اکیسویں جھل مگسی ڈیزرٹ چیلنج جیپ ریلی 2025 کامیابی سے مکمل ہو گئی، جس میں نوابزادہ جعفر خان مگسی نے ٹاپ پوزیشن حاصل کی۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے تمام ریسرز کے لیے ایک کروڑ روپے نقد انعام کا اعلان کیا جبکہ مختلف کیٹیگریز میں کامیاب ریسرز کو انعامات دیے گئے۔
ایم ای آر سی 1122 بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق 12 دسمبر 2025 کو صوبے کی مختلف قومی و صوبائی شاہراہوں پر 54 ٹریفک حادثات پیش آئے۔ ان حادثات میں 77 افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک شخص جاں بحق ہوا۔ بروقت ریسپانس کے باعث متعدد قیمتی جانیں بچا لی گئیں۔
ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختار نے ایف آئی اے زونل آفس بلوچستان کا دورہ کیا، جہاں انتظامی و تفتیشی امور کا جائزہ لیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں سال حوالہ ہنڈی، غیر قانونی کرنسی ایکسچینج، انسانی سمگلنگ اور بجلی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف بڑی کارروائیاں کی گئیں۔ ڈی جی ایف آئی اے نے کارکردگی کو سراہتے ہوئے مؤثر کریک ڈاؤن جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
بلوچستان کی نوجوان سماجی کارکن اور صحافی ماہ نور شاہ بلوچ نے خواتین کے حقوق، تعلیم اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات پر کراچی میں منعقدہ تقریب میں انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ویمن ایوارڈ 2025 حاصل کیا۔ ان کی اس کامیابی کو بلوچستان اور پورے ملک میں بے حد سراہا جا رہا ہے۔
سابق صوبائی وزیرِ خزانہ ظہور بلیدی کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے برازیلین کوآپریشن ایجنسی کی سربراہ مسز اینڈریا ریگویرا سے ملاقات کی، جہاں دو ہفتوں کے نالج ایکسچینج مشن کے نتائج، مستقبل کے تعاون اور بلوچستان کی ترقی کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر تفصیلی گفتگو کی گئی
گوادر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد سرکاری دورے پر چین کے شہر ژوہائی پہنچا جہاں گولان پورٹ کا دورہ کیا گیا۔ وفد کو پورٹ کے جدید نظام، سہولیات اور اقتصادی کردار پر بریفنگ دی گئی۔ ٹیم لیڈر ظریف بلوچ نے کہا کہ دورے کا مقصد گوادر پورٹ کی بہتری کے لیے چینی ماڈلز کا مطالعہ کرنا ہے۔ وفد بیجنگ نارمل یونیورسٹی اور چینی دفترِ خارجہ میں ملاقاتوں کے بعد آج شینزن کے صنعتی ماڈلز کا بھی جائزہ لے گا۔
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے صوبے کے مختلف شہروں کے لیے 12 نئی گرین بسوں کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ منصوبے کی کل لاگت 500 ملین روپے ہے جبکہ ٹینڈر اور ورک آرڈر بھی مکمل کرلیا گیا ہے۔ گوادر، سوئی، خضدار، پشین اور کوئٹہ کے لیے بسوں کی تعداد مختص کر دی گئی ہے، جن میں کوئٹہ کیلئے 2 الیکٹرک بسیں بھی شامل ہیں۔
کوئٹہ میں بلوچستان تھنک ٹینک نیٹ ورک (BTTN) نے CISSS کے تعاون سے اپنی نئی جامع کتاب ’’آریانہ سے بلوچستان، وقت کے سفر کی داستان‘‘ کی رونمائی کی۔ کتاب میں بلوچستان کی تاریخ، جغرافیہ، سیکیورٹی چیلنجز، جیو پولیٹکس، معیشت اور ثقافتی تنوع پر تحقیق پر مبنی تفصیلی معلومات شامل ہیں۔ یہ کتاب بلوچستان کے بارے میں ہمہ جہتی فہم حاصل کرنے کے خواہشمند قارئین کے لیے ایک مستند حوالہ قرار دی جا رہی ہے۔
کوئٹہ کی بیوٹمز یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ماؤنٹین ڈے کے موقع پر جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق تقریب منعقد ہوئی جس میں ماہرین نے پہاڑوں، جنگلات اور حیاتیاتی تنوع کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے جنگلات کی کٹائی، آلودگی اور غیر قانونی شکار کو بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے سلیمان مارخور، ڈیزرٹ اپالو تتلی اور دیگر نایاب انواع کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ آخر میں بلوچستان کے قدرتی حسن اور سیاحتی مقامات کو اجاگر کرتے ہوئے مقامی آبادی کی شمولیت کو ناگزیر قرار دیا گیا۔
قومی احتساب بیورو بلوچستان میں انسدادِ بدعنوانی کے عالمی دن کی مناسبت سے نوجوانوں کے ساتھ روشن مستقبل کی تعمیر کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قمبر دشتی، سیکرٹری ویرندر لعل، طلبہ، اساتذہ اور نیب افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ڈی جی نیب بلوچستان نعمان اسلم نے کرپشن کے خاتمے اور عوامی آگاہی کے عزم پر زور دیا، جبکہ مختلف مقابلوں کے فاتحین کو تعریفی اسناد بھی پیش کی گئیں۔ آخر میں واک کا انعقاد بھی ہوا۔
کوئٹہ : ہائی کورٹ آف بلوچستان نے سرمائی تعطیلات کے شیڈول میں تبدیلی کرتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ عدالت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پرنسپل سیٹ کوئٹہ میں سرمائی تعطیلات 22 دسمبر 2025 سے 21 فروری 2026 تک جاری رہیں گی، جبکہ عدالت 23 فروری 2026 کو معمول کے مطابق کام شروع کرے گی۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تعطیلات کے دوران نامزد تعطیلاتی جج صاحبان ہنگامی مقدمات، فوری درخواستوں اور دیگر ضروری معاملات کی سماعت کریں گے۔ اتوار اور سرکاری تعطیلات کے سوا روزانہ کی بنیاد پر دائر ہونے والی urgent نوعیت کی درخواستیں وصول کی جائیں گی۔
بلوچستان میں یورپی یونین کی فنڈنگ سے سیلاب متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور لائیوسٹاک سیکٹر کو مضبوط بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ جاری ہے، جو PPAF اور BRSP کے تعاون سے چھ اضلاع کی 120 یونین کونسلوں میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کا مقصد زرعی و مالداری کے شعبے میں پائیدار ترقی، ویلیو چین کی بہتری اور کمیونٹیز کی لچک بڑھانا ہے۔
دبئی کے جولِتھ کیفے نے دنیا کی سب سے مہنگی کافی متعارف کر دی ہے جس کی قیمت تقریباً ایک ہزار ڈالر (3,600 درہم) فی کپ ہے۔ یہ خاص کافی پاناما کے اعلیٰ معیار کے ’نیدو 7 گیشا‘ بینز سے تیار کی جاتی ہے، جنہیں کیفے نے ایک سخت مقابلے والی نیلامی کے دوران تقریباً 22 لاکھ درہم میں خریدا۔ کیفے کے شریک بانی سرکان ساگسوز کا کہنا ہے کہ دبئی جیسے پرتعیش طرزِ زندگی والے شہر میں اس مہنگی کافی کی بہت مانگ ہے۔ کافی کو پھولوں، پھلوں اور چائے جیسی خوشبو کے منفرد امتزاج کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے، جس میں چنبیلی، نارنجی، برگاموٹ، خوبانی اور آڑو جیسے ذائقے شامل ہیں۔ دبئی نے گزشتہ ماہ ہی 2,500 درہم کے کپ کے ساتھ گنیز ورلڈ ریکارڈ بنایا تھا، مگر اب نیا ریکارڈ اس سے بھی بڑھ گیا ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ ایسی مہنگی اشیا دبئی کے لگژری لائف اسٹائل کا حصہ ہیں۔ کیفے کے مطابق یہ قیمتی کافی محدود مقدار میں پیش کی جارہی ہے، جبکہ اس کا ایک چھوٹا حصہ دبئی کے شاہی خاندان کے لیے مخصوص رکھا گیا ہے۔
کوئٹہ میں خواتین کے لیے پہلی پنک بس سروس کا آغاز کر دیا گیا ہے جس میں ڈرائیور اور عملہ بھی مکمل خواتین پر مشتمل ہوگا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے 5 پنک اور 15 نئی گرین بسوں کا افتتاح کیا۔ خواتین نے اس اقدام کو محفوظ، باوقار اور سہل سفری سہولت قرار دیا۔ منصوبے کے تحت جلد پشین، مستونگ اور تربت میں بھی گرین بس سروس شروع کی جائے گی۔
وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے حلقہ PB-39 ہنہ اُڑک میں نئی بلیک ٹاپ سڑک کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں صوبائی وزراء، حکومتی نمائندے اور سینئر صحافی شریک ہوئے۔ وزیرِ اعلیٰ نے علاقے میں مزید ترقیاتی منصوبوں کے آغاز کا اعلان کیا جبکہ عوام نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سپنی روڈ پر نئے ٹراما سینٹر کا جائزہ لیا جہاں انہیں تعمیراتی پیش رفت، جدید طبی سہولیات اور افتتاح کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔ وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے منصوبے کو عوامی فلاح کا اہم قدم قرار دیتے ہوئے اسے جلد فعال کرنے کی ہدایت کی۔
کوئٹہ میں عالمی یوم انسداد بدعنوانی کے موقع پر سیمینار میں پارلیمانی سیکرٹری عبدالمجید بادینی نے بدعنوانی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ احتسابی عمل اور ہر شہری کا کردار بدعنوانی ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ محکمے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خاتمے سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مائنز اونرز ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کی اور کان کنی کے شعبے کو صنعت کا درجہ دینے کے فیصلے کو سراہا۔ اس اقدام سے صوبے کی معیشت مضبوط ہوگی، روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔
گوادر ڈے کے موقع پر پاک بحریہ کے زیر اہتمام مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ عوام اور طلباء کے لیے جنگی جہاز کھولے گئے اور سمندر میں آپریشنل ڈیمو پیش کیا گیا۔ 8 دسمبر 1958ء کو گوادر کا پاکستان میں باضابطہ الحاق ہوا تھا، جسے یاد کیا گیا۔
اسلام آباد میں موسمیاتی لچک سے متعلق تقریب میں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی صوبے کے لیے دہشت گردی سے بھی بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ حکومت ٹرانسپورٹ، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں اصلاحات کے ساتھ کلائمیٹ فنڈ، الیکٹرانک بس سروس اور پانی کے مؤثر استعمال جیسے اقدامات پر کام کر رہی ہے۔ تقریب میں وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر رومینہ خورشید عالم نے بھی کہا کہ بلوچستان کی ماحولیاتی لچک پاکستان کی معیشت کے لیے ضروری ہے، اسی لیے وفاق اور صوبہ مل کر جامع حکمت عملی بنا رہے ہیں۔