان پروفیسر ڈاکٹر غلام رزاق شاہوانی، ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ مجیب الرحمٰن قمبرانی، ڈائریکٹر گورنمنٹ انوویشن لیب ڈاکٹر وحید نور اور سیکریٹری لوکل گورنمنٹ عبدالرؤف بلوچ نے معاہدے پر دستخط کیے۔ دیگر شرکاء میں ڈاکٹر ثناءاللہ، غلام فاروق بادینی اور چیف میٹروپولیٹن آفیسر نذر زہری بھی شامل تھے۔ شرکاء نے اس مع

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دانش سکول کو توسیع کرنے کا منصوبہ

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دانش سکول کو توسیع کرنے کا منصوبہ

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دانش سکول کو توسیع کرنے کا منصوبہ: رپورٹر : عروبہ شہزاد دانش سکولز کے دائرہ کار کو بڑا کرنے کے لیے بلوچستان اور آذاد جموں کشمیر کے علاقوں تک وسعت دی جا رہی ہے۔کچھ ماہ پہلے اس منصوبہ کے تحت بلوچستان کے باقی اضلاع میں چھے نئے کیمپسز کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ کیمپسز قلعہ سیف اللہ، سبی، ڈیرہ بگٹی، موسیٰ خیل اور ژوب جیسے اضلاع میں قائم کیے جائیں گے، جبکہ ایک کیمپس تربت میں بھی بنایا جائے گا۔جس کی کل لاگت 19.25 بلین ہے۔ ان تعلیمی اداروں کا مقصد پسماندہ اور کم وسائل رکھنے والے بچوں کو مفت، معیاری اور رہائشی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ منصوبے کی مالی معاونت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مشترکہ اشتراک سے کی جائے گی، جبکہ تربت میں قائم ہونے والا دانش اسکول آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کے تعاون سے بنایا جائے گا۔تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ اقدام پنجاب میں کامیابی سے چلنے والے دانش اسکول ماڈل کو بلوچستان میں متعارف کرانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے صوبے میں تعلیمی سہولیات میں بہتری اور محروم طبقات کو معیاری تعلیم تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔ دانش اسکول مفت اور اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کرنے والا پاکستان کا سب سے بڑا تعلیمی منصوبہ سمجھا جاتا ہے، جس کا بنیادی مقصد ملک میں تعلیم کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت طلبا و طالبات کو نہ صرف معیاری تعلیمی ماحول فراہم کیا جاتا ہے بلکہ انہیں مفت انٹرنیٹ، جدید کمپیوٹر لیبز، کھیلوں کی سہولیات، کردار سازی اور شخصیت سازی کے پروگرامز، رہائشی ہوسٹلز، صحت کی سہولیات، درسی کتابیں، یونیفارم، آئی ٹی سہولیات اور جدید سائنسی لیبارٹریز بھی مہیا کی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے طلبا و طالبات کو نہ صرف بہتر اور معیاری تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا بلکہ انہیں ایک محفوظ، منظم اور جدید تعلیمی ماحول میسر آئے گا، جو ان کی گرومنگ ،ذہنی، جسمانی اور اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ منصوبہ صوبے کے پسماندہ علاقوں کے بچوں کو بااختیار بنانے، تعلیم کی ناہمواری کو کم کرنے اور انہیں روشن مستقبل کی جانب گامزن کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔