پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے تحت وزیراعظم یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم فیز فور کا سلسلہ جاری ہے، جس کے تحت بلوچستان کے اٹھارہ ہزار سے زائد طلبہ کو لیپ ٹاپ فراہم کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کا مقصد نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، آن لائن تعلیم اور تحقیقی سہولیات تک رسائی دینا ہے تاکہ وہ تعلیمی میدان میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ طلبہ اور تعلیمی حلقوں نے اس اقدام کو نوجوانوں کے روشن مستقبل کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔
بلوچستان کے طلبہ نے پہلی بار بین الاقوامی کینگرو ریاضی مقابلے میں شرکت کی، جس میں 12 اضلاع سے 150 پرائمری سطح کے طلبہ نے گورنمنٹ اسکولز اور اے ایل پی مراکز کی نمائندگی کی۔ یہ اقدام مقامی طلبہ کو عالمی تعلیمی پلیٹ فارمز سے جوڑنے اور ان کی تجزیاتی و تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے میٹرک سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا اعلان کردیا۔ نویں جماعت میں کامیابی کا تناسب 73.56 فیصد جبکہ دسویں جماعت میں 89.32 فیصد رہا۔ بلوچستان ریذیڈینشل کالج لورالائی کے طالب علم احمد نے 1051 نمبر حاصل کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ مطیع اللہ دوسرے اور یونس خان و محمد مدثر مشترکہ طور پر تیسرے نمبر پر رہے۔ نتائج کے اعلان کے بعد طلبہ اور والدین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
بلوچستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں علم کی روشنی پھیلانے کے لیے ایک منفرد اور مؤثر اقدام کے تحت "بک وین" اور "سائنس رائیڈ" منصوبے کامیابی کے ساتھ جاری ہیں، جو دیہات میں بچوں تک گھر گھر تعلیم پہنچا رہے ہیں۔
حکومتِ بلوچستان کی تعلیمی اصلاحات کے تحت ضلع گوادر کے تمام 313 سرکاری اسکول مکمل طور پر فعال کر دیے گئے ہیں۔ فیز فور اصلاحات پروگرام کے نتیجے میں نان فنکشنل اسکولوں کی بحالی اور اساتذہ کی بھرتی مکمل ہوئی، جس سے داخلوں میں اضافے اور تعلیمی معیار میں بہتری کی توقع ہے۔ ضلع گوادر فیز فور کے تحت تمام تعلیمی ادارے فعال کرنے والا بلوچستان کا پہلا ضلع بن گیا
گوادر یونیورسٹی میں تین روزہ دوسرا بزنس اور کلچرل گالا شاندار انداز میں شروع ہوا، جو 2 فروری سے 4 فروری تک جاری رہے گا۔ اس گالا کا مقصد طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنا، کاروباری مواقع کو اجاگر کرنا اور بلوچستان کی ثقافت کو فروغ دینا ہے۔ پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو عملی زندگی اور کاروباری دنیا سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ وہ مستقبل میں ملازمت کے متلاشی نہیں بلکہ خود روزگار پیدا کرنے والے بن سکیں۔
افتتاحی تقریب کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر نے کی۔ تقریب میں مہمان خصوصی ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ کے ساتھ ساتھ مقامی علمی و سماجی شخصیات بھی موجود تھیں۔ وائس چانسلر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام طلباء کی تعلیمی اور عملی ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں اور یہ یونیورسٹی کی کوشش ہے کہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو معاشرتی اور اقتصادی ترقی میں بدل سکیں۔مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے نوجوانوں کو ترغیب دی کہ وہ تعلیم کے ساتھ کاروبار اور نئے منصوبوں پر بھی توجہ دیں، کیونکہ نوجوان ہی ملک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عملی تجربات کے مواقع نوجوانوں کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں اور گوادر اور بلوچستان کے لیے نئی کامیابیاں ممکن بناتے ہیں۔ تقریب میں پرو وائس چانسلر، رجسٹرار، کنٹرولر امتحانات، ڈینز اور دیگر اہم انتظامی عہدے دار بھی موجود تھے۔ مقررین نے کہا کہ یہ گالا نوجوانوں کو کاروبار، ثقافت اور جدت کے شعبوں میں عملی تجربہ فراہم کرنے کا بہترین موقع ہے، جو گوادر کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں مددگار ثابت ہوگا۔اختتامی سلسلے میں مہمانوں کو یادگاری شیلڈز بھی دی گئیں۔ گالا کے اگلے دو دنوں میں کاروباری نمائشیں، طلباء کے اسٹارٹ اپس، ثقافتی پروگرام اور پینل مباحثے منعقد ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد خان بگٹی کے وژن اور نوجوانوں سے دوستانہ پالیسی کے تحت، محکمہ امورِ نوجوانان حکومت بلوچستان کے زیرِ اہتمام، بلوچستان یوتھ سوشو اکنامک ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت ایک روزہ تربیتی سیشن کامیابی کے ساتھ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول جنہ تربت میں منعقد کیا گیا۔
اس سیشن میں محترمہ مس مہجبین فقیر محمد نے بطور ٹرینر نوجوان طالبات کو شہری تعلیم (Civic Education) سے متعلق آگاہی اور ذمہ داری کے شعور کی تعلیم دی۔ اس تربیتی سرگرمی میں 136 سے زائد طالبات نے حصہ لیا اور فعال طور پر حصہ لے کر پروگرام کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کیا۔یہ پروگرام بلوچستان کے دیگر دور دراز علاقوں میں بھی جاری ہے جو حکومت بلوچستان اور وزیر اعلی بلوچستان کی نوجوان دوست پالیسی کے مثبت اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت اب تک 11 ہزار سے زائد نوجوانوں کو تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ جس کا مقصد نوجوانوں میں آئینی شعور، سماجی اقدار اور ذمہ داری کے احساس کو فروغ دینا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یونیورسٹی آف گوادر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے طلبہ و اساتذہ سے خصوصی انٹرایکٹو سیشن میں گفتگو کی۔ سیشن میں معلوماتی جنگ، سوشل میڈیا کے کردار اور ذمہ دارانہ معلومات کے استعمال پر آگاہی دی گئی۔ شرکاء نے سیشن کو نوجوانوں کے لیے نہایت مفید اور بروقت قرار
ضلع نصیرآباد میں مڈل کے سالانہ امتحانات 6 فروری سے شیڈول کے مطابق شروع ہوں گے۔ امتحانات کے شفاف اور پُرامن انعقاد کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعلیم اور پولیس کے اشتراک سے سخت سیکیورٹی اور نگرانی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ 27 امتحانی مراکز پر پولیس اہلکار تعینات ہوں گے جبکہ نقل کے خاتمے اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔
گوادر میں آر سی ڈی کونسل اور محکمۂ کلچر کے زیرِ اہتمام دسویں کتب میلہ کا آغاز ہوا، جسے نامور بلوچی ادیب و محقق سید ظہور شاہ ہاشمی کے نام سے منسوب کیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں علمی، ادبی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی اور کتاب و علم کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ میلے میں مختلف سیشنز، کتابوں کی رونمائی، تھیٹر پیشکش اور فلموں کی نمائش کے ساتھ 56 اسٹالز قائم کیے گئے، جو علمی و ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بنے ہوئے
کوئٹہ میں نان فنکشنل اسکولوں کو فعال بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر مہراللّٰہ بادینی کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مرحلہ وار بحالی، کم طلبہ والے اسکولوں کی منتقلی اور نئی عمارتوں کی تعمیر پر غور کیا گیا۔
جامعہ بلوچستان کے پروفیسر ڈاکٹر آصف سجاد کی جانب سے تیار کردہ جدید شمسی کشیدگی یونٹ کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ہے۔ یہ منصوبہ صاف پانی کی کمی جیسے اہم مسئلے کے حل کے لیے ایک مؤثر، پائیدار اور ماحول دوست ٹیکنالوجی پیش کرتا ہے، جو بلوچستان سمیت دیگر پسماندہ علاقوں کے لیے مثبت اور دیرپا تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔
حکومتِ بلوچستان نے صوبے بھر میں قومی تعلیمی نصاب 2022 کو سال 2026 سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گریڈ 1 سے 9 تک کی درسی کتابوں کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیا گیا ہے، جن میں کلائمٹ چینج، ماحولیات، صحت اور سوشل میڈیا آگاہی جیسے موضوعات شامل ہیں۔ نئی کتابوں کی طباعت اور بہتر معیار کے ساتھ بروقت فراہمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں آرٹیفشل انٹیلیجنس کو بھی نصاب کا حصہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
محکمہ تعلیم بلوچستان نے شدید سردی اور متوقع بارشوں کے باعث سمر زون اضلاع میں جماعت ہشتم کے امتحانات ملتوی کر دیے ہیں۔ ملتوی شدہ امتحانات اب 6 فروری 2026ء سے نئے شیڈول کے تحت منعقد کیے جائیں گے، جس کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ فیصلہ طلبہ کی حفاظت اور سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
کوئٹہ: ہزارہ ٹاؤن کی گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کی ہزارہ طالبات نے ایک اور نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے قوم اور صوبہ بلوچستان کا نام روشن کر دیا۔ طالبات نے انٹرپرائز چیلنج پاکستان 2025–2026 میں رنر اَپ پوزیشن حاصل کر کے قومی ایوارڈ اپنے نام کیا۔اس مقابلے میں طالبات نے بلوچستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنا کاروباری آئیڈیا برطانوی ہائی کمشنر جین میریئٹ، سیکریٹری تعلیم سندھ، فاطمہ فرٹیلائزر اور کوثر اف کے مالکان، اور کنگز ٹرسٹ انٹرنیشنل کے چیئرمین کے سامنے پیش کیا، جسے بے حد سراہا گیا۔ تعلیمی و سماجی حلقوں نے اس کامیابی کو طالبات کی محنت، لگن اور صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت قرار دیتے ہوئے اسے بلوچستان میں معیاری تعلیم اور باصلاحیت نوجوانوں کے روشن مستقبل کی علامت قرار دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی یوم تعلیم کے موقع پر عوام سے وعدہ کیا کہ بلوچستان کے تمام بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی، کوئی اسکول بند نہیں رہے گا، اور وسائل کی کمی کے باوجود ہر قابل طالب علم اعلیٰ تعلیم حاصل کرے گا۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں نان فنکشنل اسکولوں، اساتذہ کی تعیناتیوں، حاضری، تنخواہوں اور تعلیمی نظام کی بہتری سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں نان فنکشنل اسکولوں کو فنکشنل بنانے اور ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن بلوچستان نے وزیرِ تعلیم راحیلہ احمد خان درانی اور سیکرٹری تعلیم اسفند یار کاکڑ کی ہدایات اور یورپی یونین کے تعاون سے صوبے کے 14 اضلاع کے سرکاری ہائی اسکولوں میں 130 ووکیشنل اسکلز سینٹرز قائم کیے ہیں۔ ان مراکز میں آئی ٹی، سولر اور الیکٹریشن سمیت جدید تکنیکی تربیت فراہم کی جا رہی ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر روزگار اور کاروباری مواقع فراہم کرنا اور صوبے میں تکنیکی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد خان بگٹی کی نوجوان دوست پالیسیوں کے تحت نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے منعقد کیا گیا چھ روزہ پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ اس تربیتی پروگرام میں صوبے بھر سے 38 سے زائد طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ یہ پروگرام مشیر وزیراعلیٰ برائے کھیل و امورِ نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ کی سرپرستی میں محکمہ امورِ نوجوانان حکومت بلوچستان کے زیر اہتمام بلوچستان یوتھ سوشیو اکنامک ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت منعقد کیا گیا، جس کا مقصد نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق عملی اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کرنا تھا۔ چھ روزہ تربیت کے دوران نوجوانوں کو کمیونیکیشن اسکلز، انٹرپرسنل اسکلز، انٹرپرینیورشپ، لیڈرشپ اینڈ مینجمنٹ، کیریئر کاؤنسلنگ، سی وی رائٹنگ اور انٹرویو اسکلز جیسے اہم موضوعات پر تربیت دی گئی۔ مختلف سیشنز معروف اور تجربہ کار ٹرینرز نے لیے، جن میں کمیونیکیشن اسکلز پر سید شاہ محمد، انٹرپرسنل اسکلز پر عبدالوسے، انٹرپرینیورشپ پر وسیم صادق، لیڈرشپ اینڈ مینجمنٹ پر قدرت اللہ، کیریئر کاؤنسلنگ و سی وی رائٹنگ پر ملائکہ اعظم جبکہ انٹرویو اور موک انٹرویو سیشنز رائمہ بشیر نے منعقد کیے۔ تربیتی پروگرام کے دوران مختلف عملی سرگرمیاں بھی شامل رہیں، جن میں شرکاء نے بھرپور دلچسپی اور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ پروگرام کے اختتام پر منعقدہ تقریب میں شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر نوجوانوں نے پروگرام کو انتہائی مفید اور معلوماتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تربیتی اقدامات ان کے اعتماد، مہارتوں اور مستقبل کے روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔ شرکاء نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد خان بگٹی اور مشیر وزیراعلیٰ محترمہ مینا مجید بلوچ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان نوجوانوں کی تعلیم، تربیت اور روزگار کے لیے سنجیدہ اور قابلِ تحسین اقدامات کر رہی ہے۔ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ ایسے پروگرام نہ صرف نوجوانوں کو بااختیار بناتے ہیں بلکہ صوبے کی مجموعی سماجی و معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے لسبیلہ یونیورسٹی کے پانچویں کانووکیشن میں 45 گولڈ میڈلسٹس کیلئے ایک ایک لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا۔ تقریب میں چار سو سے زائد گریجویٹس، ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالرز کو اسناد دی گئیں۔ گورنر نے اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کو قومی ترقی میں کردار ادا کرنے پر زور دیا۔